All other passports
Al-Risala, November 1995, pp. 35–37
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صرف گزر گاہ کے لئے تھا۔ انتظامی ضرورت کے تحت ایسی تقسیم میں کوئی حرج نہیں مگر مجرد گزر گاہ کے لئے یہ تقسیم racism کی طرف لے جاتی ہے۔
جس فلائٹ سے ہمیں لندن پہنچنا تھا چوں کہ وہ میلان میں چھوٹ گئی اور ہم دوسرے جہاز سے لندن پہنچے۔ اس لئے لندن ائیر پورٹ پر جو لوگ ہماری رہنمائی کے لئے آئے تھے وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے ۔ اب ہمارے سامنے سوال یہ تھا کہ ان سے کس طرح ربط قائم کیا جائے ہم نے برمنگھم میں جناب شمشاد خاں صاحب کو خبر دی کہ ہم لندن ائیر پورٹ پر ہیں۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ لندن کے ساتھیوں نے بھی شمشاد خاں صاحب سے برائے معلومات ربط قائم کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لندن ائیر پورٹ پر پہنچ چکے ہیں۔ چنانچہ وہ دوبارہ ائیر پورٹ پر آئے اور آگے کے لئے ہماری رہنمائی کیوں کہ ہمیں بذریعہ ٹرین وگن پہنچنا تھا۔
۲۳ ستمبر کی دوپہر کو ہم برٹش ریلوے اسٹیشن ایوسٹن (Euston) پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ٹرین جلد ہی آنے والی تھی جس کے ذریعہ ہمیں وگن جانا تھا۔ اتنے میں پولیس کی وردی میں کئی
آدمی ظاہر ہوئے۔ انہوں نے بلند آواز سے نا شروع کیا۔ آپ لوگ اسٹیشن چھوڑ دیں۔ تمام لوگ اپنا سامان لے کر باہر آگئے۔ پولیس والے مزید ان کو دور جانے کی ہدایت کرتے رہے۔ آخر کار دور کے ایک فاصلہ پر سب لوگ جمع ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ کسی نے ٹیلیفون پر بم کی اطلاع کر دی۔ کچھ دیر کے بعد پولیس والوں نے ہری جھنڈی دکھائی اور تمام لوگ دوبارہ اسٹیشن کے اندر آگئے۔ درمیان میں ہماری پہلی گاڑی چھوٹ چکی تھی۔
اکثر افواہیں غلط ہوتی ہیں۔ یہ بار بار کا تجربہ ہے۔ اس کے باوجود ہر افواہ پر لوگ دوڑ پڑتے ہر افواہ کو صحیح گمان کر لیتے ہیں۔
میں اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک روشن بورڈ پر نظر پڑی۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ کیا آپ کا مقصد بزنس میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ اس وقت آپ اپنے نشانہ سے صرف دو سو میل کے فاصلہ پر ہیں:
Aiming for business success? Right now you're about 200 miles off target. وگن میں میرا قیام ایک عرب نوجوان کے مکان پر تھا۔ یہ مکان انھوں نے ایک ہفتہ کے لئے خالی کر دیا تھا۔ یہاں نصف درجن نوجوان جمع تھے۔ ان کے ساتھ دن اور رات کو مجلس کی صورت میں گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ گفتگو کی صورت یہ تھی کہ میں اپنی بات عربی میں کہنا تھا جس کو وہ لوگ بیک وقت ٹیپ ریکارڈر پر ٹنیپ کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی کاغذ پر لکھتے جاتے تھے۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد میں ان کی لکھی ہوئی تحریر کو سنتا تھا۔ اگر اس میں کوئی تعبیری فرق ہوتا تو اس کو درست کر دیتا۔ اس طرح یہ سلسلہ ۲۳ ستمبر کی شام سے آخر وقت تک مسلسل جاری رہا۔
اس درمیان بہت سی دینی و ملی و تاریخی باتیں زیر بحث آئیں۔ کثیر تعداد میں سوالات ہوئے جن کا جواب میں دیتا رہا۔ خود میرے پاس تو اس کا ریکارڈ موجود نہیں مگر ان عرب نوجوانوں کے پاس تمام چیزوں کا مکمل ریکارڈ ٹیپ یا تحریر کی صورت میں موجود ہے۔ ان کو دوبارہ مرتب کر کے دوسرے عرب نوجوانوں تک پہنچائیں گے۔ ان ملاقاتوں میں میری خاص کوشش یہ رہی کہ دورِ جدید کے اعتبار سے اسلام کو واضح کروں اور لوگوں کو یہ بتاؤں کہ اسلام
کا اصل اقدا می عمل دعوت ہے۔
وگن (Wigan) برطانیہ کا ایک شہر ہے جو گریٹر مانچسٹر میں شامل ہے۔ وہ دریائے ڈگلس کے کنارے واقع ہے۔ وہ رومن عہد میں ۱۱۰۰ میں بنایا گیا۔ اٹھارویں صدی میں صنعتی دور کا آغاز ہوا تو اس کے بعد وگن کو کافی ترقی ہوئی۔ یہاں کوئلہ اور کپاس اور لوہے کی صنعتیں قائم ہوئیں۔ مغرب کا فیملی اسٹرکچر ہندوستان کے فیملی اسٹرکچر سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کا بچہ ”ہم“ کی اصطلاح میں سوچتا ہے ، جب کہ مغرب کا بچہ ”میں“ کو جانتا ہے۔ بچہ کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میں ہی سب کچھ ہوں: