I don’t believe in religion.
Al-Risala, December 1995, pp. 31–45
By Maulana Wahiduddin Khan
سوالات کے دوران اندازہ ہوا کہ اس الحاد کے پیچھے کوئی گہرا شعور یا کوئی سوچا سمجھا فکر نہیں ہے، بس آزادی اس کا سبب ہے۔ ایسے نوجوانوں کو اینٹی مذہب سے زیادہ اینٹی اتھارٹی (anti authority) کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری نسل کے لوگ جب مل کر بیٹھتے ہیں تو وہ مذہب یا پالی ٹیکس کی بات نہیں کرتے۔ ان کی بات چیت کا موضوع فلم، کھیل، وغیرہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اپنے کو لاند ہب نہ کہئے بلکہ آزاد ی پسند کہئے۔ کیوں کہ آپ لوگوں کی لاند ہبیت کے پیچھے کوئی عقلی یا سائنٹفک دلیل نہیں ہے۔
یہاں انڈین ایکسپریس کا بڑودہ ایڈیشن (۱۲ نومبر ۱۹۹۹) دیکھا۔ اس میں لیٹرس کے کالم میں احمد آباد کے مسٹر سدھیر تر ویدی کا خط تھا۔ انھوں نے ایک صاحب کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا تھا کہ سردار پٹیل کو انڈیا کا لوہ پرش (Iron Man) کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ان کو سنہ پرش (Lion man) کہا جائے ۔ یعنی شیر ہند ۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے سر فضل الحق کو شیر بنگال کہا۔ کچھ لوگوں نے شیخ عبد اللہ کو شیر کشمیر کا لقب دیا۔ مگر شیروں کی اس کثرت کے باوجود ہمارے ملک کا کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کے بعد ہمیں دھاڑنے والے شیروں کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ایسے خاموش انسانوں کی ضرورت تھی جو تد بیر اور حکمت کے ساتھ ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنائیں۔
۱۲ نومبر کو دو پہر سے پہلے میں بڑودہ پہنچ چکا تھا۔ ایک بجے گیسٹ ہاؤس کا آدمی آیا۔ اس نے کہا کہ کھانا تیار ہے۔ میں کمرہ سے نکلا تو دروازہ کا تالا بند کرنے کے لئے چابی موجود نہیں تھی۔ آدمی سے کہا کہ "چابی تو تم نے دی نہیں"۔ اس نے جواب دیا: "چابی کا ضرورت نہیں صاحب! میں دروازہ مقفل کئے بغیر نیچے اتر گیا۔
کھانے کی میز پر میں اور پروفیسر رشید الدین صاحب (جامعہ ہمدرد تھے ۔ جو آدمی کھانا رکھ رہا تھا، اس سے میں نے نام پوچھا۔ اس نے کہا "عبد للہ بھائی" میں نے کہا کہ یہ تو اصل نام معلوم اس نے کہا کہ میرا اصل نام عبد الغنی ہے۔ یہاں لوگ مجھ کو عبد للہ بھائی کے نام سے پکارتے
پروفیسر رشید الدین ایک ذی علم اور تجربہ کار آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بہت سے قصے سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۴ کو کانپور میں علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک جلسہ تھا۔ اس جلسہ کے صدر جن ستا کے ایڈیٹر منسٹر پر بھاشش جوشی تھے ۔ پروفیسر رشید الدین اس میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر ہے ۔ علم، عقل، عدل، رحیمیت (compassion) ۔ پر بھاشش جوشی جو پہلے سے پروفیسر رشید الدین کو جانتے تھے، انھوں نے آخر میں اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ مجھے اگر پروفیسر رشید الدین جیسے ۱۰۱مسلمان مل جائیں تو میں اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔
پروفیسر رشید الدین نے الرسالہ مشن کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کا دل جیتا جائے ۔ آج ہمیں کنفرنٹیشن کی نہیں بلکہ پرسویشن (Persuasion) کی
۱۲ نومبر کی شام کو میں اپنے کمرہ کا پچھلا دروازہ کھول کر باہر آیا۔ یہ دروازہ ایک پارک کی طرف کھلتا تھا۔ دور تک پھول اور درخت اور ہریالی کا منظر تھا۔ میں نے سوچا کہ پارک اس گیسٹ ہاؤس کی عمارت کی رونق ہے۔ عمارت کے ساتھ اگر یہ باغ نہ ہو تو گیسٹ ہاؤس بالکل سونا دکھائی
یہ سوچتے ہوئے قرآن کی آیت یاد آئی : ومساکن طیبۃ فی جنات عدن۔ میں قرآن نے جنت کی منظر کشی کی ہے۔ یعنی جنت میں پاکیزہ مکانات ابدی باغوں میں ہوں گے۔ عمدہ مکان کے بارہ میں انسان کا تصور یہی ہے کہ وہ باغ کے درمیان ہو۔ انسانی تخیل آج بھی اس سے آگے نہ جاسکا ۔ قرآن یا اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس کی ہر بات اپنے آخری معیار پر ہے۔ کوئی فلسفی یا کوئی آرٹسٹ کسی بھی چیز میں قرآن کے معیار سے آگے کا معیار پیش کرنے پر قادر نہیں۔
