فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
Al-Risala, February 1995, pp. 30–46
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر عین اس کے درمیان اللہ کا ایک بندہ سراپا اضطراب بنا ہوا ہے۔ اس کے سینہ میں بے چینی کا طوفان برپا ہے۔ کوئی راحت اس کے لئے راحت نہیں، سکون کی کوئی چیز اس کے لئے سکون بخش نہیں۔
اس انتہائی فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عام لوگوں کی نگاہ جہاز کے سامان پر ہے، اور اس بندہ خدا کی نگاہ جہاز کی غیر محفوظیت (Vulnerability) پر۔ کیوں کہ جہاز کے اندر خواہ عیش وعشرت کا کتنا ہی زیادہ سامان جمع کر دیا جائے، یہ حقیقت اپنی جگہ باقی رہتی ہے کہ وہ آخری حد تک غیر محفوظ ہے۔ کوئی بھی اتفاقی حادثہ حتیٰ کہ فضا میں اڑتے ہوئے ایک گدھ کا اس سے ٹکرا جانا بھی پورے جہاز کی کامل تباہی کے لئے کافی ہے۔
یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خود موجودہ زمین کے اوپر انسان کا ہے۔ ہر آدمی یہاں اپنے لئے ایک کامیاب زندگی بنانے میں مصروف ہے۔ اگر جائز طریقے سے اس کے حوصلے پورے نہ ہو رہے ہوں تو وہ ناجائز طریقوں سے اپنے مقاصد کو سمیٹ لینا چاہتا ہے۔ کسی کو بھی اس حقیقت کی خبر نہیں کہ اس کے راحت کدہ سمیت پورا کرہ ارض ہر آن ایک بھونچال کی زد میں ہے۔ نو گھنٹہ کی پرواز میں ٦٨١٠ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہمارا جہاز فرینکفرٹ پہنچا۔ ہمارے سفر کی پہلی منزل تھی۔ ہندوستانی وقت کے لحاظ سے اس وقت ۱۱ فروری کے ساڑھے سات بجے کا وقت تھا، یہاں باہر کا ٹمپر یچر چار ڈگری سلسیس تھا۔ ہر طرف بادل چھائے ہوئے تھے۔ اور بارش کا پانی جگہ جگہ دکھائی دے رہا تھا۔ جہاز کا پورا عملہ یہاں اتر گیا۔ اور دوسرا عملہ اس کی جگہ آگیا۔
فرینکفرٹ جرمنی کا صنعتی شہر ہے۔ فرینکفرٹ کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک عظیم اور خوبصورت شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ یہ جرمنی کی ترقی کی ایک علامت ہے۔ مگر اس ترقی کے پیچھے بہت سی ناخوشگوار باتیں چھپی ہوئی ہیں۔ انہیں میں سے ایک بے روزگاری ہے۔ ۱۹۹۴ کو حکومت جرمنی کی طرف سے جو اعداد و شمار بتائے گئے ہیں ان کے مطابق اس وقت جرمنی میں بے روزگاروں کی تعداد چالیس لاکھ سے زیادہ ہے۔
انسانی صنعت کی ترقی اپنے ساتھ بہت سی ناپسندیدہ چیزیں لاتی ہے۔ مثلاً فضائی آلودگی،
بے روزگاری، وغیرہ۔ مگر اسی دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر خدائی صنعت قائم ہے اور وہ کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ آدمی اس حقیقت پر غور کرے تو بے اختیار وہ پکار اڑے گا: فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔
افروری کی شام کو جہاز ابھی فرینکفرٹ میں کھڑا ہوا تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو ہر طرف اندھیرا دکھائی دیا۔ میں نے سمجھا کہ سورج ڈوب چکا ہے۔ چنانچہ میں نے وضو کر کے مغرب کی نماز پڑھ لی۔ اس کے چند منٹ بعد جہاز اٹھ کر اوپر فضا میں پہنچا تو اچانک نظر آیا کہ سورج آسمان میں چمک رہا ہے۔ یہ معاملہ گہرے بادلوں کی وجہ سے پیش آیا۔ چنانچہ ہمارے نیچے بھورے رنگ کے بادلوں کی گہری تہ جمی ہوئی تھی۔ اوپر دن کا سماں تھا اور نیچے رات کا سماں۔ انسان کا مشاہدہ اکثر حالات میں کتنا زیادہ ناقص ہوتا ہے۔
فرینکفرٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قیام کے بعد آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ نسبتاً مختصر جلد ہی ہمارا جہاز پیرس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ یہاں میں ایئر انڈیا کے جہاز سے اتر کر کیوں کہ یہاں سے مجھے دوسرا جہاز لینا تھا۔
فرینکفرٹ سے پیرس کا سفر ۵۷۵ کلومیٹر کا تھا جو ایک گھنٹہ میں طے ہوا۔ ایئر انڈیا والوں نے دہلی سے میسج بھیج دیا تھا۔ چنانچہ میں جہاز سے باہر نکلا تو جہاز کے دروازہ پر ہی ایک فرانسیسی خاتون مجھے گائیڈ کرنے کے لئے موجود تھیں۔ ان کے ساتھ کاؤنٹر پر آیا۔ کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی ہوئی لیڈی نے پوچھا، کیا آپ کے پاس فرانس کا ویزا ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد میں نے پاسپورٹ نکال کر دکھانا چاہا تو اس نے فوراً کہا کہ بس، آپ کا کہہ دینا کافی ہے۔ یہ غیر ملک کا حال ہے۔ یہی اعتماد خود اپنے ملک میں ہم کو حاصل نہیں۔ نئے ایئر پورٹ پر ہمیشہ کئی مراحل طے کرنے مگر ان لوگوں نے ہر کام بالکل مشین کی طرح انجام دیا۔ مجھے خود کچھ نہیں کرنا پڑا۔ میں نے سوچا کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں جو اخلاقیات ہیں، اس کا راز کیا ہے۔ سمجھ میں آیا کہ یہ مشین کی روایات کا نتیجہ ہے۔ پچھلی صدیوں میں ان قوموں میں مشینی سائنس کا عمل بہت بڑے پیمانے پر ہوا۔ اس کے دوران یہاں حقیقت پسندی اور واقعیت کی مشینی روایات قائم ہوگئیں جو اب تک چلی جارہی ہیں۔ صنعتی ملکوں کی اخلاقیات در اصل مشینی کارکردگی
کا انسانی ایڈیشن ہیں۔ یہی اخلاقی ماحول خود ہندوستان میں ۱۹۴۷ سے پہلے تھا۔ وہاں یہ اخلاق مذہبی عمل سے بننے والی روایات کے دوران قائم ہوا تھا۔ آزادی کے بھو نچال میں ہمارے یہاں یہ روایات ٹوٹ گئیں۔ اس کے بعد کوئی نیا عمل جاری نہیں ہوا، جو روایت سازی کا کام کرنے والا ہو۔ چنانچہ پورا برصغیر ہند اعلیٰ روایات سے محروم ایک خطہ بن کر رہ گیا۔ پیرس ایئر پورٹ پر ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد مجھے ہلٹن ہوٹل جانا تھا جہاں ایئر انڈیا نے میرے لئے ایک کمرہ رزرو کرا دیا تھا۔ ۱۱ فروری کی شام کو مذکورہ فرانسیسی لیڈی نے کاؤنٹر کی کارروائی کے بعد مجھے ایک اور خاتون کے حوالے کیا اور کہا یہ آپ کو ایئر پورٹ سے باہر لے جاکر ٹیکسی کا انتظام کریں گی۔ یہ خاتون ایئر پورٹ کی عام خواتین سے کافی مختلف تھیں۔ انھوں نے بہت زیادہ ہمدردی کے ساتھ بقیہ مراحل طے کرائے۔ آخر وقت میں میں نے ان کا نام پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ سبینہ۔ میرا خیال ہے وہ کوئی مسلم خاتون تھیں۔ اگر چہ ان کے مذہب کے بارہ میں دریافت نہ کر سکا۔
ٹیکسی والا مجھ کو لے کر شہر کی طرف روانہ ہوا۔ سڑکیں نہایت عمدہ اور معیاری تھیں ۔ کے دونوں طرف کے شہری مناظر نہایت گرینڈ اسکیل پر نظر آئے۔ میرا ذہن اس کا تقابل دہلی سے کر رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ پیرس کے مقابلہ میں دہلی کی شہری حیثیت ایسی ہی ہے جیسے خود دہلی کے مقابلے میں ہندوستان کے کسی چھوٹے شہر کی۔
