موت کا مسئلہ
Al-Risala, February 1995, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹ نومبر ۱۹۹۴ کو دہلی کے تمام اخباروں کے صفحہ اول کی نمایاں خبر تھی کہ جنرل پنچ را جوشی کا دہلی مین حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر ابھی صرف ۵۹ سال تھی۔ وفات وہ آرمی چیف کے عہدہ پر تھے۔
لمبی سروس کے بعد اب وہ اپنی آخری ترقی کے دور میں پہنچے تھے اور اس وقت سنیئر موسٹ سروس چیف کی حیثیت رکھتے تھے۔ ۸ نومبر کو گولف کھیلنے کے بعد انھوں نے سینہ میں درد بتایا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔ فوری طور پر بہترین میڈیکل امداد بہم پہنچائی گئی۔ مگر وہ دوبارہ ہوش میں نہ آ سکے۔ بے ہوشی کی حالت ہی میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔
جنرل جوشی کے حالات کے ذیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ انھیں ایکس سروس میں کا بہت خیال ہندوستان میں ایک سولجر ۳۵ سال کی عمر میں ریٹائر ہوتا ہے اور افسر ۴۸ سال کی عمر میں۔ طرح ہر سال فوج سے ستر ہزار آدمی ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کو ان ریٹائر ہونے والوں کی بہبود کی بہت فکر رہتی تھی۔ ان کا قول تھا کہ آج کا سپاہی کل کا ایکس سروس مین ہے: Today’s soldier is tomorrow’s ex-serviceman. جنرل جوشی اگر اور دور تک دیکھ سکتے تو کہتے کہ آج کا سولجر اور ایکس سروس مین دونوں ہی کل کے اعتبار سے آخرت کے باسی ہیں۔ دونوں ہی کو موت کے بعد آخرت کے ٹسٹ پر پورا اترنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ کون کیسا تھا۔ اور کون کیسا۔ کون خوش بخت تھا اور کون بدبخت۔ کون کامیاب تھا اور کون ناکام۔
لوگ موت سے پہلے کی زندگی میں الجھے رہتے ہیں، حالاں کہ دانش مندی یہ ہے کہ آدمی موت کے بعد کی زندگی کے مسائل کی سب سے زیادہ فکر کرے۔ لوگ انسانوں کی طرف سے پیش آنے والی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں، حالاں کہ حقیقت کا تقاضا ہے کہ خدا کی باتوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ لوگ دنیا کے قانون کی پکڑ سے بچنے کی تدبیریں کرتے ہیں حالاں کہ اس سے زیادہ انھیں اس بات کی تدبیر کرنی چاہئے کہ کہیں وہ خدا کی پکڑ میں نہ آجائیں۔