'I' am the only one who matters.
Al-Risala, November 1995, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
مغرب کا پورا ماحول اسی آزادانہ انفرادیت کا مبلغ ہے۔ آزادی یا انفرادیت بذات خود غلط نہیں، مگر ہر چیز اپنی حد سے تجاوز کرنے کے بعد غلط ہو جاتی ہے۔ اور مغرب اس معاملہ میں آخری حد سے بھی زیادہ تجاوز کر چکا ہے۔ بظاہر حالات مستقبل قریب میں اس کی واپسی کا امکان نہیں۔ مغربی ملکوں میں جو مسلمان آباد ہیں ان کی تعداد تقریباً ۱۰ ملین ہے۔ ان میں سے نصف تعداد یورپ میں ہے اور نصف تعداد شمالی امریکہ میں۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ کے اکابر نے اس نام پر قربانی دی کہ مغرب ہمارا دشمن ہے۔ اس کو مسلم ملکوں سے نکالنا مگر بے شمار قربانی کے بعد جب ان مغربی قوموں کا سیاسی اخراج ہو گیا تو ان اکابر کی اگلی نسل خود ہی دوڑ کر اہل مغرب کے ملکوں میں جا بسی۔ اب یہ بتائیے کہ آپ کے اکابر غلط تھے یا آپ لوگ غلطی کر رہے ہیں۔ وہ صاحب دونوں ہی کو صحیح ثابت کرتے رہے۔ طرفہ سوچ ہے جو صحیح تفکیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اعتراف صحیح تفکیر کی لازمی شرط ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف کا حوصلہ نہیں، وہ تفکیر صحیح سے بھی یقینی طور پر محروم رہے گا۔ ایک صاحب نے کہا کہ مغرب والوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انہیں ہر چیز میں اول (first in everything) بنے رہنا ہے۔ اس اسپرٹ کو زندہ رکھنے کے لئے انہیں طاقت ور حریف (strong opponent) کی ضرورت ہے۔ پہلے کمیونزم یہ کام کر رہا تھا۔ اب کمیونزم کے خاتمہ کے بعد انھوں نے اسلام کو اپنا حریف بنا لیا ہے۔ اب وہ اسلام کا فرضی یا حقیقی خطرہ بنا کر مذکورہ اسپرٹ
کو اپنے لوگوں میں باقی رکھنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اگر بالفرض ایسا ہو تو یہ وہی ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمان ان سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر اختیار کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان والے ہندوستان کے خطرہ پر اپنے قومی جذبہ کو زندہ کئے ہوئے ہیں۔ عرب دنیا صہیونی خطرہ کو اپنی حیاتِ قومی کی بنیاد بنائے ہوئے ہے۔ ہندوستان کے مسلمان ہند و خطرہ کے نام پر جی رہے ہیں۔ اسی منفی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ سلمان رشدی یا بوسنیا کا مسئلہ ان کو متحد کر سکتا ہے مگر کوئی مثبت چیز انہیں متحد نہیں کرتی: Salmanı Rushdie or Bosnia might bring them together, but not something ۲۴ ستمبر کو لندن میں عربوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کو عرب ممالک بہت بڑے پیمانے پر مالی مدد دے رہے ہیں۔ حالاں کہ ان کے انقلابی نظریات ملوکیت کے سراسر خلاف ہیں۔ پھر یہ ملک کیوں ایسا کرتے ہیں۔ ایک عرب نوجوان نے کہا: لماذا البلاد العربية تدعم هذه الحركات۔ لان البلاد العربية تريد ان تحتوي هذه الحركات لتتجنب خطر هذه الحركات۔
میں نے کہا: گویا کہ یہاں عرب ملکوں اور ان تحریکوں کے درمیان ایک خاموش انڈر سٹینڈنگ ہے تم ہم کو مال دیتے رہو، ہم تم سے ٹکراؤ نہیں کریں گے۔ مغربی یورپ میں نسلی امتیاز کی برائی پہلے سے موجود ہے۔ اب وہ مزید شدت کے ساتھ زندہ ہو رہی ہے۔ خاص طور پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں اس کی لہر زیادہ تیز ہے۔ دور میں ان ملکوں میں بڑی تعداد میں ایشیائی اور افریقی باشندے بطورِ مزدور لے جائے گئے وہ لوگ وہیں آباد ہو گئے اور اب وہ وہاں کے شہری بن چکے ہیں۔ گرنے نسل پرستوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے مہمان کارکن (guest workers) تھے نہ کہ ہمارے ملک کے باقاعدہ شہری۔ اس طرح جو نسلی پالیسی (racist policy) ابھر رہی ہے، اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک نئی سماجی تفریق (social divide) وجود میں آنے والی ہے جو وھائٹ اور غیر وھائٹ کی تقسیم پر مبنی ہو گی۔ اس میں غالباً صرف جاپانیوں کو آنریری وھائٹ (honorary whites) کے طور پر
سلیم کیا جائے گا۔ تاہم یورپ کے سنجیدہ لوگ اس کو خود یورپ کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ بوڑھے پروفیسر نے کہا :
If the Europe of the future deals with the rest of the world on the basis of race, it would make itself ineligible for world leadership. یعنی اگر مستقبل کا یورپ بقیہ دنیا سے نسل کی بنیاد پر معاملہ کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو عالمی قیادت کے لئے نااہل بنالے گا۔ ایک اور بوڑھے یورپین نے کہا کہ یہ چیز یورپ کے لئے اس کے عالمی کردار میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور امریکہ دوبارہ آزادی اور ترقی کا واحد علم بردار بن کر ظاہر ہو سکتا ہے :
It may deprive Europe of its world role. And the United States might again emerge as the real defender of liberty and progress. یہاں تجارتی مقاصد کے لئے نئے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ میں وگن میں اپنی قیام گاہ کی بیرونی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ سامنے کی سڑک پر مسلسل دونوں طرف کاریں دوڑتی ہوئی نظر آ رہی اس درمیان سڑک کے کنارے لگے ہوئے ایک بورڈ پر نظر پڑی ، اس پر لکھا ہوا تھا - ۶۷ پونڈ فی ہفتہ کے ذریعہ اس گھر کو اپنا لو :