In search of Peace
Al-Risala, December 1995, pp. 45–51
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مضمون میں اقوام متحدہ کے ادارہ امن کے لٹریچر سے ایک جملہ نقل کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چوں کہ جنگیں لوگوں کے دماغ میں شروع ہوتی ہیں ، اس لئے انسانی دماغ ہی سے ہمیں امن قائم کرنے کی کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے :
Since wars begin in the minds of men, it is there that we must begin to construct the defences of peace. (p. 12)
پر امن سماج بنانے کا ذریعہ پر امن انسان بنانا ہے۔ جب تک پر امن سوچ والے انسان وجود میں نہ آئیں پر امن سماج کا وجود بھی ممکن نہیں۔
۴ نومبر ۱۹۹۴ کی دوپہر کو جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ میں جہاں سے چلا تھا وہیں دوبارہ واپس آگیا۔ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ آدمی آخرت سے نکل کر دنیا میں آتا ہے اور دوبارہ پھر وہ آخرت کی طرف واپس چلا جاتا ہے۔ دنیا میں ہماری واپسی پر دیس سے گھر کی طرف ہوتی ہے ، آخرت میں ، ہماری واپسی عمل کی دنیا سے انجام کی دنیا کی طرف ہوگی۔ واپسی کے بعد بڑودہ سے چند خطوط ملے۔ مسز الکنندا پٹیل .Tel) جو سینار
کی آرگنائزّر تھیں، ان کے خط مورخہ ۲۰ نومبر ۱۹۹۴ء کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ اردو میں اپنا خط لکھنے کی کوشش کی۔ پہلی سطر میں لکھا "عزیز مولانا صاحب ، آداب" اس کے بعد اس طرح انگریزی میں شروع کیا :
حیدر آباد میں تعلیم یافتہ افراد کا ایک فورم پرجنابھارتی ہے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے حیدر آباد کا سفر کیا۔ وہاں ان کے دو خطاب ہوئے (۱) لونگ ودھ اسلام ان انڈیا۔ (۲) مسلم ایجنڈا۔ اس سلسلہ میں ورنگل، بیدر اور دون پرتی کا بھی سفر ہوا اور وہاں بھی عمومی خطابات ہوئے۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ یہ سفر یکم جولائی ۱۹۹۵ء کو شروع ہوا اور ۶ جولائی کو واپسی ہوئی۔ مسٹرانیل ساری اور مسٹر ایس این سنہانے ۷ جولائی ۱۹۹۵ء کو انگریزی ہفت روزہ ایشیا ویک کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کے سیاسی فکر سے تھا۔
ارن کول پروڈکشن (نئی دہلی) کی ٹی وی ٹیم نے ۱۱ جولائی ۱۹۹۵ء صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اغوا کرنے کا طریقہ اسلام میں جائز نہیں۔ حدیبیہ معاہدہ میں ایک دفعہ یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے۔ لیکن اگر کوئی مشرک مدینہ کے مسلمانوں کو مل جائے تو وہ اس کو واپس کر دیں گے۔ اس دفعہ سے معلوم ہوا کہ فریق ثانی اگر مسلمان کو ہاسٹیج بنا رہا ہو تب بھی مسلمان کسی غیر مسلم کو ہاسٹیج نہیں بنائیں گے۔ انڈین ٹیلیویژن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۳ جولائی ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ کامن سول کوڈ کا نفاذ نہ ممکن ہے اور نہ مفید۔
تو بھارت ٹائمٹس کے نمائندہ مسٹر گلشن رائے کھتری نے ۲۹ جون ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر حکومت قائم کرنا اس طرح نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی نہ کسی طرح سیاسی اقتدار پر قبضہ کر لیں اور اس کے بعد ڈنڈے کے زور پر مذہبی قانون نافذ کرنا شروع کر دیں۔ ایسا کرنے سے مذہبی نظام نہیں آئے گا۔ بلکہ فساد اور تخریب کا نظام آئے گا۔ جو لوگ مذہبی نظام قائم کرنا چاہیں ان کے لئے
نقطہ آغاز سیاسی اقتدار پر قبضہ نہیں ہے۔ بلکہ عوام کا مزاج بنانا اور سماج سدھار لانا ہے۔ 16 جولائی 1995ء کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سمینار ہوا۔ اس کا موضوع ساؤتھ ایشیا (انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، بھوٹان) کے درمیان کوآپریشن کے مسائل پر غور کرنا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک تقریر کی اور گفتگو میں حصہ لیا۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ ساؤتھ ایشیا کا ایک کنفیڈریشن بننا چاہئے۔
راجیو گاندھی فاؤنڈیشن (نئی دہلی) کے زیر اہتمام 28 جولائی 1995ء کو ایک آل انڈیا اس کا موضوع تھا: کمیونل وائلنس ان انڈیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور انگریزی میں ایک پیپر پیش کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ فرقہ وارانہ تشدد کو حکمت اور ضبط و تحمل کے ذریعہ کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
یونی فیکیشن اینڈ ورلڈ پیس کی طرف سے 30 جولائی 1995ء کو گاندھی آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں ایک سمینار ہوا ۔ اس کا موضوع تھا : ورلڈ پیس تھرو آئیڈیل فیملیز (معیاری خاندانوں کے ذریعہ عالمی امن) اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قرآن کی آیت خلق لكم من انفسكم ازواجاً لتسكنوا اليها وجعل بينكم مودة ورحمة (الروم 21) کی روشنی میں ایک تقریر کی ۔