۱۳ نومبر کی شام کو کھانے کا اجتماعی نظام جیوتی گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ مغرب کی نماز سے فراغت کے بعد پروفیسر رشید الدین، پروفیسر امریک سنگھ اور میں کار میں بیٹھ کر روانہ ہوئے۔
تقریباً آدھ گھنٹہ کاراستہ تھا۔ راستہ میں دونوں صاحبان بات کرتے رہے۔ میں زیادہ تر ان کی باتیں
پروفیسر امر یک سنگھ نے کہا کہ گری لال جین (سابق ایڈیٹر ٹائمز آف انڈیا) سے میری بہت باتیں ہوتی تھیں۔ وہ ہمیشہ اسلام کی مخالفت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام صرف اپنے کو بر حق بتاتا ہے، باقی جتنے مذ ہب رہیں سب اس کے نزدیک کمتر یا غلط ہیں۔ پروفیسر امر یک سنگھ نے ان کو جواب دیا کہ تم یہ نہ دیکھو کہ کتابوں میں کیا لکھا ہوا ہے۔ اصل یہ ہے کہ تمام آدمی سماجی دباؤ (social compulsion) کے تحت کام کرتے ہیں۔ مسلمان اس عام اصول سے مستثنی نہیں۔ مسلمانوں کو اپنے آپ معتدل بنا دیتا ہے۔
پروفیسر رشید الدین نے کہا کہ یہ صرف اسلام یا مسلمانوں کی بات نہیں۔ جب بھی آدمی کسی راستہ کو اختیار کرتا ہے تو اس کو یہی سمجھنا پڑتا ہے کہ یہی واحد راستہ ہے : It is the only right path. آدمی کو جب تک اپنے مذہب پر یقین نہ ہو وہ اس کو پوری طرح اختیار نہیں کر سکتا۔ اس لئے لوگوں کو اپنے اپنے یقین پر رہنے دیجئے ۔ البتہ ان کو یہ بتائیے کہ اپنے مذہب پر یقین رکھتے ہوئے تم دوسرے مذہب والوں کا احترام کرو۔
یہ باتیں ہو ہی تھیں کہ ہماری گاڑی جیوتی گیسٹ ہاؤس میں داخل ہوگئی۔ یہ شہری ماحول کے درمیان گو یا ایک نخلستان تھا۔ یہاں خوبصورت لان میں لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ باتیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد لوگوں نے کھانا کھایا۔ یہاں تمام لوگ صرف انگریزی زبان استعمال کر رہے تھے۔ یہاں ہر چیز انگلش معیار پر نظر آئی۔
میں نے سوچا کہ ہندوستان دو ہندوستان ہے۔ ایک وہ ہندوستان جس میں اس ملک کے ۹۵ فیصد لوگ رہتے ہیں۔ دوسرا وہ جس میں صرف پانچ فیصد لوگ آباد ہیں۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پونچھنا ہے۔ مگر آزادی کے بعد جو ہندوستان بنا وہ عملاً اس کے برعکس تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ ہندوستان ہو یا اور کوئی ملک، محض سیاسی حکمرانوں کی تبدیلی سے سماجی حالات نہیں بدل سکتے۔
کھانے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر آگئے ۔ خلاف معمول آج مجھے دیر میں نیند آئی۔ حالت اس انسان کی سی تھی جو نہ مروجہ ماحول میں خوش رہ سکے۔ اور نہ وہ دوسرا ماحول اپنے موافق بنانے پر قادر ہو۔
سیمنار میں شریک ہونے والے لوگوں سے ، نیز شہر کے اہل علم سے مختلف اوقات میں ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ ان سے جو باتیں ہوئیں ان میں سے کچھ مختصر طور پر یہ ہیں ۔ ایک ہندو پروفیسر نے کہا کہ جین دھرم کے بانی مہاویر ڈھائی ہزار سال پہلے پیدا ہوئے ۔ ان کا گرنتھ بہت دنوں تک زبانی طور پر چلتا رہا ۔ صرف ایک ہزار سال پہلے اس کو لکھا گیا ۔ کے وید اور بھی ہزاروں سال پہلے سے ہیں ۔ مگر وہ بھی صرف پہلی صدی عیسوی میں لکھے گئے ۔ ایسی حالت میں کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ جین دھرم اور ہندو دھرم کے جو گر نتھ پستکوں کی صورت میں ہمارے پاس ہیں وہ ٹھیک وہی ہیں جیسا کہ وہ شروع میں تھے ۔ زبانی روایت میں ہمیشہ بات بدل جاتی ہے ۔ اس لئے ان گرنتھوں میں بھی ضرور تبدیلی آئی ہوگی ۔ پھر انھوں نے کہا کہ قرآن میں بھی ضرور ایسا ہی ہوا ہوگا ۔ آج جو قرآن ہے وہ وہی نہیں ہو سکتا جو پیغمبر صاحب کے زمانہ میں تھا ۔ میں نے کہا کہ دوسرے مذہب کے گر نتھوں کے بارہ میں آپ کی بات درست ہے ۔ مگر قرآن کے بارہ میں تاریخی طور پر یہ بات درست نہیں ۔ کیوں کہ قرآن جب اترتا تھا اسی وقت وہ لکھ بھی لیا جاتا دوسرے مذہبی گرنتھوں کے برعکس ، قرآن وہ استثنائی کتاب ہے جس میں تلاوت اور تحریر یہ دونوں اول دن سے ساتھ ساتھ چل رہی ہے ۔ اس لئے قرآن میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں ۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ہم دنیا میں ایک بلین سے زیادہ ہیں ۔ اگر سب مل کر کام کریں تو ہم بہت بڑی طاقت بن سکتے ہیں ۔ اس کے بعد انھوں نے چند تجویزیں پیش کیں ۔ مسلم ممالک اپنے درمیان کا من ڈیفنس کا ایک نظام بنائیں ۔ مسلمان اپنی ایک عالمی نیوز ایجنسی قائم کریں ۔ مسلم ملکوں کی ایک یونائیٹڈ آرگنائزیشن ہو ۔ مسلم ملکوں کا ایک سنٹرل بینک بنایا جائے ۔ مسلم ملکوں کا ایک کامن مارکیٹ قائم کیا جائے اس قسم کی کچھ بڑی بڑی تجویزیں پیش کرنے کے بعد انھوں نے کہا :
A beginning has to be made. Let us make a beginning.
میں نے کہا کہ یہ آغاز نہیں ہے۔ آپ اختتام سے آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ آغاز تو ہمیشہ ابتدا ہی سے ہوتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے لئے ایک ہی نقطۂ آغاز ہے، اور وہ تعلیم ہے۔ ہمارے درمیان جب تک تعلیم عام نہ ہو جائے، کوئی بھی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض کی بات یہ تو مسلمانوںکی غیر تِ ملی کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ یہ غیرتِ ملی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ حیثیتِ ملی کا مسئلہ ہے۔
مسلمان عام معنوں میں کوئی قوم نہیں ہیں۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کی امت ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ ان کو دعوت کا وہ کام انجام دینا ہے جس کے لئے پیغمبر آیا کرتے تھے۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ہے نہ کہ ایک قوم اور دوسری قوم کا۔
مسلمان کی یہی حیثیت اس کے اوپر لازم کر دیتی ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں کی زیادتیوں پر صبر اس ملک میں مسلمان پندرہ فیصد ہیں اور غیر مسلم پچاسی فیصد۔ ایسی حالت میں لازماً ایسا ہوگا کہ دوسروں کی طرف سے مسلمانوں کو ناخوشگواری یا زیادتی کا تجربہ ہوگا۔ اس ناخوشگواری یا زیادتی کے مقابلہ میں انھیں دَعُ اَذَاهُمْ کے قرآنی اصول پر عمل کرنا ہے۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں تو اس کے بعد ان کا امت محمدی ہونا خدا کی نظر میں غیر متحقق ہو جائے گا۔ جو ماں اپنے بچہ کی باتوں کو برداشت نہ کرے وہ ماں ہی نہیں ایک طالب علم نے کہا کہ آج کا نوجوان پیچھے کی طرف نہیں دیکھتا۔ وہ صرف آگے کے بارہ میں میں نے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ ہمارے کتنے نوجوان ایسے ہیں جو سائنٹفک ریسرچ میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے تو آج تک کوئی اسٹوڈنٹ ایسا نہیں ملا جو یہ کہے کہ میں اپنی زندگی سائنسی ریسرچ کے لئے وقف کر دوں:
My intention is to devout my life in scientific research. میں نے کہا کہ پھر آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ آج کا نوجوان صرف پیہ یا کیریئر کے بارہ میں سوچتا ہے۔ یہ آگے کی طرف سوچنا نہیں ہے۔ آگے کی طرف سوچنا یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں ریسرچ کا شوق ہو۔
وہ نئی نئی چیزیں دریافت کرنا چاہتے ہوں ۔ وہ دنیا کو کوئی نیا سائنسی تحفہ دینے کا حوصلہ رکھیں۔ ۱۳ نومبر کی صبح کو ہم لوگ اپنی قیام گاہ سے وائیجیا بھون رریس کورس سرکل لے جائے گئے یہاں کے ہال میں ساڑھے نو بجے سمنار کا پہلا سشن شروع ہو رہا تھا۔ اس کے چیئرپرسن پروفیسررشیدالدین اس کا موضوع تھا ۔ کیا پالی ٹکس اور مذہب کو الگ کیا جا سکتا ہے؟ Can politics and religion be separated? انیس آدمیوں نے اس بحث میں حصہ لیا ۔ ایک صاحب نے کہا کہ سمنار گویا ذہنوں کا اختلاط (interaction of minds) ہے۔ تاہم میرا تجربہ ہے کہ یہ اختلاط تو ہے مگر وہ اتحاد نہیں۔ تعلیم یافتہ طبقہ کا ہر فرد خود پسند (egoist) ہوتا ہے۔ اس لئے تعلیم یافتہ لوگوں کو کسی ایک نقطہ نظر پر متفق کرنا انتہائی اس سمنار میں ہر آدمی نے کوئی ایک پہلو لے کر اس پر ایک خوبصورت تقریر کر ڈالی ۔ باتیں بطور مثال یہاں نقل کی جاتی ہیں :
