قیادت کی تربیت
Al-Risala, December 1995, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مشہور مسلم شاعر کا نماز کے بارہ میں دو شعر یہ ہے :
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے اس کو کیا جانے یہ بیچارے دورکعت کے امام ملا کو جو ہے ہند میں سجدہ کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد یہ بات موجودہ دور زوال کی نمازوں کو دیکھ کر کہی گئی ہے ۔ اصل نماز اگر اپنی روح کے ساتھ زندہ ہو تو خود مذکورہ شاعر کے مطابق ، وہ ایک عظیم انقلابی چیز بن جائے گی : وہ سجدہ روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب حقیقت یہ ہے کہ نماز پوری زندگی کے لئے ایک تربیت ہے ۔ نماز ایک اعتبار سے مسجد کا ایک وقتی عمل ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ ایسا انقلاب انگیز عمل ہے جو انسانی زندگی میں ہمہ گیر نتائج پیدا کرنے والا ہے۔
نماز کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق امامت سے ہے۔ آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو آدمی سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے (واذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم احدکم و لیؤمکم اکبرکم) ایک اور روایت میں ہے کہ یؤم القوم اقرؤهم لكتاب الله ) فتح الباری ۲/ ۲۰۰ اکبر اور اقراً (زیادہ علم والا ) دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایسے شخص کی امامت پر راضی ہو جایا کریں جو ان کے درمیان زیادہ پختہ کار اور زیادہ واقف کار ہو۔ جو آدمی علم اور عمر میں بڑا ہو گا۔ اس کے اندر لازما یہ صفتیں دوسروں سے زیادہ پائی جائیں گی ۔
اس طرح مسجد میں یہ تربیت دی جاتی ہے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمان کس طرح رہیں ۔ وہ اس طرح رہیں کہ جب بھی کوئی اجتماعی معاملہ ہو تو پختگی اور واقفیت میں جو لوگ کم ہوں وہ اپنے کو پیچھے کر لیں اور جو آدمی پختگی اور واقفیت میں زیادہ ہے اس کو اپنا قائد بنانے پر راضی ہو جائیں ۔