ایک سفر
Al-Risala, February 1995, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
مراکو (المغرب) کی راجدھانی رباط میں ملک الحسن الثانی کی طرف سے ایک سالانہ پروگرام یہ پروگرام ہر سال رمضان میں ہوتا ہے۔ اس میں مراکو اور عالم اسلام کے بڑے بڑے علماء شریک ہوتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ افطار سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اہل علم بڑی تعداد میں قصر سلطانی میں جمع ہوتے ہیں۔ سلطان بذات خود بھی اس میں شرکت کرتے ہیں۔ کوئی ایک عالم ۴۵ منٹ تک قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کو عنوان بنا کر اس پر خطاب آخر میں ملک الحسن الثانی کی دعا پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ اس کو الدروس الحسنیہ کہا جاتا ہے۔
رمضان کے بعد ان خطابات کا مجموعہ مراکو کی وزارت اوقاف کی طرف سے چار زبانوں میں شائع کیا جاتا ہے ــــــــ عربی، فرانسیسی، انگریزی، اسپینی۔ اس بار رمضان ۱۴۱۴ھ کے موقع پر مجھ کو دعوت نامہ ملا کہ اس پروگرام میں شرکت کروں اور ایک مقالہ وہاں پیش کروں۔ کے مطابق مراکو کا سفر ہوا۔ اس موقع کے لئے میں نے جو مقالہ تیار کیا وہ الیوم اکملت لكم دينكم کی قرآنی آیت پر مبنی تھا۔
۱۱ فروری ۱۹۹۴ کو صبح ۹ بجے کا وقت ہے۔ ابتدائی مراحل سے گزر کر میں دہلی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے گیٹ نمبر 1 کے سامنے بیٹھا ہوں اور گیٹ کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں۔ اتنے میں ایک مکھی آکر میرے اوپر بیٹھ گئی۔ مجھے یاد آیا کہ پچھلے مہینہ میں دو ہفتہ تک امریکہ میں رہا۔ مگر وہاں کسی بھی جگہ مجھے کوئی مکھی دکھائی نہیں دی۔ یہاں اندر اگاندھی ایئرپورٹ جیسے پرستیجس مقام پر بھی مکھی موجود پھر مجھے خیال آیا کہ مکھی کو ختم کرنا کوئی بہت بڑا انسانی کارنامہ نہیں۔ مکھی گندگی کو صاف کرتی ہے، جب کہ انسان گندگی پھیلاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مکھی کو ختم کرنے والے اور مکھی کو ختم نہ کرنے والے دونوں کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں ملے گا۔ کیوں کہ دونوں ہی جگہ کا انسان ابھی اصل معاملہ میں بہت پیچھے ہے۔
دہلی سے پیرس کے لئے روانگی ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۴۹ کے ذریعہ ہوئی۔ یہ جہاز فرینک فرٹ ہوتے ہوئے پیرس جا رہا ہے۔ قدیم زمانہ میں ۶۸۱۰ کلومیٹر کا سفر نو گھنٹے میں طے کرنا نا ممکن تھا۔ آج یہ ممکن ہو گیا ہے۔ عام طور پر اس کو ٹیکنیکل ترقی کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر بہت کم ایسے لوگ ہونگے جو یہ سوچیں کہ یہ دراصل ان امکانات کا کارنامہ ہے جو فطرت کے اندر پہلے سے موجود تھے۔ انسان نے صرف یہ کیا کہ خدا کی دی ہوئی عقل سے ان کو دریافت کرکے انہیں استعمال کیا۔ دہلی سے جہاز کی روانگی کا وقت نو بج کر ۳۰ منٹ تھا۔ مگر جب جہاز دہلی سے اڑا تو گھڑی میں دس بج کر ۳۰ منٹ ہو چکے تھے۔ یہ مجھے اس بات کی قیمت ادا کرنی پڑی کہ میں نے "دیش بھگتی‘‘ کی خاطر باہر کی کسی ایئر لائنز (مثلاً ایئر فرانس) سے سفر کرنے کے بجائے ایئر انڈیا کا انتخاب کیا۔ کمپنیاں عام طور پر بالکل ٹھیک وقت پر سفر کرتی ہیں۔ لیکن ایئر انڈیا اور انڈین ایئر لائنز دونوں کے لئے تاخیر ایک معمول کی بات ہو گئی ہے۔ پرواز شروع ہوئی تو ایئر ہاسٹس نے اعلان کیا ’’دیان کے لیٹ اڑانوں کے کارن اس دیری کے لئے ہم آپ سے چھما چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کی خرابیاں نہرو دور کی دین ہیں۔ نہرو کے سوشلزم نے ملک کو صرف ناقص کارکردگی اور کرپشن کا تحفہ دیا۔ سوشلزم یا اسٹیٹ کنٹرول والے سماج کا لازمی نتیجہ ہے، ذاتی محرک اور مقابلہ کے ماحول کا ختم ہو جانا۔ یہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ کے خلاف کوئی اسکیم کبھی مفید نہیں ہو سکتی۔ میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ نہرو کے نام نہاد سوشلزم نے پچاس سال میں ہندوستان کو اس سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جتنا کہ انگریزوں نے دو سو سال کی مدت میں اس ملک کو پہنچایا تھا۔ تاہم یہ ایک امید کی بات ہے کہ موجودہ حکومت لبرلائزیشن کی پالیسی اختیار کرکے اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ ہندی فلم دیکھیں گے یا انگلش فلم، کون سی فلم آپ کو دکھائیں۔ ‘‘ جہاز کے عملہ کے ایک صاحب نے پوچھا۔ میں نے کہا کہ نہیں، مجھے فلم نہیں دیکھنا ہے، میں تو یہ اخبارات پڑھوں گا۔ میری بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی، اس نے کم از کم تین بار مجھ سے یہی سوال کیا۔ آج کا انسان "منورنجن" کے لئے صرف ایک بات جانتا ہے اور وہ فلم ہے۔ اس کو علم نہیں کہ اس دنیا میں اس سے زیادہ بڑا ایک منورنجن ہے اور وہ علم ہے۔ علم کے اضافہ میں جو لذت ہے وہ کسی بھی دوسری چیز میں نہیں۔
علم جب معرفت کے درجہ کو پہنچ جائے تو اس کی یہ لذت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس کا کوئی حساب ہی نہیں۔ دوران سفرا ئیر انڈیا کا فلائٹ میگزین نمسکار ( جنوری - فروری ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون کا عنوان تھا : وطن کی طرف واپسی (The home coming)۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا کی اکانومی کے برلائزیشن کی اسکیم اور ریڈ ٹیپ میں کمی اور پرمٹ راج کو ختم کرنے کی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ نان ریزیڈنٹ انڈین کی واپسی کے لیے گویا فلڈ گیٹ کھل گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ، بیرونی ملکوں میں رہائش پذیر ہندوستانیوں کی تعداد ۱۲ ملین ہے۔ یہ لوگ تقریباً ۳۵ بلین ڈالر کی قابل سرمایہ کاری (investible) دولت رکھتے اب تک یہ لوگ اپنی دولت باہر لگانَا پسند کرتے تھے۔ مگر اب وہ ہندوستان میں سرمایہ کاری سے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔
پچھلی نصف صدی میں بے شمار بیرونی دولت جو ملک میں آسکتی تھی وہ باہر کی باہر رہ گئی۔ وہ ہندوستان کی خوش حالی میں اضافہ کا سبب نہ بن سکی۔ اس کی واحد وجہ ملکی صنعتوں کے لیے تحفظ (protection) کے نام پر بننے والے مصنوعی قوانین اور ضوابط تھے۔ ہندوستان کی جدید اقتصادی تاریخ کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اصلاح کے نام پر ہونے والا ایک عمل بھی کتنے بڑے فساد کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہی اصلاحی فساد مزید اضافہ کے ساتھ خود مسلم رہنماؤں نے بھی ساری مسلم دنیا میں برپا کر رکھا ہے۔
