جہانے را دگرگوں کرد یک مردے خود آگاہے
Al-Risala, December 1995, pp. 20–24
By Maulana Wahiduddin Khan
واقعات کا تاریخی مطالعہ غیر مشتبہ طور پر اس کی صداقت کو ثابت کرتا ہے۔ یہاں میں اس سے تعلق رکھنے والے چند حوالوں کی طرف مختصر اشارے کروں گا۔
اس سلسلہ میں پہلی مثال پاکستان کی ہے۔ پاکستان کے نام پر برصغیر ہند میں جو دھواں دھار تحریک اٹھی وہ براہ راست طور پر اقبال کی دین تھی۔ یہ اقبال ہی کے افکار تھے جنھوں نے مسلمانان ہند کے اندر پاکستان کے حق میں جوش و خروش پیدا کیا۔
اقبال کے شارح حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اپنی کتاب ”نقوش اقبال“ کے دیباچہ
میں لکھتے ہیں کہ انھیں اسلام کے اس عظیم شاعر کی وفات سے چند ماہ پہلے ایک تفصیلی اور تاریخی ملاقات کا موقع ملا تھا۔ یہ ملاقات ۲۲ نومبر ۱۹۳۷ کو لاہور میں علامہ اقبال کے مکان پر ہوئی۔ حضرت مولانا علی میاں کے بیان کے مطابق، اقبال نے پاکستان کے وجود میں آنے سے دس برس پہلے، پاکستان کے بارے میں فرمایا کہ جو قوم اپنا ملک نہیں رکھتی وہ اپنے مذہب اور تہذیب کو بھی برقرار نہیں دین و تہذیب حکومت و شوکت ہی سے زندہ رہتی ہے۔ اس لیے پاکستان ہی مسلم مسائل کا واحد حل ہے، اور یہی اقتصادی مشکلات کا حل بھی ہے۔ (نقوش اقبال، لکھنؤ، ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷) اقبال کے تمام پرستار، خاص طور پر، پاکستان کے تمام علماء اور دانشور فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اقبال پاکستان کے حقیقی بانی ہیں۔ مثال کے طور پر ماہنامہ حکمت قرآن (لاہور) کے مذکورہ شمارہ میں مصوّر پاکستان“ کے عنوان کے تحت ایک مضمون چھپا ہے جس میں پاکستان کے ایک مشہور بزرگ لکھتے ہیں:
”اقبال نے برصغیر ہند و پاک کی مسلمان قوم کے مستقبل کے بارے میں جو کچھ سوچا اور ان کے مسائل کا جو حل پیش کیا وہ ان کی بیدار مغزی اور معاملہ فہمی، بلکہ کہنا چاہئے کہ سیاسی تدبر کا یہ صرف علامہ مرحوم ہی کی نگاہ دور رس و دور رس تھی جس نے حالات کے رخ اور زمانہ کی رفتار کو پہچان کر (۱۹۳۰ میں) مسلمانانِ ہند کے جملہ مسائل کا حل اسے قرار دیا۔ ہندوستان کے کم از کم شمال مغربی گوشہ میں واقع مسلم اکثریت کے علاقوں پر مشتمل مسلمانوں کی ایک آزاد اور خود مختار مملکت قائم ہو جائے۔ پاکستان کے ساتھ علامہ اقبال کا تعلق صرف مصور کا نہیں، اس سے کہیں زیادہ ہے، انھوں نے موجود الوقت حالات میں مسلمانانِ ہند کے قومی مقدمہ کی پیروی کے لئے صحیح ترین وکیل کو ڈھونڈ نکالا۔ نہ صرف یہ کہ ان کی نگاہ دور ریں نے مسلمانانِ ہند کی قیادت عظمیٰ کے لئے محمد علی جناح کو تا کا بلکہ خود ان میں اس حیثیت کا احساس اجاگر کیا۔ علامہ اقبال نے نہ صرف یہ کہ پاکستان کا تصور پیش کیا، بلکہ اس کے خاکے میں رنگ بھرنے کی عملی جدوجہد کے ابتدائی مراحل میں بنفس نفیس شرکت بھی کی۔ اور گویا تحریک پاکستان کے کارکنوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ اس اعتبار سے علامہ مرحوم کا ایک عظیم احسان ہر اس مسلمان کی گردن پر ہے جو پاکستان کی فضا میں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے سانس لے رہا ہے“ (صفحہ ۹ - ۱۰)