دہلی میں مجھے بتایا گیا تھا کہ ہلٹن ہوٹل ایئر پورٹ سے بہت قریب ہے۔ مگر کافی دیر ہو گئی اور ہوٹل ابھی تک نہیں آیا۔ ٹیکسی ڈرائیور مسلسل اپنی گاڑی دوڑائے چلا جا رہا تھا۔ میں نے اس سے انگریزی میں کہا کہ ہلٹن ہوٹل تو ایئر پورٹ سے بہت قریب ہے، تم مجھ کو اتنی دور کہاں لے جا رہے وہ فرنچ میں جواب دینے لگا اور بالکل وہی کیفیت پیدا ہو گئی کہ زبان یار من ترکی و من ترکی میں نے بار بار کہا کہ انگلش ۔ مگر وہ انگلش کے صرف کچھ الفاظ جانتا تھا۔ اس نے کہا: ہلٹن... اور لی ... تھری زیرو۔ ... نو پرابلم ... مسلم ... احمد و ... سینگال۔ میں نے اس کے الفاظ کو جوڑ کر سمجھا کہ وہ کہہ رہا ہے __ ہلٹن ہوٹل اور لی میں ہے۔ وہ یہاں سے ۳۰ میل دور ہے۔ میں وہیں جا رہا ہوں، کوئی فکر نہ کریں۔ میں مسلمان ہوں۔ میرا نام احمد وہے۔ میں سینگال سے آیا ہوں۔
آخر کار گاڑی ہلٹن ہوٹل کے سامنے رکی۔ ریسپشن نے ضروری کارروائی کی۔ انھوں نے ہی ایئر انڈیا کی طرف سے ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا۔ اس کے بعد ہوٹل کے ایک آدمی نے مجھے کمرہ نمبر ۲۲ میں پہنچا دیا۔ رات کے کھانے کے لئے یہاں کے مطعم میں گیا۔ طرح طرح کے کھانے تھے مگر سب فرانسیسی انداز کے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کھاؤں۔ مشکل سے تھوڑا سا کھایا اور کمرہ میں واپس آگیا۔ افروزی کو عشاء کی نماز ہلٹن ہوٹل کے کمرہ میں پڑھی۔ ہوٹل کا میگزین ہلٹن گیسٹ دیکھتے ہوئے اس کے ایک صفحہ پر نظر پڑی۔ اس میں عالمی بینکنگ کے ایک ادارہ کا اشتہار تھا۔ پہاڑی کے پس منظر میں بنی ہوئی ایک وسیع بلڈنگ کی تصویر تھی۔ بتایا گیا تھا کہ ہمارے دفاتر ہر جگہ اور ہر شہر میں موجود اس کے نیچے جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا ـــ آپ جہاں بھی ہوں آپ ہم سے زیادہ دور نہیں ہیں: Wherever you are, you are never far from Credit Suisse. میں نے سوچا کہ یہ الفاظ زیادہ صحیح طور پر آخرت کے معاملہ پر چسپاں ہوتے ہیں۔ انسان جہاں بھی ہو، وہ ہر لمحہ آخرت کی دنیا میں کھڑا ہو۔ اپنے کسی بھی لمحہ دروازہ کھلے گا اور وہ اچانک اس کے اندر داخل ہو جائے گا۔
فرانس اور انگلینڈ کے درمیان انگلش چینل حائل ہے۔ دونوں کو ملانے کے لئے اس سمندری حصہ کے نیچے لمبی سرنگ (tunnel) بنائی جارہی ہے۔ ابتداً اس کا کام ۱۸۸۰ میں شروع ہوا۔ مگر اس کے بعد یہ کام رک گیا۔ دوبارہ یہ کام ۱۹۸۵ میں شروع ہوا۔ یہ کام انگلینڈ اور فرانس کی حکومتوں کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اس کا نام یورپی سرنگ (Eurotunnel) ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کی تکمیل میں ۵ ۵ سال لگ جائیں گے۔ اس کے بعد ایک کار صرف ۳۵ منٹ میں فرانس سے انگلینڈ پہنچ جائے گی جبکہ سمندری کشتیوں کے ذریعہ ادھر سے اُدھر پہنچنے میں تقریباً ۵۰ منٹ لگتے ہیں۔ زیر تعمیر سرنگ تقریباً دو ہزار میٹر لمبی ہوگی۔ وہ جدید ترین ٹکنیک کے ذریعہ تیار کی جارہی ہے۔
مغربی ملکوں میں مسلسل نئی ریسرچ ہوتی رہتی ہے۔ جاپان میں یہ مشینی طریقہ رائج ہو چکا ہے کہ ایک آدمی اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو استعمال کئے بغیر آواز کو پہچاننے والے مخصوص کمپیوٹر (voice-recognising computer) کے سامنے اپنا خط ڈکٹیٹ کرتا ہے اور وہ اپنے آپ اس کو ٹائپ کرتا چلا جاتا ہے۔ اب ایسے ٹیلی فون بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ریسیور کو ہاتھ میں
