فخر و ناز
Al-Risala, December 1995, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم اسپین میں مسلمانوں کی حکومت ملک کے بڑے حصے پر قائم ہوگئی تھی۔ تاہم اسپین کا شمالی علاقہ ہمیشہ مسیحیوں کے قبضہ میں رہا۔ ان مسیحیوں سے برابر مسلمانوں کا ٹکراؤ ہوتا رہتا تھا۔ اسی نوعیت کی ایک جنگ ۱۰۸۶ء میں ہوئی۔ اس موقع پر پیش آنے والے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ مسیحی حکمران الاذفونس ششم (Alfonso VI) نے آغاز جنگ سے پہلے ایک خواب دیکھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک ہاتھی پر سوار ہے، اس کے سامنے ایک طبل ہے جس کو وہ بجارہاہے۔ اس نے اپنا یہ خواب پا دریوں سے بیان کیا۔ مگر وہ اس کی تعبیر نہ بتا سکے۔ اس کے بعد اس نے ایک مسلمان عالم کو بلایا جو خواب کی تعبیر جانتا تھا۔ مسیحی بادشاہ نے اس کے سامنے اپنا خواب بیان کیا۔ مسلمان نے تعبیر سے معذرت چاہی۔ مگر بادشاہ نے اصرار کیا۔ مسلمان نے سورہ الفیل اور سورہ المدثر (آیت ۸) کی روشنی میں اس کی تعبیر یہ بتائی کہ تم نے جو لشکر جمع کیا ہے وہ سب ہلاک ہوگا۔
مسیحی بادشاہ کے پاس اس وقت جو لشکر تھا اس کے فوجیوں کی تعداد پچاس ہزار تھی ۔ بادشاہ جب اپنی فوج کے سامنے آیا اور اس کو دیکھا تو اس کے اندر اپنی قوت پر ناز پیدا ہو گیا۔ اس نے دوبارہ مذکورہ مسلمان عالم کو بلایا اور کہا کہ میرے اس لشکر کو دیکھو۔ اپنے اس عظیم لشکر کے ساتھ میں تمہارے پیغمبر کے لشکر سے لڑوں گا اور اس کو شکست دے کر رہوں گا، اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں :
وقال لبعض المسلمين - ھذا الملك مسلمان عالم نے کچھ مسلمانوں سے کہا کہ یہ بادشاہ هالك وكل من معه . وذكر قول رسول الله ہلاک ہونے والا ہے اور اس کے سب ساتھی بھی۔ صلى الله عليه وسلم - ثلاث مهلكات اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث (الحديث)، وفيه : و اعجاب المرء بیان کی جس میں ہے کہ تین چیزیں ہلاک کرنے بنفسه. والی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے آدمی کا اپنے اوپر فخر کرنا۔
اس جنگ کی تفصیل عظمتِ اسلام (صفحہ ۹۲ - ۲۹۰) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ذلاقہ کے مقام پر دونوں میں زبردست جنگ ہوئی۔ مسیحی فوج کی تعداد ۵۰ ہزار تھی اور مسلم فوج کی تعداد مگر مسیحی فوج کو مکمل شکست ہوئی۔ مسیحی فوج میں سے صرف ۳۰۰ سوار بچ کر اپنے ملک کو واپس جاسکے اور مسلمانوں نے ان کا تمام مال، ہتھیار اور جانور وغیرہ غنیمت میں حاصل کیا۔ من الفرنج الا بلاد هم غير ثلاث مائة فارس وغنم المسلمون كل مالهم من مال وسلاح ودواب وغير ذالك) الكامل في التاريخ، تالیف ابن اثیر، جلد ۱۰، صفحه ۵۴ - ۱۵۱ انسان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خدا کا بندہ ہے، انسان کے لئے مناسب رویہ صرف تواضع کا فخر و ناز کا رویہ انسان کو زیب نہیں دیتا۔ اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو تواضع کی روش اختیار کرے۔ جو لوگ فخر و ناز کی روش اختیار کریں وہ یقینی طور پر تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔
تواضع کی روش آدمی کے اندر حقیقت پسندی پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کو اس وہم سے بچاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا غلط اندازہ کر کے بے جا اقدام کر بیٹھے اور پھر ہلاکت سے دوچار تواضع کی کیفیت جس آدمی کے اندر ہو وہ کبھی جذباتیت کا شکار نہیں ہوگا، بلکہ سنجیدگی اور تحمل کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ ایسا آدمی بے جا خود اعتمادی میں مبتلا نہیں ہوگا بلکہ لوگوں سے مشورہ کر کے صحیح رائے تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔
فخر و ناز کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ جو آدمی فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا ہو گا اس کے اندر بے جا خود اعتمادی ہوگی۔ وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کا شکار رہے گا۔ وہ کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ وہ غیر ضروری طور پر لوگوں سے ٹکرائے گا اور اپنی غیر سنجیدہ حرکات سے لوگوں کو خواہ مخواہ اپنا دشمن بناتا رہے گا۔ جن لوگوں کے اندر اس قسم کے اوصاف ہوں ان کے لئے خدا کی اس دنیا میں ہلاکت کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