بعضکم من بعض
Al-Risala, December 1995, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو عورت اور مرد آسمان اور زمین کی نشانیوں میں غور کرتے ہیں وہ تخلیق کے اس نظام میں خالق کے وجو د کو پالیتے ہیں ۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ کائنات کے خالق نے اس کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر خالق کی دریافت ان کو داعیِ حق کی دریافت تک پہنچاتی ہے۔ کا اعتراف کرکے اس کا ساتھ دیتے ہیں تا کہ آخرت میں ان کو نجات یافتہ گروہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہو۔ اس کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
ان کے رب نے ان کے حق میں ان کی دعا قبول فرمائی اور کہا کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ، خواہ مرد ہو یا عورت ، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے ، ان کی خطاؤں کو ضرور میں ان سے دور کر دوں گا۔ اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے (آل عمران ۱۹۵)
قرآن کے اس بیان میں مرد اور عورت کے لئے بعضکم من بعض (آل عمران ۱۹۵ ) کا لفظ آیا یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کا جز رہو :