Al-Risala · December 1995

شعور نہ کہ نظام

Al-Risala, December 1995, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں جاپان کی غیر معمولی ترقی ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکی ہے۔ یہ ترقی احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حاصل نہیں کی۔ بلکہ اپنے افراد کے اندر شعور پیدا کر کے حاصل کی جاپانی امور کے ایک ماہر رابرٹ ہیز(Robert (Robert Hayes) نے لکھا ہے کہ جاپان نے اپنے افراد کے لئے معیار کو ایک طرزِ فکر (Way of thinking) بنا دیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے یہ الفاظ لکھے ہیں:

You don't get quality into a product by inspection, you have to build it in. معیاری پیداوار کو آپ انسپکٹروں کی جانچ کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے ۔ آپ کو ہر ایک کارکن کے اندر اس کا احساس پیدا کرنا ہو گا ( ہندوستان ٹائمس ۲۸ دسمبر ۱۹۸۶ ، صفحہ ۹ ) امریکہ نے دوسری عالمی جنگ میں اور اس کے بعد جاپان کے ساتھ جو کچھ کیا تھا ، اس کے مطابق امریکہ جاپان کے لئے دشمن نمبر ایک کی حیثیت رکھتا تھا۔ جاپان نے جنگ کے بعد جو اپنی تعمیرِ نو شروع کی تو پہلا کام یہ کیا کہ اپنے افراد کو منفی طرزِ فکر سے پاک کیا۔ اس نے نفرت اور انتقام کے احساسات سے اوپر اٹھ کر امریکیوں سے معاملہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان اس سے بچ گیا کہ وہ اپنی طاقت کو غیر ضروری قسم کی منفی کارروائیوں میں صرف کرے۔ منفی نفسیات سے اوپر اٹھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خود اپنے دشمن کو اپنی خوراک بنا لیا۔

امریکہ کی بیل لیبارٹریز (Bell Laboratories) نے سب سے پہلے ٹرانسٹرایجاد جاپانی اگر امریکہ کے خلاف نفرت کے جذبات اپنے سینہ میں لئے ہوئے ہوتے تو وہ امریکہ سے کچھ سیکھ نہیں سکتے تھے۔ مگر ان کے مثبت طرزِ فکر کا یہ نتیجہ ہو اکہ انھوں نے فورا" اس ایجاد کو پکڑ لیا۔ قبل اس کے کہ بیل لیبارٹریز ٹرانسٹر بنائے جاپانیوں نے بہت بڑی مقدار میں ٹرانسٹر بنا کر عالمی مارکیٹ پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح فیکس کی تکنیک امریکہ میں دریافت ہوئی۔ جاپان نے سب سے پہلے اس کا تجارتی فائدہ حاصل کیا۔

Printed page