Al-Risala · November 1995

Own this house from £ per week.

Al-Risala, November 1995, pp. 39–42

By Maulana Wahiduddin Khan

انڈیا میں اس طرح کا بورڈ میں نے نہیں دیکھا۔ تاہم اگر یہاں ایسا بورڈ لگایا جائے تو شاید اس پر لکھا ہوا ہوگا کہ اس گھر کا کرایہ ۷۶ پاؤنڈ فی ہفتہ ہے۔ مگر یورپ کے لوگوں کی نفسیات اس اسلوب سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ مذکورہ اشتہار اسی کی ایک مثال ہے۔

۲۴ ستمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ چند عرب نوجوانوں کے ساتھ میں مانچسٹر گیا۔ وہاں کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ یہاں کے امام کوئی فلسطینی یا اردنی تھے۔ انھوں نے فلسطین میں دشمنانِ اسلام کے ظلم اور سازش پر انگریزی میں پرجوش تقریر کی۔ دنیا کے جس حصہ میں بھی آپ جائیں وہاں کے مسلمانوں کے مجالس یا اجتماعات کا مشترک موضوع صلیبیوں، صہیونیون وغیرہ کی سازش ہوتا ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ ان نام نہاد سازشوں کا اعلان تو سو سال سے کیا جا رہا ہے۔ مگر اس کا ذرہ برابر

بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پھر اس کو مزید جاری رکھنے کا کیا فائدہ۔

میں نے ایک مجلس میں کہا کہ دوسو سال پہلے مسلمان غلبہ کی حالت میں تھے۔ اس کے بعد ان پر ضعف کا دور آیا۔ اس کے بعد یورپی استعمار نے ان کو مغلوب کر لیا۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ کو فلسطینی لیڈروں کا اسرائیل کا اعتراف کر لینے کے بعد ملت کی تاریخ ذلت کے دور میں داخل اس درمیان میں ہزاروں بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں، سیکڑوں بڑی بڑی مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں مگر نتیجہ معکوس صورت میں نکلا۔ بعد ضعف، اس کے بعد مغلوبیت اور اس کے بعد ذلت، یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں موجودہ پر شور تحریکوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اگر ان کی قیمت ہوتی تو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ انجام نہ ہوتا۔

یہاں کی ایک مسجد میں دیوار پر ایک تختی لگی ہوئی نظر آئی۔ نیچے رحل کی صورت میں پیتل کی دو تلواریں بنی ہوئی تھیں اور اس کے اوپر اللہ لکھا ہوا تھا۔ پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ عرب ممالک میں اس قسم کی تختی عام ہو گئی ہے۔ مسجد، ادارہ، مکان ہر جگہ لوگوں نے اس کو لگا رکھا ہے۔

مجھے اس کو دیکھ کر سخت تکلیف ہوئی۔ میں نے کہا کہ اللہ کے رسول نے تو دعا میں کہا تھا کہ اللھم انت السلام ومنك السلام واليك يرجع السلام۔ مگر یہ مسلمان اس پر راضی نہیں ہوئے۔ اس کو بدل کر انھوں نے اپنی دیواروں پر یہ لکھ دیا کہ ــــ اللھم انت السیف۔ جرم ہے نہ کہ کوئی اسلامی عمل۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق خدا لامحدود ہے۔ کہا کائنات محدود ہے اور محدود کو محدود پیدا نہیں کر سکتا۔ صرف لا محدود ہی محدود کو پیدا کر سکتا و الكون محدود وھذا يدل على ان الخالق لا محدود ۔ فان لم يكن الخالق لا محدود لما استطاع ان يخلق المعدود)

دگن کا ایک علاقائی اخبار نکلتا ہے اس کا نام وگن رپورٹر (Wigan Reporter) ہے۔ اس کے شمارہ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۳ میں جیک وھٹگر (Jack Whittacker) کے نام سے ایک مراسلہ پڑھا۔

کے آخر میں یہ الفاظ درج تھے کہ میں خود سوچتا ہوں اور میں خود اپنی رائے قائم کرتا ہوں ۔ دوسروں کا نقطہ نظر سننے کا خواہشمند رہتا ہوں۔ ممکن ہے کہ میں ان سے اتفاق نہ کروں مگر میں ان کا احترام کرتا ہوں :

I do my own thinking and form my own opinions but always willing to listen to other people’s opinions. I may not agree but I do respect them.

