یکساں احترام
Al-Risala, February 1995, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
مرکزی حکومت کی منسٹری آف ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کے زیر اہتمام ۱۹-۲۰ نومبر ۱۹۹۴ کو سرو دھرّم سماگم ہوا۔ اس کے اجلاس تین مورتی ہاؤس نئی دہلی میں منعقد ہوئے۔ کے تحت ۲۰ نومبر کو ایک سیمینار ہوا جس کا موضوع بحث اقدار پر مبنی تعلیم (value-based education) اجلاس کے چیئر پرسن پروفیسر آر سندر راجن تھے۔
اس سیمینار کے ایک مقرر مسٹر ایچ وائی شاردا پرساد تھے۔ وہ سابق وزیر اعظم ہند مسز اندرا گاندھی کے پرسنل ایڈوائزر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں سرو دھرّم سمبھاو کی تشریح انھوں نے کہا کہ سرو دھرّم سمبھاو کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی ہر مذہب کے لئے یکساں جذبہ رکھے۔ یہ اصول اسٹیٹ کے معاملہ میں درست ہے جس کو ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے یکساں تحفظ دینا مگر نفسیاتی اعتبار سے یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی کہ ایک شخص ہر مذہب کے لئے یکساں رغبت رکھے۔ ایک آدمی ہر بھائی کا یکساں احترام کر سکتا ہے۔ مگر وہ ان کے ساتھ ویسی محبت نہیں کر سکتا جیسی محبت اس کے اندر اپنی ماں کے لئے ہوتی ہے۔ اس لئے ہمیں (سرو دھرّم سمبھاو کے بجائے) سرو دھرّم سمان کہنا چاہئے۔ (مسٹر شاردا پرساد کے اصل الفاظ صفحہ کے نیچے درج ہیں) مسٹر شاردا پرساد نے جو بات کہی وہ نہایت درست اور مبنی بر حقیقت ہے۔ ہر مذہب کو یکساں سچائی ماننا اور ہر ایک سے یکساں محبت رکھنا یقینی طور پر غیر فطری ہے۔ اس لئے ایک شخص لکھنے اور بولنے کی سطح پر تو یہ نظریہ بیان کر سکتا ہے۔ مگر قلبی سطح پر یہ ممکن نہیں کہ آدمی متعدد صداقت کو یکساں طور پر مانے اور ہر ایک سے یکساں محبت کرے۔
Sarva Dharma Samabhava would mean equal feeling towards all religions. This would be right in regard to the State — which must provide equal protection towards the practitioners of all religions. But it would be psychologically unrealistic for an individual to practise equal affection for all religions. A person might respect all brothers but would not love them with the same love that he has for the mother. Therefore we should speak of Sarva Dharma Sammaan (respect for all religions). H.Y. Sharada Prasad, New Delhi (Tel. 5585439)
مہاتما گاندھی اس نقطہ نظر کے سب سے بڑے علم بردار تھے۔ وہ ہمیشہ رام رحیم ایک ہے " کی بات کیا کرتے تھے۔ مگر وہ بھی ایک حد تک ہی اس پر قائم رہ سکے۔ ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ کو جب گاڈ سے نے انھیں گولی ماری اور وہ خون میں لت پت ہو کر گر پڑے تو موت سے پہلے آخری لفظ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ "ہے رام" تھا نہ کہ " ہے رام ، ہے رحیم"۔
مسٹر شار دل پرساد نے اس معاملہ میں جو تقسیم کی ہے وہی صحیح ترین تقسیم ہے۔ حکومتی پالیسی میں تو یہی ہونا چاہئے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کو یکساں مراعات اور یکساں تحفظ دیا جائے ۔ کیوں کہ حکومت پورے ملک کی نمائندہ ہوتی ہے۔ مگر جہاں تک افراد کا تعلق ہے ہر فرد کا یہ حق تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے اور جس مذہب پر چاہے قلبی اعتقاد
سماج میں امن اور بھائی چارہ قائم کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کو یہ تلقین کی جائے کہ وہ ہر ایک کا یکساں احترام کریں۔ قلبی اعتبار سے اپنے مذہب پر عقیدہ رکھتے ہوئے خارجی سلوک میں ہر ایک دوسرے کا پورا احترام کرے۔ ہر ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ سچائی جوتے کپڑے جیسی چیز نہیں ہے کہ خواہ اس کپڑے کو پہنا جائے یا اُس کپڑے کو سچائی عین اپنی فطرت کے اعتبار سے یکسوئی چاہتی ہے۔ ٹروٹھ وہی ہے جو دمی ٹروٹھ ہو۔ جو ٹروٹھ دی ٹروٹھ نہ ہو وہ یقینی طور پر ٹروٹھ بھی نہیں۔