ایک صاحب نے کہا کہ اجودھیا میں رام رحیم ٹرسٹ قائم کیا جائے۔ ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا کے تمام مسائل کی جڑ جہالت اور نا خواندگی ہے۔ کسی نے کہا کہ تمام مسائل کی جڑ اقتصادی پسماندگی ہے۔ کسی نے مذہب کو کسی لے پولیٹیکل کرپشن کو، کسی نے پارٹیشن کو کسی نے سیکولر کانسٹی ٹیوشن کو ساری خرابیوں کا ذمہ دار بتایا۔
میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ جس دن مذہب کو سیاست سے الگ کر دیا جائے گا اس دن انڈیا تباہ ہو جائے گا، دوسری طرف بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے ملانے ہی کی وجہ سے انڈیا تباہ ہوا ہے، اس لئے دونوں کو الگ کر دینا ضروری ہے۔ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے مذہب کو اس کے اصل پہلو کے لحاظ سے لیا تھا اور آجکل کے لوگ مذہب کو سیاسی استحصال کے لئے لے رہے ہیں۔
ایک صاحب کی بات کے جواب میں میں نے کہا کہ سیاست وہی ہے جو حالات کے اعتبار سے قابل عمل ہو۔ موجودہ حالات میں مذہبی سیاست قابل عمل نہیں۔ کیوں کہ اس کے موافق ذہنی فضا ملک میں موجود نہیں ۔ اس وقت ہم جن حالات کے درمیان ہیں اس میں قابل عمل سیاست صرف ایک ہے ، اور وہ سیکولر سیاست ہے۔
۱۳ نومبر کی سہ پہر کو دوسرا سیشن تھا۔ اس کا موضوع تھا: ہیومن رائٹس اینڈ ریلیجن۔ اس سیشن میں مجھ کو لیڈ اسپیکر بنایا گیا تھا۔ جب کارروائی شروع ہوئی اور میرے بولنے کا وقت آیا۔ تو میرے پاس بیٹھے ہوئے پروفیسر گوہن نے کہا کہ صبح کے سیشن میں آپ نے "ہندی" میں تقریر میرا تعلق کیرالا سے ہے اور میں ہندی بالکل نہیں جانتا۔ اس لئے آپ انگریزی میں بولیں تاکہ میں بھی سمجھوں :
Dr. S. Guhan, Institute of Development Studies 79, Second Main Road, Gandhi Nagar, Adyar, Madras 600 020 (Tel. 4914191) میں نے پہلے سے انگریزی میں بولنے کی تیاری نہیں کی تھی۔ مگر ڈاکٹر گوہن کے کہنے پر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے انگریزی ہی میں بولنا ہے۔ چنانچہ میں نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اس کے بعد تقریر شروع کی۔ خدا کے فضل سے دیر تک نہایت کانفیڈنس کے ساتھ انگریزی میں ڈاکٹر گوہن بہت خوش ہوئے۔ حتی کہ انھوں نے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی ۔ میں نے کہا کہ ان شاء اللہ آپ کو انگریزی لٹریچر بھیجنے کی کوشش کی جائے گی۔ میں نے ۹ نومبر کے ٹائمس آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مسٹر روسی مودی (Russi Mody) کا ایک بیان چھپا ہے۔ وہ ائیر انڈیا اور انڈین ایئر لائنز کے مشترک چیئر مین مقرر کئے گئے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ دونوں ہوائی کمپنیوں کے بڑھے ہوئے مسائل کو کس طرح حل 1. Soli Sorabjee, New Delhi 2. Madhu Mehta, Bombay 3. Maulana Wahiduddin Khan, New Delhi 4. Dharma Kumar, New Delhi 5. Veenaben, New Delhi 6. Kaokab Durry, New Delhi 7. Rasheeduddin Khan, New Delhi 8. Nirmal Verma, New Delhi 9. Satish Chandra, New Delhi 10. Amrik Singh, New Delhi 11. Nagindas Sanghavi, Bombay 12. Arvind Deshpande, Bombay 13. Nikhil Wagle, Bombay 14. Teesta Setalvad, Bombay 15. S. Guhan, Madras 16. M.N. Srinivas, Bangalore 17. Sofia Khan, Ahmedabad 18. Narayan Sheth, Ahmedabad 19. Manubhai Pancholi, Ahmedabad 20. Vishnu Pandya, Ahmedabad 21. Hasanali Firashta, Surat 22. Joseph Mecwan, Anand 23. Chunibhair Patel, Baroda 24. V.N. Kothari, Baroda 25. Tulsi Boda, Baroda 26. Bhaskar Vyas, Baroda 27. I.G. Patel, Baroda 28. Nanubhai Amin, Baroda 29. G.N. Devy, Baroda 30. Alaknanda Patel, Baroda 31. J.S. Bandukwala, Baroda 32. Sanjeev Shah, Baroda
