24 دی العرب، 3 نومبر 1995
Al-Risala, November 1995, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسطینی سمیت پوری مسلم دنیا ستمبر ۱۹۹۳ سے پہلے فلسطین سے اسرائیلی حکومت ختم کرنے سے کم کسی بات کو سننے پر راضی نہ تھی۔ مگر آج اس کے محدود ٹکڑے پر وہ خوش آمدید کے الفاظ رقم کر رہے ہیں۔ شعوری فیصلہ کے تحت وہ حقیقت پسندی کو اختیار نہ کرسکے۔ مگر حالات کے دباؤ نے انھیں حقیقت پسندی کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
یہی ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال ہے۔ فیصلہ صرف وہ ہے جو شعور اور ارادہ کے تحت ظہور میں آیا ہو۔ دباؤ کے تحت کیا جانے والا فیصلہ کوئی فیصلہ نہیں۔ اور نہ ایسے فیصلہ کا کوئی دور رس نتیجہ کبھی برآمد ہو سکتا ہے۔
۲۴ ستمبر کو دو بجے لندن پہنچا۔ جہاز سے اتر کر ائیر پورٹ پر چلتے ہوئے ایک جگہ تین دروازے بنے ہوئے تھے۔ دو دروازوں پر لکھا ہوا تھا :
European Community Nationals اور ایک کنارے کے دروازہ پر یہ الفاظ تھے :