نئی دنیا (دہلی) کے نمائندہ جناب عقیدت اللہ قاسمی نے 5 اگست 1995ء کو صدر اسلامی کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اس مسئلہ سے تھا کہ 1947ء سے پہلے علماء نے تقسیم ملک کی مخالفت کیوں کی۔ اور یہ کہ اسلامی نقطہ نظر سے تقسیم کا طریقہ مناسب تھا یا نہیں۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار آبزرو رکے نمائندہ مسٹر سریش نوٹیال نے 5 اگست 1995ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویولیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلے سے تھا کہ ہندوستان میں نیشنل سوچ اور نیشنل کیرکٹ کی حالت کیا ہے اور اس کو کس طرح ترقی دی جاسکتی ہے۔
جھروکا ویڈیو میگزین (گورگاؤں) کی ٹیم نے 6 اگست 1995ء کو صدر اسلامی مرکز کا
ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق مسلمانوں، ہند کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کے مسائل کا سبب کوئی خارجی ظلم یا تعصب نہیں ہے۔ اس کا سبب تمام تر یہ ہے کہ ناقص رہنمائی نے مسلمانوں کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ پیدا نہیں کیا۔ جب کہ تمام مسائل کا واحد حل حقیقت پسندانہ عمل ہے۔ ۱۲| آل انڈیا پروہیبشن کونسل کی طرف سے ۹ اگست ۱۹۹۵ کو ماؤلنکر ہال نئی دہلی میں ایک یہ شراب بندی کے موضوع پر تھا۔ اس کا عنوان تھا "شراب چھوڑو، دیش جوڑو" اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے۔ یعنی تمام برائیوں کی جڑ۔ اصلاح کے لئے شراب کو بند کرنا ضروری ہے۔ شراب کو تمام مذہبوںمیں برابتایا گیا اسلام میں اس کے لئے کڑی سزا مقرر کی گئی ہے۔
۱۳| ہندی روزنامہ جن ستہ(دہلی) (دہلی) کے نمائندہ مسٹر صفدر نے ۱۶ اگست ۱۹۹۵ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ فرقہ وارانہ جھگڑوں سے بچنے کی سب سے زیادہ مؤثر تدبیر یہ ہے کہ جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو باہر کے لیڈروں کو اس میں دخل دینے سے روکا جائے اور مقامی ہندو اور مسلمان آپس میں بات چیت کر کے معاملات کو طے کر لیں۔
۱۴| کرنال (سکندرپورماجرا) میں ۲۰ اگست ۱۹۹۵ کو "لائبریری اندولن" کے عنوان سے ایک جلسہ ہوا۔ اس کا مقصد گاؤں میں لائبریری اور ریڈنگ روم قائم کرنا تھا۔ اس کے آرگنائزر شری مول چند جین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مطالعہ اور حصول علم کے موضوع پر تقریر کی۔
۱۵| مسٹر ارن کمار پاٹھی نے ۲۴ اگست ۱۹۹۵ کو روزنامہ لوک مت سماچار (ناگپور) کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ملک کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ملک کو جس المناک حالات میں آزادی ملی وہ گویا ایک قسم کا قومی سڑک کے حادثات میں لوگ زخمی ہوتے ہیں لیکن ڈاکٹر انھیں دوبارہ اچھا
یہ ہمارے پولیٹیکل ڈاکٹروں کی ناکامی ہے کہ پچاس سال گزرنے بھی وہ قوم کو دوبارہ صحت مند نہ بنا سکے۔
۱۶ یواین آئی (ہندی) کی خاتون نمائندہ انا پور نا جھانے ۲۶ اگست ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مسلم مسائل سے بھی تھا اور ملکی مسائل سے بھی۔ کے جواب میں کہا گیا کہ ہندو اور مسلمان عام طور پر مل جل کر ہی رہتے ہیں۔ یہ کچھ اخبار اور کچھ لیڈر ہیں جو نفرت کی باتیں کر کے دوری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرقوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو فطرت ان کی رہنمائی کرے گی۔ اور فطرت کبھی غلط رہنمائی نہیں کرتی۔
یورپ کے ایک مسیحی ادارہ کے زیر اہتمام ۳۰ - ۳۱ اگست ۱۹۹۵ کو یروشلم میں ایک انٹرنیشنل مذہبی کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے یروشلم (فلسطین) کا سفر کیا اور وہاں "پالیسی آف پیس إن اسلام" کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
حلقہ الرسالہ کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بمبئی کا سفر کیا۔ وہاں یکم ستمبر - ۳ ستمبر ۱۹۹۵ وہاں دیگر پروگراموں کے علاوہ دو گھنٹہ کی ایک تقریر ہوئی جس کا عنوان تھا "مسائل ملت کا حل سیرت کی روشنی میں۔ " اس تقریر کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی۔ یہ ویڈیو کیسٹ مندرجہ ذیل پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن ، ۵۶ ٹانڈیل اسٹریٹ (نارتھ) ڈونگری ، بمبئی ۴۰۰۰۰۹ ۱۹ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز (واردھا) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے وہاں کا سفر کیا۔ اور ۸ ستمبر ۱۹۹۵ کو ملکی اور غیر ملکی نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے دو لیکچر دئے اور اسلام سے متعلق کثیر تعداد میں سوالات کا یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔ لکچروں کاعنوان یہ تھا: 1. The Spiritual Goal of Islam 2. Behaviour of a Muslim in his Environment
اسلامی حد بندی رسول اللہ اسوہ حسنة رزق کی تلاش