Al-Risala · December 1995

پر عافیت زندگی

Al-Risala, December 1995, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک عالم کے حلقہ میں ایک شخص تھا جوان سے بہت زیادہ قریب تھا۔ وہ اس کو دوسروں سے زیادہ مانتے تھے، اور دوسروں سے زیادہ ان پر بھروسہ کرتے تھے۔ اس شخص کو ایک کاروبار پر لگا دیا۔ اس میں اسے کامیابی ہوئی اور وہ پیسہ والا آدمی بن گیا۔ اس کے بعد ایک روز وہ مذکورہ عالم کی صحبت میں تھا۔ کسی بات پر عالم نے اس کو سختی سے وہ شخص بگڑ گیا۔ اس نے سخت انداز میں جواب دیا اور اٹھ کر عالم کے پاس سے چلا گیا۔ چند دن کے بعد اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ دوبارہ آیا اور عالم سے معذرت کرنے لگا۔ عالم نے جواب دیا کہ تم کو معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں پہلے ہی اس معاملہ کو اس طرح ختم کر چکا ہوں کہ اب تک میں تم کو اپنے معیار سے دیکھتا تھا، اب میں تم کو تمہارے معیار سے دیکھوں گا۔ اس دنیا میں عافیت کی زندگی گزارنے کا یہی واحد کامیاب اصول ہے۔ ایک لفظ میں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ __ لوگوں سے خود ان کے لحاظ سے معاملہ کرو نہ کہ اپنے لحاظ سے۔ ایک آدمی زیادہ امید پر پورانہیں اترتاتو اس سے اپنی امید کو کم کر لیجئے ۔ ایک آدمی آپ کی پابندی کو قبول نہیں کرتا تو اس سے پابندی کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیجئے، ایک شخص آپ کا خاص آدمی بننے کے لئے تیار نہیں ہے تو اس کو عام آدمیوں میں شمار کرنا شروع کر دیجئے ۔ ایک آدمی پر آپ کا قابو نہیں چلتا تو اس سے موافقت کی روش اختیار کرلیجئے۔ ایک آدمی آپ کو دینے کے لئے تیار نہیں ہے تو اس سے اپنی توقعات کو ختم کر دیجئے ۔ ایک آدمی اس خانہ کا اہل نظر نہیں آیا جہاں آپ نے اس کو رکھا تھا تو آپ سادہ طور پر صرف یہ کیجئے کہ ایک خانہ سے نکال کر اس کو دوسرے خانہ میں

زندگی خارجی حقیقتوں سے موافقت کرنے کا نام ہے۔ سورج اور ہوا اور بارش اور پہاڑ اور سمندر سے موافقت کرکے ہی ہم اس دنیا میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہی اصول انسانوں کے بارہ میں آپ انسانوں سے موافقت کے اصول پر معاملہ کیجئے، اور دنیا آپ کے لئے خوشی اور عافیت کا گہوارہ بن جائے گی۔

Printed page