جہاز میں کئی اخبار پڑھے۔ ہندی اخبار نو بھارت ٹائمس (۱۱ فروری ۱۹۹۳) بھی موجود تھا۔ کے فساد کی خبر کی سرخی یہ تھی : کانپور میں سیناتینات ، ۱۵ تھانہ چھیتروں میں کرفیو ۔ میں اردو کا تعینات ہندی میں جاکر تینات بن گیا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سماج کے مختلف طبقات کے میل جول سے زبانیں کس طرح بدلتی رہتی ہیں۔
یہی تبدیلی قدیم زمانہ میں مذہب کی مقدس کتابوں میں بھی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہر مذہبی کتاب کے متن میں طرح طرح کے فرق واقع ہوگئے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات اس کا اصل ابتدائی مفہوم ہی خبط ہو کر رہ گیا ہے۔ مثال کے طور پر بائبل میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جن کے واقعی معنی معلوم نہیں۔ ان کا مفہوم صرف اٹکل سے قائم کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب: Historical Jesus
اس عمومی تاریخی ظہرہ میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ قرآن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت ہی سے اس کی کتابت اور حفظ دونوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس طرح قرآن میں مذکورہ قسم کی تبدیلی نہ ہوسکی۔
ایک ائیر ہاسٹس نے اپنا نام مسز اشرفی بتایا اور کہا کہ وہ ایک مسلم پیر کی مرید ہیں۔ ان سے پوچھا کہ آپ کی جو سروس ہے وہ آپ کے لئے بورنگ ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ ہمارے لئے تو یہ کام ایک ہابی بن چکا ہے۔ میں نے کہا کہ مگر میرا حال تو یہ ہے کہ میں فرسٹ کلاس کے سفر میں بھی سخت اکتاہٹ میں مبتلا ہو جاتا ہوں انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ایک جگہ بیٹھے یا لیٹے رہتے ہیں۔ ہم کو تو ہر وقت حرکت میں رہنا پڑتا ہے۔ ہر وقت ہمارے سامنے کوئی کام ہوتا ہے۔ ہم لوگ کسی بھی وقت اپنے کو غیر مصروف نہیں پاتے۔ یہ بات مجھے درست نظر آئی۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ہر وقت سرگرم رہنا کسی آدمی کو آپ ایک کمرہ میں بند کر دیں تو خواہ اس کمرے میں عیش و عشرت کا تمام سامان موجود ہو، وہ بہت جلد گھبرا جائے گا۔ انسان حرکت و عمل کے ماحول میں زندہ رہتا ہے۔ اس کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کے سامنے ہر وقت کوئی چیلنج یا کوئی عملی تقاضا موجود رہے جس میں لگ کر وہ محسوس کرے کہ میں نے ایک کام کیا۔ کسی فرد یا کسی قوم کو متحرک کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ اس کو ایک پروگرام دے دیا جائے جس پر اس کو یقین ہو اور جس کے لئے وہ اپنی صلاحیت کو متحرک کر سکے۔
یہ ہوائی جہاز کا فرسٹ کلاس ہے۔ ہر قسم کے پر راحت سامان اس کے اندر افراط کے ساتھ موجود تربیت یافتہ عورت اور مرد ہر وقت خدمت کے لئے حاضر ہیں۔ آپ صرف ایک بٹن دبا دیں اور ایک منٹ کے اندر ایک مستعد ائیر ہاسٹس آکر آپ کی ضرورت پوری کر چکی ہوگی۔ ایک عام آدمی ایسے حالات میں ہو تو اس کے چہرے پر سکون اور مسرت کی چمک واضح طور پر دکھائی دے گی۔ کہ وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: میں اس وقت ایک آسمانی محل میں ہوں۔ میرا معاملہ وہ ہے جس کو شاعر نے ان لفظوں میں نظم کیا تھا: