Al-Risala · November 1995

Nigger, Nigger, Black

Al-Risala, November 1995, pp. 42–46

By Maulana Wahiduddin Khan

سفید فاموں کی خاص کمزوری نسل پرستی ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر وہ ایشیائی اور افریقی لوگوں کو بلیک (سیاہ) کہتے ہیں۔ مذکورہ جملہ تحقیر اور استہزاء کے طور پر تھا۔ میں نے ایک ہندوستانی مسلمان سے کہا کہ آپ لوگ انگلینڈ میں آکر بسے ہوئے ہیں۔ اور وہ آپ کو بلیک کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب انگریز ایسے نہیں۔ انگریزوں کی اقلیت ایسا کرتی ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں بھی ہندوؤں کی صرف اقلیت مسلم مخالف بات کرتی ہے نہ کہ سارے ہندو ۔ پھر یہی اصول آپ انڈیا میں بھی کیوں اختیار نہیں کرتے۔ جس طرح یہاں

آپ اس طرح کی باتوں کو اقلیت کی بات کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، اسی طرح انڈیا میں بھی اس طرح کی باتوں کو اقلیت کی بات کہہ کر نظر انداز کر دیجئے اور پھر انڈیا آپ کے لئے انگلینڈ بن جائے گا۔

اخوانی مزاج کے بعض عرب نوجوانوں کی مجلس میں میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے فاعرض عمن تولّی ۔ یہ نہیں فرمایا کہ قاتل عمن تولّی یا حارب عمن تولّی اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ اسلامی عمل (Islamic activism) کا بنیادی اصول ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ اعراض ہے۔

اعراض کوئی سادہ چیز نہیں وہ نہایت گہرا عمل ہے۔ اعراض کا طریقہ اختیار کر کے داعی ایک مدعو کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی روش پر مزید غور کرے، دوسری طرف داعی خود اپنے لئے یہ امکان حاصل کرتا ہے کہ اس کو صبر کا انعام دیا جائے جو کہ قرآن اور حدیث کے مطابق، سب سے بڑا اسلامی عمل ہے۔

اسی کے ساتھ اعراض کا طریقہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ جنگ اور ٹکراؤ میں اپنی طاقت کو ضائع نہ کرے بلکہ اپنی پوری طاقت کو اپنی تعمیر اور اپنے استحکام میں لگائے۔ اعراض اگرچہ ابتدائی مرحلہ میں برداشت کی قیمت چاہتا ہے۔ مگر جب اعراض کے ذریعہ زحمت عمل حاصل کرکے کوئی گروہ اپنے کو طاقت ور بنالے تو اس کے بعد اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، اس کے مقاصد کسی جنگ کے بغیر پورے ہوجاتے ہیں۔

ایک مغربی نوجوان نے سوال کیا کہ قرآن میں ہے کہ عورتیں نافرمانی کریں تو ان کو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن عورتوں کے حق میں غیر عادل ہے۔ وہ مرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔

میں نے کہا کہ خود مغربی ذرائع میں چھپی ہوئی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ عورتوں کو مارنے کا عمل سب سے زیادہ مغربی ملکوں میں ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس طرح انسانی سماج کا یہ عمومی ظاہر ہوتا ہے کہ مخصوص اور استثنائی حالات میں عورت کے حق میں

تنبیہی ضرب ضروری ہے، ورنہ خاندان کا نظام چل نہیں سکتا۔

میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اسلام کی عظیم ثبت دین یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم دی کہ عورت کی طرف سے نشوز ( نافرمانی ) کا مظاہرہ ہو تو ابتداً ہر قسم کی پرامن تدبیریں اگر پر امن تدبیروں سے اصلاح نہ ہو تو آخری مرحلہ میں انتہائی استثنائی تدبیر کے طور پر عورت کو مار سکتے ہو۔ مگر یہاں بھی اسلام نے اس کی حد مقرر کر دی ۔ اور وہ یہ کہ بس مسواک یا ٹوتھ برش جیسی چیز سے مارنا۔ یعنی علامتی مار، نہ کہ حقیقی مار۔ آج ستمبر ۱۹۹۳ء کی ، ۲۷ تاریخ ہے۔ مجھ کو دہلی سے نکلے ہوئے دس دن ہو چکے ہیں۔ کی موجودہ حالت اور قیامت کی ہولناکی کو یاد کر کے دل کا عجیب حال ہوا۔ میں نے سوچا کہ حشر کے میدان میں جب لوگ گروہ در گروہ جمع ہوں گے تو کوئی شخص ہو گا جو مسترم دین کے گروہ کا جھنڈا لے کر آئے گا۔ کوئی منافقین کا سردار بن کر چل رہا ہو گا۔ اسی طرح کوئی وہاں منحرفین کا گروہ ہوگا، کوئی مترفین کا گروہ اور کوئی مستغلین کا گروہ ۔ میں نے کہا کہ خدایا، مجھے عاجزین کے ساتھ حشر کے دن میں عاجزین کے گروہ کے پیچھے اس احساس کے ساتھ چل رہا ہوں کہ شاید میرے عجز پر خدا کو رحم آجائے اور وہ مجھے بخش دے۔

اس سفر کے دوران یورپ کے دو ملکوں (اٹلی اور انگلینڈ) کو دیکھنے کا مجھے موقع ملا۔ میرا احساس یہ ہے کہ انگریزوں کی نفسیات برتری کی نفسیات ہے، اور اطالویوں کی نفسیات مقابلہ تواضع کی نفسیات ۔ سچائی کو قبول کرنے کے لئے برتری کی نفسیات ہمیشہ رکاوٹ بنتی ہے اور تواضع کی نفسیات ہمیشہ مددگار ہوتی ہے۔ نو آباد یاتی دور کے خاتمہ کے بعد مسلمان بہت بڑی تعداد میں انگلستان میں آئے کیوں کہ یہاں ان کو مادی نفع کے مواقع زیادہ اگر ان مسلمانوں کی نظر دعوتی مواقع پر ہوتی تو شاید وہ سب سے زیادہ اٹلی کے شہروں میں جاتے۔

ایک مجلس میں ایک صاحب نے قاہرہ کی چھپی ہوئی ایک کتاب دی۔ اس کا نام تھا : تصفية الوجود الاسلامی (عبد الرحمن عبد الوہاب) کھول کر مختلف مقامات پر اسے دیکھا تو کتاب جہاد کے نام پر سیف وقتال کی باتوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ

اسلام کی تاریخ صرف تلواروں نے بنائی ہے، اسلام کی تاریخ صرف جنگ نے بنائی ہے۔ ان تاریخ لم تصنعه الا السيوف، ان تاريخ لم يصنعه الا القتال، صفحہ ۴۶ میں نے کہا کہ بات لغویت کی حد تک غلط ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ کے کچھ واقعات بیان کرنے کے بعد کہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ آرنلڈ اور کیتھ جیسے مسیحی تو یہ کہہ رہے کہ اسلام کی تاریخ اس کی نظریاتی طاقت کے ذریعہ بنی اور مسلم دانشور یہ کہہ رہے کہ اسلام کی تاریخ تلوار کی طاقت نے بنائی ہے۔ یہ سن کر حاضرین میں سے ایک عرب نوجوان نے کہا: فکان المسحيين يعظمون الاسلام والقادة المسلمون يصغرون الاسلام (عادل محمد الریانی) ۲۴ ستمبر کی شام کو ایک عرب نوجوان نے سوال کیا کہ رسول اللہؐ کے بعد، ہمیں دنیا میں انذار و تبشیر والا دعوتی کام نظر نہیں آتا۔ پھر بعد کی غیر مسلم قوموں کا انجام کیا ہوگا۔ اس سلسلہ میں میرے جواب کا خلاصہ یہ تھا: السؤال يرجع الى علماء هذه الامة لان الداعى اذالم يقم بعمله فسوف يكون هو المسئول دون المدعو فسوف تسئل عن علماء الامة الذين عاصروا الامم لم انتم فشلتم وما استطعتم ان تقوموا للشهادة امام الامم لعل الامم سوف توقف يوم القيامة فى قاعة الانتظار و العلماء سوف يجدون انفسهم فى قاعة الاستجواب۔

اٹھارویں صدی میں ہندوستان کے لوگ خاص طور پر مسلمان، انگریزوں کو صرف ظالم اور لٹیرے کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ اس وقت انگریز یہ قوم کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ جہالت کی تاریکی سے نکل کر ایک علم دوست قوم بنے ہوئے تھے۔ آج بھی یہ حال ہے کہ یہاں کے بہت سے لوگ ۸۰ سال کی عمر میں بھی نئی معلومات حاصل کرنے کے شوق میں ایوننگ کلاس میں داخلہ لے لیتے ہیں۔

۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف بغاوت منظم کی گئی۔ عین اسی سال یہاں کی قدیم برٹش لائبریری میں مشہور راؤنڈ ریڈنگ روم (round reading room) بن کر تیار ہوا تھا جس میں ڈکنس، لینن، مارکس، آتھیکر سے، اشا، ہارڈی جیسے نامور لوگوں نے بیٹھ کر مطالعہ کیا۔ برطانیہ کے شہروں میں بے شمار تعداد میں پبلک اور پرائیویٹ لائبریریاں قائم ہیں۔

ٹی وی کے موجودہ دور میں بھی یہاں کتابوں کے مطالعہ کا وسیع ذوق پایا جاتا ہے۔ بہت بڑے پیمانہ پر کتابیں خریدتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ میں میں نے حسب ذیل سطریں پڑھیں کہ ایک کتابی ادارہ نے ایک انوکھا منصوبہ بنایا۔ اس نے اعلان کیا کہ کتاب خرید کر اپنے گھر لے جاؤ۔ دیکھنے کے بعد کتاب پسند نہ آئے تو اس کو لوٹا کر اپنی رقم واپس لے لو۔ یہ اندیشہ بہت مبالغہ آمیز ثابت ہوا کہ ہر آدمی دوبارہ کتاب لے کر اپنی رقم واپس مانگنے آجائے گا:

One chain offered a unique plan. Buy a book, take it home and if you are not happy, get your money back. The fears that every one will come back to claim a refund were exaggerated. وگن میں مجلہ احداث العالم الاسلامی کا شمارہ 1993ء دیکھا۔ یہ مجلہ ۷۰۰ سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے۔ وہ ہر سال چھپتا ہے۔ اس کا پتہ یہ ہے:

دار الاعتصام ، ۸ شارع حسین حجازی، القاہرہ ۱۱۵۱۱۔

اس میں مختلف ملکوں سے متعلق اسلامی خبریں درج تھیں۔ اٹلی کے عنوان کے تحت ایک خبر یہ تھی کہ ایک اطالوی خاتون نے اپنی ریسرچ کے نتائج چھاپے ہیں۔ اس میں بتایا گیا کہ یورپ میں سب سے پہلا عربی قرآن اٹلی کے شہر پادوا میں ۱۵۳۷ء میں چھاپا گیا تھا۔ یہ ۲۳۲ صفحہ پر مشتمل تھا۔ یہ ساڑھے چار سو سال پہلے کی بات ہے۔ چھپنے کے بعد اس قرآن کے نسخے پوپ کے حکم سے جلا دئے گئے تھے۔ تاہم اس قرآن کا ایک نسخہ مذکورہ خاتون کو اطالوی کتب خانہ میں ملا ہے جس کی نشاندہی انھوں نے اپنے مقالہ میں کی ہے۔ مجلہ احداث العالم الاسلامی (۱۳۱۴ھ ، ۱۹۹۳ء) میں ایک باب کشمیر کے بارہ میں تھا اور اس میں کارنامہ جہاد کے طور پر درج تھا کہ کشمیر کے مجاہدین نے ہندو فوج کے دس ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا: ان العمليات الجهادية ادت الى قتل اكثر من عشرة آلاف من العبد و الهندوس، صفحہ ۲۴۰ اس کو پڑھ کر میں نے کہا کہ اسلام میں جہاد کا عمل یہ تھا کہ دس ہزار انسانوں کو خدا کے دین میں داخل کیا جائے، اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مجاہدوں کے نزدیک جہادی عمل یہ ہے کہ دس ہزار انسانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے۔

Printed page