کریں گے، خاص طور پر پائلٹوں کے مسائل جو آئے دن اسٹرائک کرکے سارانظام درہم برہم کرتے انھوں نے جواب دیا کہ میں یونین کے پاس صنعتی تعلقات پر لکھی ہوئی بہترین کتاب کے ساتھ یہ بائبل ہے۔ اس کے مشہور دس احکام میں سے دو یہ ہیں کہ دوسروں کے ساتھ وہی کرو جو تم اپنے لئے چاہتے ہو، اور اپنے پڑوسی سے اسی طرح محبت کرو جیسی محبت تم اپنے لئے پسند کرتے ہو :
میں نے کہا کہ یہ دونوں حکم تمام مذہبوں میں پائے جاتے ہیں اور یہ بلاشبہ سماجی اخلاقیات کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ اخلاقی اصول لوگوں کی زندگیوں میں آجائے تو تمام سماجی جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔
میرا مقالہ اور میری یہ تقریر دونوں ہی سمینار کے منتظمین نے اپنی رپورٹ کے ساتھ شائع کر دی ہیں۔ ان کا پتہ یہ ہے :
مسٹر الکنندا پٹیل (Alaknanda Patel) مسلم صوفیوں سے متاثر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفہ کا خلاصہ ایک لفظ " اخلاق " میں بتایا تھا۔ اور راما کرشنا دیونے دھرم کا خلاصہ ایک لفظ میں مہربانی بتایا : نئی دہلی کی وینا بہن (Tel. 4620066) نے یونیفارم سول کوڈ کے بارہ میں کہا کہ مسلمانوں کے اوپر جبراً ایک سول کوڈ لاگو کرنا اس وقت الٹا نتیجہ پیدا کرے گا۔ ان کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ آزادانہ طور پر خواہ یونیفارم سول کوڈ کے تحت اپنے نکاح کو رجسٹر کروائیں یا مسلم پرسنل لا کے تحت :
مسٹر دھومہتا نے کہا کہ پالیٹکس آج کریمنل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ پولیس کو اپنے مجرمانہ منصوبوں کے لئے ٹولی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو یہ کہنا پڑا کہ مجھ کو پولیس سے بچاؤ۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس مسٹروینکٹ چلیا (Mr. Venkatachelliah) نے کہا تھا کہ یہ رول آف لا) کے خاتمہ کا آغاز ہے:
بروڈہ یونیورسٹی میں اکنامکس ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر وی این کوٹھاری نے کہا کہ ہندوستان کی مسلم کمیونٹی ایک ایسے مسئلہ سے دوچار ہے جو شاید کسی بھی دوسرے ملک کی مسلم کمیونٹی کو ماضی میں وہ اس ملک میں ایک حکمراں اقلیت کی حیثیت رکھتی تھی۔ آج وہ ایک ایسی اقلیت ہے جس کو حاکمانہ حیثیت حاصل نہیں۔ مسلم جماعتیں عام طور پر اقتدار کی حیثیت میں رہی ہیں۔ ہندوستان میں اس نے یہ حیثیت کھو دی ہے۔ اب اس غیر حاکمانہ حیثیت کو تسلیم کرنا ان کے لئے مشکل ہو رہا ہے:
بمبئی کے مسٹر اروندیش پانڈے نے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک پمفلٹ تقسیم کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان کے کمیونل مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان ہندوستانی ایتھوز کو مانیں اور یہاں کے مذہب، عقائد، روایات اور ہندو ہیروؤں کا احترام کریں۔ اسی طرح ہندوؤں کو چاہئے کہ وہ قوم کو ذات، زبان، نسل، فرقہ وغیرہ سے اوپر
Muslims should accept the Indian ethos and respect for the faith, beliefes, heritage and heroes of Hindus. Hindus must put the nation above caste, language, race, sect, etc. سمینار میں ایک صاحب کی تقریر مجھے پسند آئی ۔ وہ بڑودہ شہر سے تعلق رکھتے تھے۔ نام و پتہ یہ ہے :
