Al-Risala · December 1995

Now Boarding — 817

Al-Risala, December 1995, pp. 26–30

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ہمارا جہاز تیار ہے۔ مسافر ایک ایک کرکے چل کر انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ

نمبر ۸۱ میں داخل ہو گئے۔

دہلی سے جہاز تقریباً وقت پر روانہ ہوا۔ آسمان کے کنارے شفق کی سرخی نظر آنے لگی۔ دھیرے دھیرے وہ غائب ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ روشن سورج افق پر نمایاں ہوگیا۔ معمول میں کا غذ نکال کر کچھ تاثرات لکھنے لگا۔ میرے پاس بیٹھے ہوئے بزرگ نے کہا: آپ اردو لکھ رہے ہیں یا فارسی۔ میں نے پوچھا کیا آپ فارسی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ یہ مسٹر کند دوبے (Muchkund Dubey) تھے۔ وہ فارین سروس سے ۱۹۶۹ میں ریٹائر ہوئَے ۔ اب وہ دہلی میں (Tel. رہتے ہیں انھوں نے بتایا کہ ملازمت کے زمانہ میں فارسی سیکھنے کے لئے انھیں ایران بھیجا گیا تھا۔ وہ ڈھائی سال رہے۔ انھوں نے اتنی کافی فارسی سیکھ لی کہ فارسی میں تقریر کرنے لگے۔ نے ان سے کہا کہ فارسی کا کوئی مقولہ جو آپ کو یاد ہو بتائیے۔ انھوں نے شیخ سعدی کا یہ مقولہ لکھ دیا: چگونه شکر نعمت گزارم که مردم آزاری ندارم (خدا کی نعمت کا میں کس طرح شکر ادا کروں کہ میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا)

ہماری پہلی منزل احمد آباد تھی۔ یہاں جہاز اتراتو میں باہر آگیا۔ احمد آباد کے مناظر دیر تک مجھے یاد آیا کہ پہلی بار میں ۱۹۷۱ میں احمد آباد آیا تھا۔ دہلی سے احمد آباد کا سفر میں نے ٹرین کے ذریعہ کیا تھا۔ واپسی ہوائی جہاز سے ہوئی ۔ یہ ہوائی جہاز سے میرا پہلا سفر تھا۔ اس کے بعد سے اب تک میں ۱۰۰ سے زیادہ سفر ہوائی جہاز کے ذریعہ کر چکا ہوں۔ اور اگر آمد و رفت دونوں کو ملا کر شمار کیا جائے تو ۲۰۰ سے زیادہ ۔

احمد آباد کا یہ سفر اگست ۱۹۷۹ میں ہوا تھا۔ الجمعیۃ ویکلی، استمبرا ۱۹۷۹ میں اس کی رو داد شائع ہو چکی ہے۔ اس سفر نامہ کا ایک سبق آموز پیرا گراف یہ تھا:

"یہاں میں ایک مسلم نوجوان سے ملا۔ وہ بزنس کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اپنا کام کتنے سرمایہ سے شروع کیا۔ انھوں نے بتایا کہ دس روپیہ سے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اتنے کم سرمایہ سے کس طرح کام کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا: زبان سچی ہو اور ایمان دل میں ہو تو سرمایۂ کی ضرورت نہیں۔ آپ زبان دے کر کتنا بھی سودا بازار سے اٹھا سکتے ہیں۔

احمد آباد گجرات کا سب سے بڑا شہر ہے۔ سلطان احمد شاہ نے ۱۴۱۱ میں اس کی بنیاد اسی کے نام پر اس کو احمد آباد کہا جانے لگا۔ ۱۵۷۲ء میں مغل حکمران اکبر نے اس پر قبضہ ۱۸۱۸ء میں وہ برطانیہ کے ماتحت آگیا۔ انگریزی دور میں یہاں پہلی کاٹن مل ۶۱-۱۸۵۹ ء میں قائم کی گئی۔ احمد آباد اس وقت ہندوستان کا پانچواں سب سے بڑا شہر ہے۔ راستہ میں مختلف اخباردیکھے ٹائمس آف انڈیا ۱۲ نومبر) کے ادارتی صفحہ کے اوپر حسب معمول ویلیس (W.R. Wallace) کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ جو ہاتھ گہوارہ کو چلاتا ہے وہی وہ ہاتھ ہے جو دنیا پر حکومت کرتا ہے:

The hand that rocks the cradle is the hand that rules the world. یہی عورت کا اصل مقام ہے جو فطرت نے اس کو عطا کیا ہے۔ وہ اس نسل کو تیار کرتی ہے جو بالآخر باہر آکر دنیا کے تمام کاروبار کو سنبھالتی ہے۔ اس اعتبار سے عورت گویا معمار انسانیت مگر جدید تہذیب نے برابری کے مصنوعی اور غیر فطری تصور کے تحت عورت کو گھر کے اندر کے عظیم کردار سے محروم کر دیا۔ اور گھر کے باہر کا رول ادا کرنے کے قابل تو وہ تھی ہی نہیں۔ انگریزی اخبار دی ہندو (۲۱ نومبر) میں مسٹر اندر سین کے ایک آرٹیکل (ہندو ۲۲ اکتوبر کی حمایت میں مسٹروی کمیسوران (مدراس) کا خط چھپا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے کانسٹی ٹیوشن کے بنانے والوں نے یہ بہت بڑابلنڈ رکیا کہ انھوں نے بالغ رائے دہی (adult franchise) کے اصول کو دستور میں جگہ دی۔ ہمارے ملک کی اکثریت جاہل اور بے شعور ہے۔ ایسی حالت میں ہر بالغ آدمی کو ووٹ کا حق دینا گویا قوم کو ایسے لیڈروں کے حوالے کرنا ہے جو خوشنما نعروں کے ذریعہ انھیں بے وقوف بناتے رہیں۔

اس کے نتیجہ میں جو سیاسی کرپشن پیدا ہوا اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ رومن ایڈ منسٹریٹر پبلی کو لا (Publicola) جب مرا تو اس نے اتنی رقم بھی نہیں چھوڑی تھی جس سے اس کی آخری رسوم ادا کی جاسکیں۔ جب کہ ہمارے ملک کے حکمران ایک بار حکومت میں آنے کے بعد اتنی دولت جمع کر لیتے ہیں جو ان کی کئی پشتوں کے عیش کے لئے کافی ہو۔

جہاز بڑودہ پہنچا تو یہاں سمینار کے لوگ رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ چوں کہ میرے ساتھ کوئی سامان نہیں تھا اس لئے ٹھہرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ائیر پورٹ سے مسٹر عظیم بندوق والا کے ساتھ روانگی ہوئی۔ وہ مسٹر جے ایس بندوق والا کے صاحبزادے ہیں اور کمپیوٹر انجینئرنگ کا کورس کر رہے ہے۔ جب میں بڑودہ کی سڑکوں سے گزر رہا تھا تو یہاں کی ہر چیز مجھے دہلی کے مقابلہ میں پسماندہ پھر میں نے سوچا کہ اسی طرح دہلی ، یورپ اور امریکہ کے ترقی یافتہ شہروں کے مقابلہ میں پسماندہ محسوس ہوتا ہے۔ ذہن کا مسافر مزید آگے بڑھا تو خیال آیا کہ آدمی جب جنت کے شہر میں داخل ہوگا تو وہ پائے گا کہ پیرس اور واشنگٹن بھی مزید اضافہ کے ساتھ جنتی شہر کے مقابلہ میں انتہائی پس ماندہ تھے۔

ہماری گاڑی بڑودہ کی مختلف سڑکوں سے گزرتی رہی۔ یہاں تک کہ ہم لوگ اس علاقہ میں پہنچ گئے جس کو فرٹیلائزر نگر کہا جاتا ہے۔ یہاں گجرات فرٹیلائزر کا وسیع گیٹ ہاؤس (Shin Atami Guest House) ہے۔ میرے قیام کا انتظام اس کے اندر کیا گیا تھا۔ لیکن جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو ریسپشن ڈسک پر کوئی موجود نہ تھا۔ صرف سیکورٹی گارڈ کا ایک آدمی پستول لٹکائے ہوئے گھوم رہا تھا۔ عظیم بندوق والا ڈھونڈنے کے لئے نکلے اور کچھ دیر میں ایک آدمی کو لے کر آئے۔ اس نے روم نمبر 4 ہمارے لئے الاٹ کیا۔

ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکاری گئسٹ ہاؤس ہے اس لئے یہاں ایسا اگر یہ پرائیویٹ ہوتا تو آپ دیکھتے کہ گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک شخص یہاں آپ کے استقبال کے لئے موجود ہے۔

ایک گفتگو کے دوران ایک "گاندھی بھگت" نے کہا کہ مہاتما گاندھی تو دیش کے بٹوارہ کے لئے آخر وقت تک راضی نہیں تھے۔ مگر نہرو اور دوسرے کانگریسی لیڈروں نے دیکھا کہ انگریز مسٹر جناح کے ذریعہ آزادی میں اڑنگا لگائے ہوئے ہیں۔ وہ اس اڑنگے کو استعمال کرتا رہے گا اور کبھی ہم کو آزادی نہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے مر جائیں گے اور بھارت کو اپنے خوابوں کا دیش نہیں بنا سکیں گے۔ اس بنا پر نہرو وغیرہ نے بٹوارہ کو مان لیا تاکہ انگریزوں کے سیاسی قبضہ سے چھٹکارا حاصل کر کے دیش کی تعمیر کی جاسکے۔

نہرو کا خواب کیا تھا۔ وہ پہلے ہی انھوں نے اپنی آپ بیتی میں لکھ دیا تھا کہ میں انڈیا کو ایک سوشلسٹ انڈیا دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ اقتدار پر قبضہ کر کے ہم بڑے پیمانہ پر پبلک سیکٹر بنائیں گے اور ہر شعبہ میں ایسے معیاری ادارے قائم کریں گے جو پرائیویट سیکٹر کے لئے بطور نمونہ کام دے گا۔ چنانچہ نیشنل گورنمنٹ قائم ہونے کے بعد نہرو اور ان کے ساتھیوں نے ملک کی دولت کا بڑا حصہ پبلک سیکٹر قائم کرنے میں جھونک دیا۔ مگر چالیس سالہ تجربہ کے بعدمعلوم ہواکہ نام نہاد پبلک سیکٹر صرف کرپشن کا ذریعہ ہے۔ مزید یہ کہ اس نے پوری قوم کو کاہل (lethargic) بنا کر رکھ دیا۔

اس طرح نہرو کی قیادت نے ملک کو دہرانقصان پہنچایا ہے۔ اس نے مسٹر جناح کے اڑنگے‘‘ کو غیر ضروری اہمیت دی جس کے نتیجہ میں ملک کے ٹکڑے ہوگئے۔ اور دوسری طرف حاصل شدہ ہندوستان کو اقتصادی تباہی کی خندق میں گرا دیا۔ نہرو کو ہندوستان سے بے پناہ محبت تھی جس کا اندازہ ان کے وصیت نامہ سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر سوچ درست نہ ہو تو محبت بھی الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

ٹھیک یہی معاملہ مسلم ملکوں میں بھی پیش آیا۔ مسلم ملکوں کے اسلام پسند مخلصین نے اپنی فکری غلطی کے تحت ہر جگہ سیاسی چھلانگ لگائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دور جدید میں اسلامی دعوت کے تمام امکانات برباد ہو کر رہ گئے۔

گیٹ ہاؤس کے کمرہ میں پہنچ کر میں نے پہلا کام یہ کیا کہ دیواروں کے پردے ہٹادئے۔ اس طرح کے کمروں میں عام طور پر باہر کی طرف قدرتی مناظر ہوتے ہیں۔ مگر جدید تہذیبی رواج کے مطابق ، اس پر لمبا پردہ پڑا رہتا ہے۔ مجھے ایسا پردہ پسند نہیں۔ پردہ کو ہٹانے کے بعد لمبے شیشہ کے اُس پار فطرت کے ہرے بھرے مناظر دکھائی دینے لگے۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مسٹر بندوق والا سے گفت گو ہوئی۔

مسٹر عظیم بندوق والا گویا مسلمانوں کی کمپیوٹر جنریشن‘‘ کے نمائندہ ہیں۔ انھوں نے صفائی کے ساتھ کہا کہ میرے گھر کے لوگ اگرچہ روایتی طور پر مند ہی رہے ہیں۔ مگر میں تو ایک ملحد (atheist) ہوں ۔ میں مذہب میں اعتقاد نہیں رکھتا:

Printed page