اقبال کے تمام معتقدین کا متفقہ طور پر یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان کی تحریک میں جان ڈالنے والی شخصیت صرف علامہ اقبال کی تھی۔ اقبال کی "حدی خوانی" نے لوگوں کے اندر ایک "اسلامی وطن" حاصل کرنے کی سرشاری پیدا کی۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں پاکستان کے نام سے ایک علیحدہ مملکت وجود میں آگئی۔ ایسی حالت میں کیسے کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان اقبال کی حدی خوانی سے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ بے شمار لوگ ہیں جو اقبال کے پر جوش کلام کو پڑھ کر "مجاہد" بن گئے۔ کشمیر کے مسلمان ۱۹۸۹ء سے بزعم خود جس خونی جہاد میں مشغول ہیں اس کی تحریک انھیں اقبال ہی کے کلام سے ملی ہے۔ بوسنیا کے لیڈر اور مجاہد عالیجاہ عزت بیگ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ موجودہ انقلابی جد و جہد کا جذبہ ان کے اندر اقبال کے کلام کے انگریزی ترجمہ کو پڑھ کر ہی آیا تھا۔ افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے مجاہدین کو بھی اقبال کے فارسی کلام سے جنگ و جہاد کا حوصلہ ملا ۔
اس کے علاوہ اقبال کی رجز خوانی کے بالواسطہ اثرات کی فہرست بھی کم نہیں۔ مثلاً مولا نا محمد علی جوہر جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پورے ہندوستان کو ہلا دیا تھا ، وہ بھی اقبال کے کلام سے متاثر تھے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی جن کے متعلق ان کے معتقدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی کوشش سے ایک نیا عالمی عہد پیدا کر دیا، وہ بھی اپنے اقرار کے مطابق ، اقبال کے کلام سے فیضیاب ہوئے تھے۔ پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب آجکل عالمی خلافت کی ہنگامہ خیز تحریک چلا رہے ہیں وہ بھی بار بار یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے اقبال کے کلام سے غیر معمولی طور پر اثر قبول کیا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مولانا امین احسن اصلاحی کا مذکورہ جملہ اصل واقعہ کی معکوس ترجمانی ہے۔ حقیقی صورت حال برعکس طور پر یہ ہے کہ اقبال کی حدی خوانی نے امت کو حرکت وعمل کا سمندر بنا دیا۔ ان کی حدی خوانی سے نئے ملک وجود میں آئے۔ بازی لگانے والوں کی فوج کی فوج تیار ہوگئی۔ کتنے مولے شہباز سے لڑ گئے۔ اور کتنے مردِمومن آتش نمرود میں کو دپڑے ۔ مزید یہ کہ ان کی اس انقلابی فیض رسانی کا سلسلہ آج تک بدستور مختلف صورتوں میں جاری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس واضح واقعہ کو باوجود مولانا امین احسن اصلاحی نے مذکورہ قسم کا بر عکس تاثر کیوں ظاہر کیا۔ اس کی سادہ سی وجہ نتیجہ اور عمل کا فرق نہ سمجھنا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اقبال کے کلام نے بھر پور طور پر مسلمانوں کو متحرک کیا اور ان کے عمل کے راستہ پر ڈالا۔ البتہ اس عمل کا مطلوب نتیجہ امت کو نہیں ملا۔ مولانا اصلاحی اور ان کے جیسے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ نتیجہ کے فقدان کو عمل کا فقدان قرار دے رہے ہیں۔
نتیجہ کے فقدان کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے نام سے اقبال کے خوابوں کا ملک بن گیا۔ وہ ملتِ اسلام کی شوکت قائم کرنے میں ناکام رہا۔ مختلف ملکوں میں اقبال کے نوجوانوں نے شیری حتی کہ وہ بے خطرنمرود کی دہکائی ہوئی آگ میں کو دپڑے۔ مگر ان کی موت امت کو زندگی دینے کا سبب نہیں بنی۔ اقبال کی ضربِ کلیم اور بانگِ درا سے ہمالیائی شخصیتیں اور آفاقی تحریکیں وجود میں آئیں مگر وہ ملتِ مسلمہ کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔ معلوم ہواکہ جو چیز مفقود ہے وہ نتیجہ عمل ہے نہ کہ خود عمل۔ اقبال کے پرستاروں کو چونکہ مطلوب نتیجہ دکھائی نہیں دیتا، اس لئے وہ غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ عمل بھی ظہور میں نہیں حالاں کہ جہاں تک عمل کا تعلق ہے وہ مسلسل طور پر جاری ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی رہنمائی ہی درست نہ تھی۔ انھوں نے جس راستہ پر قوم کو دوڑایا وہ منزل کی طرف جانے والا راستہ ہی نہ تھا۔ اس لئے سوسال تک دوڑنے کے باوجود منزل بھی سامنے نہیں آئی۔
بر صغیر ہند کے مسلمانوں کے مسائل کا حل جغرافیہ کی تقسیم نہ تھا بلکہ خود مسلمانوں کو تعلیم و ترقی کے راستہ میں آگے بڑھانا تھا۔ یہاں کے مسلمانوں کو شہباز و شاہین سے لڑنا نہ تھا۔ بلکہ شہباز و شاہین کو دعوت حق کا مخاطب بنانا تھا۔ مسلمانانِ ہند کی ضرورت شاعرانہ حدّی خوانی نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ سنجیدہ نثر میں ان کے فکر وشعور کو تربیت دے کر انھیں زمانہ جدید کا شہری بنایا جائے۔ امت مسلمہ کے کرنے کا کام یہ نہ تھا کہ اپنے آپ کو الگ قوم اور دوسروں کو الگ قوم بتا کر علیحدہ جغرافی گوشہ میں سمٹ جائیں۔ بلکہ ان کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ ساری انسانیت کو ایک سمجھیں اور تمام قوموں کو ایک آفاقی تہذیب کے تحت لانے کی کوشش کریں۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو حقیقت پسندی کی خوراک درکار تھی۔ نے مسلمانوں کو جذباتی ہلچل اور رومانی پرواز کی خوراک دی۔ ایسی الٹی رہنمائی کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو ہوا __ اقبال کا کیس غلط رہنمائی کا کیس ہے نہ کہ رہنمائی کو مستبول نہ کرنے کا کیس۔ شیخ سعدی شیرازی کا ایک شعر اقبال اور ان کے کروڑوں متبعین پر پوری طرح صادق سعدی نے ایک دیہاتی آدمی کو دیکھا کہ وہ زیارت کعبہ کے ارادہ سے سفر کر رہا ہے۔ مگر اس کا سفر الٹی سمت میں ہے۔ انھوں نے اس سے کہا کہ اے اعرابی، مجھے اندیشہ ہے کہ تم کعبہ تک نہ پہنچ سکو گے۔ کیوں کہ تم جس راستہ پر چل رہے ہو وہ راستہ برعکس رخ پر ترکستان کی طرف جا رہا ہے:
ترسم نه رسی به کعبہ اے اعرابی کیں ره که تو می روی به ترکستان است یہی اقبال نے زیادہ بڑے پیمانے پر کیا۔ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو تعلیمی جہاد کی ضرورت تھی مگر اقبال نے مسلمانوں کو سیاسی جہاد کا سبق دیا۔ مسلمانوں کے اندر سب سے پہلے فکری انقلاب لانا تھا۔ مگر اقبال نے مسلمانوں کو خارجی ہنگاموں میں ڈال دیا۔ آج حقیقت پسندی کی خوراک درکار تھی مگر اقبال نے انھیں ہوائی اچھل کود میں مصروف کر دیا۔ مسلمانوں کو زمانہ سے ہم آہنگی کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا منصوبہ بنانا تھا مگر اقبال نے سکھایا کہ زمانہ سے لڑ کر اس کے نظام کو توڑ پھوڑ ڈالو۔ مسلمانوں کو ہر اعتبار سے داخلی تیاری کی ضرورت تھی مگر اقبال نے اچانک مسلمانوں کو اقدام کے میدان میں دوڑادیا۔ "گلوبل ولیج" کے دور میں سارا عالم مسلمانوں کے لئے میدان عمل بن چکا تھا مگر اقبال نے مسلمانوں کو سبق دیا کہ تم ایک جغرافی گوشہ حاصل کرکے اس کے اندر محدود ہوجاؤ، وغیرہ۔
اقبال کے لفظی جوش وخروش نے مسلمانوں کے اندر زبر دست ہلچل پیدا کی۔ مگر یہ ہلچل غلط سمت میں تھی، اور رجو ہلچل غلط سمت میں ہو وہ لوگوں کو صحیح سمت میں لے جانے کا ذریعہ نہیں اور نہ اس عالم اسباب میں اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