G.N. Devy, Department of English M.S. University, Baroda 390 002 انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ کانفلکٹ بھی پارٹ آف لائف ہے۔ اس دنیا میں کانفلکٹ فری سوسائٹی (Conflict-free society) ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں کانفلکٹ کے خلاف شکایت کرنے کے بجائے کانفلکٹ کے ساتھ جینے کا گر سیکھنا چاہئے پروفیسر امریک سنگھ نے کہا کہ دو قومی نظریہ کا الزام مسٹر محمد علی جناح پر نہیں جاتا۔ سب سے پہلے لالہ لاجپت رائے نے ۱۹۱۶ میں یہ کہا تھا کہ ہندوستان میں دو الگ قومیں آباد ایک ہندو ، اور دوسرے مسلمان ۔ تا ہم یہ بات نہایت عجیب ہے کہ کیوں مسٹر جناح نے اس کی تردید نہیں کی ۔ اور اس کے بجائے انھوں نے اسی کو اپنی تحریک کی بنیاد بنا لیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ جھگڑے کی جڑ تاریخی یادیں ہیں۔ کے دماغ میں یہ ہے کہ ہم نے ہندوستان کے اوپر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ کے دماغ میں ہے کہ مسلمانوں نے یہاں آ کر ہمیں ایک ہزار سال تک غلام بنائے رکھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو جھگڑے ہیں ان کو ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ سب کا ہیرو ایک ہو جائے۔ مسلمانوں کو ہندوؤں پر اسی طرح فخر ہونے لگے جس طرح خود ہندوؤں کو ہے۔ اس کے بغیر یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔
ایک سردار جی نے کہا کہ پارٹیشن نے مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہاں مسلمانوں کی پوزیشن ۲۵ فیصد تھی ۔ مگر ۱۹۴۷ کے بعد وہ کم ہو کر ۱۰ فیصد پر آ گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمانوں کو اس کا احساس ہو گا اور اس وقت یہ حال ہو گا کہ جس طرح روس میں لینن کا مجسمہ گرایا گیا
اسی طرح مسٹر جناح بھی مسلمانوں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جائیں گے۔
سمینار ۵ بجے شام کو ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ہم لوگ پر یمانند ساہتیہ سدن کے لئے روانہ میرے علاوہ مسٹر بندوق والا، مسٹر مدھو مہتا ، مسٹر ارونددیش پانڈے بھی ساتھ تھے۔ میں ملکی مسائل پر باتیں ہوتی رہیں۔
مسٹر ارونددیش پانڈے نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے جب جس کھنا نے مسٹر لال کرشن آڈوانی سے کہا تھا کہ " دیکھو آڈوانی، ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ میرے جیسے ہندو کو انڈیا میں رہتے ہوئے شرم مسٹر پانڈے نے بتایا کہ بھاجپا کے ایک لیڈر سے ان کی ایک گھنٹہ تک بات ہوئی ۔ باتوں کا وہ جواب نہ دے سکے۔ آخر میں مسٹر اروند دیش پانڈے نے ان سے کہا : " آئندہ جب انڈیا کی ہسٹری میں آپ کا نام درج کیا جائے گا تو آپ کے خانہ میں صرف دوکارنامہ لکھا جائے گا ایک یہ کہ مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ دوسرے یہ کہ آپ نے تاریخی بابری مسجد کو ڈھا دیا "۔ پر یمانند ساہتیہ سدن کے ہال میں میری تقریر کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ وسیع ہال پورا کا پورا بھرا ہوا تھا۔ نشست کا انتظام فرش پر کیا گیا تھا۔ اس جلسہ کا اعلان میرے نام کے ساتھ مقامی گجراتی اخبارات میں کر دیا گیا تھا۔ کافی لوگ اس میں شریک ہوئے۔ شرکاء میں ہندوؤں کے علاوہ مسلمان بھی
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کو مثبت سوچنے والا (Positive thinker) بنایا جائے۔ یعنی وہ انسان جو خلاف مزاج باتوں پر نہ بھڑکے۔ چیزوں کے درمیان معتدل طور پر رہ سکے۔ حتیٰ کہ اس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر دے۔ تفصیلی تقریر میں مختلف مثالوں سے اس حقیقت کو واضح کیا۔ صدر جلسہ ایک مقامی ہندو تھے۔ انھوں نے آخر میں بولتے ہوئے میری تقریر پر اپنی پسندیگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب مولانا صاحب بول رہے تھے تو ایسا معلوم پڑتا تھا جیسے مہمان رشی بول رہا ہے۔
جلسہ کے بعد اسٹیج سے اترا تو مختلف لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ کچھ مسلم نوجوانوں نے آٹو گراف لیا۔ ادھیڑ عمر کے ایک مسلمان جو ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور جن کے چہرے پر داڑھی بھی تھی،
انھوں نے قریب آکر پوچھا : آپ کا رسالہ ابھی نکل رہا ہے۔ اس عجیب سوال کا میں کوئی جواب نہ دے سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ پوچھ رہے ہوں : ”آپ کی موت ابھی واقع نہیں مذکورہ بزرگ کی طرف میں نے حیرانی کے ساتھ ایک نظر ڈالی اور پھر ان کو سلام کر کے خاموشی کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا جو مجھے قیام گاہ لے جانے کے لئے وہاں کھڑی ہوئی تھی۔ ۴ نومبر کی صبح کو نیند کھلی تو باہر پھیلے ہوئے درختوں کی قطاروں سے مختلف چڑیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ کوا ، کوئل اور بلبل وغیرہ۔ صبح کے سہانے میں یہ آوازیں عجیب کیفیت پیدا کر رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ خدا کے باغ میں کوے کی کائیں کائیں بھی ہے اور بلبل کے چہچہے یہاں کوئل کی کوک بھی ہے اور فاختہ کی غٹرغوں بھی۔ یہ خدا کی تخلیقی اسکیم ہے۔ اب جو لوگ انسانی زندگی میں یکسانی لانے کے لئے اس کے اوپر اپنا کلچرل رولر چلانا چاہتے ہیں وہ خدا کی تخلیقی اسکیم کی نفی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا منصوبہ فطرت کے خلاف ہے، اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔
۴ نومبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر پروفیسر رشید الدین خاں (جامعہ ہمدرد، نئی دہلی) کا ساتھ انھوں نے بتایا کہ جواہرلال نہرو کو اقبال کے یہ معنی خیز اشعار بہت پسند تھے، اور وہ اکثر ان کو اپنی تقریروں میں دہرایا کرتے تھے:
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا انڈین ایکسپریس کے بروڈہ ایڈیشن (۴ نومبر ۱۹۹۴) میں ایو دھیا پر ڈائرکٹر پرمستر کلدیپ نائر کا ایک مضمون چھپا ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندو یہ دعویٰ کرتے ہیں بابری مسجد کے مقام پر ایک رام مندر تھا، اس کو توڑ کر عین اسی مقام پر مسجد مسلمان اس دعویٰ کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس معاملہ میں وہ اس حد تک گئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسجد بنانے کے لئے مندر کو ڈھایا گیا تھا تو وہ خود اس کو چھوڑ دیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کون اس کو طے کرے کہ وہاں کون سی عمارت موجود تھی ، مندر یا مسجد۔
They (Muslims) have gone to the extent of saying that if it is proved that the temple was destroyed to raise the mosque, they would themselves disown it. Who is to decide? Which structure was there initially: temple or mosque? مسٹر کلدیپ نائر یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنا بھول گئے جو ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ کو نئی دھلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں پیش آیا تھا۔ یہاں بابری مسجد اور رام مندر کے سوال پر ایک مشترکہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں خود مسٹر کلدیپ نائر بھی موجود تھے۔ اس میں ہندو سائیڈ اور مسلم سائیڈ دونوں طرف کے لوگ شریک ہوئے ۔ یہ بحث کلیم اور کاونٹر کلیم کی صورت میں دیر تک چلتی رہی۔ آخر میں میں نے کہا کہ اس طرح کی بحث سے تو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ ثالثی آربٹریشن) کے اصول پر اس کو حل کیا جائے۔ میں نے کہا کہ تاریخ دانوں کا ایک بورڈ بنا دیا یہ بورڈ تاریخی جائزہ لے کر جس نتیجہ تک پہنچے اس کو دونوں فریق مان لیں۔ اس تجویز سے کلدیپ نائر سمیت ، شرکا کی اکثریت نے اتفاق کیا۔ قریب تھا کہ وہ اتفاق رائے سے منظور ہو جائے کہ عین اسی وقت بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر صاحب نے با آواز بلند کہنا شروع کیا کہ ہم اس تجویز کو نہیں مانتے ۔ اس کے بعد انھوں نے اتنا شور مچایا کہ مزید گفتگو جاری رکھنا چنانچہ مجلس چائے کے لئے اٹھ گئی اور کوئی بات طے نہ ہوسکی۔ میرے کمرہ میں ایک ٹی وی سیٹ رکھا ہوا تھا، مگر میں نے اس کو کبھی نہیں کھولا۔ ۱۱۴ نومبر کی صبح کو روانگی کے وقت تجربہ کے لئے میں نے اس کی سوئچ دبا دی تو اسکرین پر روشن حروف میں ہندی، اردو، انگریزی میں یہ الفاظ لکھ اٹھے :
نمستے جی ، خوش آمدید ، ہیلو۔