مکہ مدینہ کا فرق بتاتے ہوئے کچھ عرب نوجوانوں سے میں نے ہجرت کے بارے میں کہا : بعد ما نظرت في هذه الحقائق فسوف تقول ان الهجرة لم يكن كفرا، ربل الهجرة كانت الذهاب من اللافرصة الى الفرصة - ایک عرب نوجوان نے ۲۵ ستمبر کی ملاقات میں بتایا کہ وہ اسلامی مرکز کی عربی مطبوعات سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد ایک تقلیدی شخص ان سے جھگڑنے لگا۔ اور کہا کہ وحید الدین خاں کی کتاب مت پڑھو ورنہ تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ آخر کار دونوں میں طے ہوا کہ وہ مانچسٹر کے ایک عالم کے پاس جائیں اور اس سے اس کا فیصلہ لیں۔ چنانچہ دونوں مانچسٹر کے عالم کے پاس گئے۔ عالم نے مذکورہ شخص سے پوچھا کہ وحید الدین خاں کی کتابوں میں آپ نے کیا غلطی پائی ہے۔ اس کے بعد اس شخص نے حکمت الدعوة“ پیش کی اور اس کی ایک غلطی بتائی۔ عالم نے کتاب کا مذکورہ صفحہ پڑھا اور اس شخص نے کہا کہ تم مجھ کو عجمی معلوم ہوتے ہو۔ اس عبارت میں وہ بات موجود ہی نہیں جو تم اس کی طرف منسوب کرتے ہو۔ وہ اسی طرح کی باتیں کرتے رہے۔ آخر میں جب دونوں وہاں سے اٹھے تو مذکورہ عالم نے عرب نوجوان کے کان میں آہستہ سے کہا کہ : لقد أَظْهَر اللهُ لَكَ الحق - یہ واقعہ ۱۰ جون ۱۹۹۳ء کا ہے جو مانچسٹر میں پیش آیا۔ قاہرہ سے ایک مجلہ شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام احداث العالم الاسلامی ہے۔ اس کا شمارہ ۱۹۹۳ میں نے دیکھا جو ۷۰ صفحات پر مشتمل تھا۔ اس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں ۸ صفحات کی رپورٹ تھی۔ اس کو پڑھ کر میں نے کچھ عربوں سے کہا :

اذا ما رأيتم هذه الصفحات عن الهند فسوف تستبطون منها ان الهند هي بلد المشاكل وليست بلد الامكانيات. والهند في الحقيقة، لا غيرها من البلدان، هي بلد الفرص

والامكانيات. وكيف لا تكون كذلك. والله سبحانه وتعالى يقول في القرآن: إِنَّ مع العسر يسراً، إنَّ مع العسر يسراً۔

۲۶ ستمبر کو لیبیا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ کسی ضرورت کے تحت انگلینڈ آئے میں نے پوچھا کہ امریکہ نے لیبیا کے خلاف جو پابندیاں لگائی ہیں ان کے بارہ میں لیبی عوام کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے فورا کہا:

الليبيون نتيجة الظلم السياسي والحرمان الاقتصادي وللتحرر من القيد الداخلی ينتظرون أميركا کی تأتی وتستلم البلاد ۔ فھذا حديث رجل الشارع اليوم ۔ میں نے کہا کہ یہ صرف لیبیا کی بات نہیں ہے بلکہ تقریبا تمام مسلم ملکوں کا معاملہ یہی ہے۔ یہی صورتحال ہے کہ اگر کسی طرح امریکہ ان ملکوں پر قابض ہو جائے تو ہر ملک کے عوام خوش دلی کے ساتھ اس کو قبول کر لیں گے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر مسلم ملک میں جس شخص کو موقع ملتا ہے وہ فوراً پرواز کر کے امریکہ پہنچ جاتا ہے:

هذه حالة كل البلدان الاسلامية ۔ والدليل على هذاهوان كل من تو اتیه الفرصة فانه يستقل اول طائرة لكى يصل الى امريكا ۔

۲۴ ستمبر کی شام کو میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ قریب کے ایک پارک میں ٹہلنے کے لئے ہم لوگ ایک راستہ پر چل رہے تھے۔ اتنے میں دو سفید فام نوجوان ہمارے پاس سے گزرے ۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر ان میں سے ایک شخص نے کہا:

Printed page