Al-Risala · December 1995

You are members, one of another.

Al-Risala, December 1995, pp. 16–14

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے لفظوں میں یہ کہ عورت مرد کا نصف آخر ہے، اور مرد عورت کا نصف ثانی۔ گویا قرآن کے مطابق، مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے شریکِ حیات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے یکساں حصہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے برابر کے ساتھی ہیں۔ کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق و امتیاز نہیں ۔ جو درجہ ایک کا ہے وہی درجہ دوسرے کا ہے۔ فرق کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہے جسمانی فرق ، دوسرا ہے انسانی فرق ۔ جسمانی فرق مرد اور مرد، عورت اور عورت میں بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح عورت اور مرد کے درمیان بھی جسمانی فرق پایا جاتا ہے۔ مگر جس طرح مرد اور مرد یا عورت اور عورت میں جسمانی فرق سے انسانی فرق واقع نہیں ہوتا ۔

عورت اور مرد کے درمیان جسمانی فرق کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں جنسوں کے درمیان انسانی فرق کیا میدانِ کار کے اعتبار سے دونوں میں تقسیم ہے مگر انسانی مرتبہ کے اعتبار سے دونوں میں کوئی تقسیم نہیں۔

جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے ، دنیا کی طرح آخرت میں بھی مرد اور عورت کا معاملہ یکساں ہے۔ دونوں کا یکساں طور پر حساب لیا جائے گا۔ دونوں کے قول و عمل کو ایک ہی معیار پر جانچا جائے گا۔ جو چیز مرد کے لئے نجات کا ذریعہ ہوگی، وہی عورت کے لئے بھی نجات کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو چیز عورت کی فلاح و کامیابی کا فیصلہ کرے گی وہی مرد کے لئے بھی فلاح و کامیابی کی ضامن ہوگی۔ جانچ کا وہ معیار کیا ہے ، مذکورہ آیتوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معیار یہ ہے کائنات میں غور وفکر سے معرفت حاصل کرنا ، خدا وندِ عالم کا اقرار، خدا کے پیغمبر پر ایمان، آخرت کی تڑپ ، خدا کے لئے ہجرت ۔ خدا کی راہ میں جدوجہد ، تقویٰ اور خشوع ، صبر۔ کائنات معرفت کا خزانہ ہے۔ مرد اور عورت جب اس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتے ہیں تو ان کو اس سے روحانی غذا ملتی ہے، ان کو اس میں حق کی تجلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ کائنات میں غور کرکے وہ خالقِ کائنات کو پا لیتے ہیں۔

کائنات کی معنویت اور خدا کی موجودگی کی دریافت ان کو بتاتی ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس دنیا میں آزاد نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ ہر ایک سے اس کے قول و عمل کا حساب لیا جائے۔ اور اس کے ریکارڈ کے مطابق اس کو اس کا بدلہ دیا جائے۔ وہ خدا پر ایمان کے ساتھ پیغمبر خدا پر ایمان کے لئے بھی مجبور ہو جاتا ہے کیوں کہ پیغمبر کی رہنمائی کے بغیر خدا کی عبادت واطاعت نہیں کی جا سکتی۔

ہجرت سے مراد محض ترکِ وطن نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت اللہ کی خاطر ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ نامطلوب کو چھوڑنا اور مطلوب کو لینا، یہ ایک مستقل عمل ہے جو مومن اور مومنہ کی پوری زندگی میں ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح ان کی زندگی سراپا جدوجہد کی زندگی بن جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران وہ بار بار تقویٰ اور خشوع کی کیفیات کا تجربہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی خاطر صبر کرنے والے بن جاتے ہیں۔

Printed page