یہ انتظام شاید اس لئے ہوگا کہ آنے والا آدمی جب کمرہ میں داخل ہو کر اس کو کھولے تو وہ نئے آنے والے کو گیسٹ ہاؤس کی طرف سے استقبال کا کلمہ پیش کر سکے۔ مشین نے اپنا کام کیا۔ مگر مشین کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس وقت اسے اپنے مہمان کو الوداع کہنا ہے نہ کہ خوش آمدید۔
مشینی دماغ اور انسانی دماغ کا فرق یہی ہے۔ مشینی دماغ فیڈ کئے ہوئے سبق کو دہراتا ہے، جب کہ انسان خود اپنی سوچ کے تحت اپنا جواب وضع کرتا ہے۔
۴ نومبر کو واپسی کا دن تھا۔ صبح چائے سے فارغ ہونے کے بعد میں اور پروفیسر رشید الدین
صاحب ایک ساتھ روانہ ہوئے۔ ہماری گاڑی بڑودہ کی مختلف سڑکوں سے گزر رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف کہیں امیری کے مناظر تھے اور کہیں غریبی کے مناظر۔ میں نے سوچا کہ آدمی کا حال بڑا عجیب ہے اگر وہ غریب ہو، تو پست ہمت ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ خوش حال ہو، تو گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ نہ امیری میں معتدل رہتا ہے اور نہ غریبی میں۔
راستہ میں پروفیسر رشید الدین صاحب کی باتیں سنتا رہا۔ ان کی معلومات وسیع ہیں اور حافظہ بھی اچھا ہے۔ وہ چالیس سال کا تعلیمی تجربہ رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ نہایت وضع دار ہیں۔ گیسٹ ہاؤس سے نکلے تو انھوں نے وہاں کے آدمی کو حسب قاعدہ ٹپ دی۔ اسی طرح ایئر پورٹ پہنچے تو یہاں بھی وہ ڈرائیور کو ٹپ دینا نہیں بھولے۔
رشید الدین صاحب 1979 میں پاکستان گئے تھے۔ وہاں کے بارہ میں بہت سے لطیفے سناتے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک شاعر ہیں۔ ان کا تخلص فارغ ہے۔ ان کا ایک شعر رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ پاکستانی تجربہ کے بعد، ہی یہ شعر نکل سکتا ہے :
اب یوں لگتا ہے فارغ کہ عیاذ باللہ جیسے اسلام یزیدوں کے لئے آیا ہو انھوں نے دو شعر سنایا جو ان کے الفاظ میں گویا اس ملک میں اردو اور مسلمان دونوں کی کہانی کا خلاصہ 1905 میں داغ دہلوی نے فخر کے ساتھ کہا تھا:
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ ہندوستان میں دھوم ہماری زباں کی ہے آج کیا حال ہے، اس کا اظہار مجروح سلطان پوری کے ایک شعر سے ہوتا ہے۔ ان کی ایک نظم کا یہ شعر اردو زبان کی موجودہ حالت کی تصویر ہے :
نہ ہاں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروح ہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے ایک اور شعر انھوں نے مشاہد صدیقی کا سنایا۔ وہ حیدر آبادی تھے اور جگر مراد آبادی کے شاگرد انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا :
مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انھیں شعور نظر نہ تھا کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے اس طرح بات کرتے ہوئے ہم لوگ ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ بڑودہ سے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ 41 کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ ایک ہی پرواز ہے جو دہلی ۔ احمد آباد ۔ بڑودہ - دہلی کے درمیان
روزانہ چلتی ہے۔
راستہ میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ میگزین سو آگت (نومبر ۱۹۹۴) دیکھا۔ اس کے ہندی حصہ میں پہلا مضمون تھا مہان صوفی سنت ، حضرت نظام الدین اولیاء ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ دہلی کی مرکزی حکومت میں جو شخص بھی پرائم منسٹر بنتا ہے ، وہ درگاہ نظام الدین جاکر وہاں چادر ضرور چڑھاتا ہے۔ کیوں کہ عام عقیدہ یہ ہے کہ حضرت نظام الدین کی مرضی کے بغیر کوئی شخص دہلی پر حکومت نہیں کرسکتا۔ چنانچہ وہ سلطان جی کہے جاتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء ، ۱۲۳۸ء میں پیدا ہوئے اور ۱۳۲۵ء میں ان کا انتقال ہوا۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انھوں نے سب کو ہمیشہ مانو پریم کا سندیش دیا (صفحہ ۲۹)
انگریزی میں ایک مضمون مسٹر ہومی جے وکیل کے قلم سے تھا ، اس کی تصویریں مسٹر وی بالو نے فراہم کی تھیں۔ اس کا موضوع تھا تلاش امن :