لے کر اس کے سامنے بولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپ بس اپنے ٹیلی فون سے بول کر کہیں گے کہ مجھے فلاں سے بات کرنا ہے۔ وہ اپنے آپ اس کا نمبر معلوم کر کے اس کو ڈائل کرے گا اور پھر صرف بول کر آپ کی اس سے گفت گو شروع ہو جائے گی۔ گویا کار چلاتے ہوئے آپ کو اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ آپ وہیل سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اپنا موبائل ٹیلی فون ڈائل کریں۔
کویت کے عربی ماہنامہ الوعی الاسلامی (رمضان ۱۴۱۳ھ، فروری ۱۹۹۳ء) میں ایک عربی مقیم پیرس کا مضمون (رمضان في فرنسا) چھپا تھا۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ فرانس کے مسلمان طرح طرح کے باہمی اختلافات میں مبتلا ہیں۔ مثلاً فرانس میں دو بڑی مسلم تنظیمیں ہیں، اتحاد المنظمات الاسلامیہ اور المعهد الاسلامی مسجد باریس۔ رویت ہلال کے بارہ میں دونوں کے اعلانات اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ ایک ہی مسجد میں کچھ لوگ روزہ دار ہیں اور کچھ لوگ بے روزہ (وترى احياناً فی المسجد الواحد قوماً صائمين و آخرين مفطرين، اس صورت حال نے اغیار کی نظر میں اسلام کو مذاق بنا دیا ہے۔
فرانس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً پانچ ملین ہے۔ ان مسلمانوں کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ دین رحمت کے داعی بنتے مگر نام نہاد انقلابی لیڈر انہیں اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کے راستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ مکہ کے ہفت روزہ اخبار العالم الاسلامی (۲۴ جنوری ۱۹۹۳ء) کے انگریزی صفحہ پر ایک رپورٹ فرانس کے بارہ میں ہے، اس میں یہ الفاظ درج ہیں: Some fanatic and fundamentalist Muslims are harming Islam more than the پچھلے دنوں یہ خبر تمام دنیا کے مسلم اخباروں میں چھپی تھی کہ فرانس کے ایک شہر (Namuta) کے اسکول (Xavier Bichat High School) میں مراکو کی دو لڑکیوں فوزیہ (۱۱ سال)، فاطمہ (۱۳ سال) کو نکال دیا گیا۔ ان لڑکیوں کو اسکول کی طرف سے ستمبر ۱۹۹۳ میں یہ نوٹس دی گئی تھی کہ وہ سر پر اسکارف باندھ کر اسکول نہ آئیں۔ مگر ان لڑکیوں نے اپنے باپ کی ہدایت پر اس سے انکار کر دیا۔ یہ معاملہ چلتا یہاں تک کہ ۵ نومبر ۱۹۹۳ کو ان لڑکیوں کو اسکول سے خارج کر دیا گیا۔ جس طرح اسکارف کے معاملہ میں مسلمانوں کا نقطۂ نظر مغرب کے خلاف ہے، اسی طرح ٹی وی
کے معاملہ میں مسلمانوں کا نقطہ نظر شدید طور پر مغربی تہذیب کے خلاف ہے۔ میں نے یورپ اور امریکہ کے سفروں میں دیکھا کہ اکثر مسلمان باپ ٹی وی کو اپنے بچوں کے لئے سخت مضر سمجھتے ہیں۔ نے کہا کہ ٹی وی ہمارے بچوں کے لئے ایک شیطانی معلم ہے۔ اس کے باوجود تمام مسلمان باپ اپنے گھروں کو خوبصورت ٹی وی سیٹ سے سجائے ہوئے ہیں۔
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ کیوں وہ اسکارف کے معاملہ میں شدید ہیں اور ٹی وی کے معاملہ میں شدید نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی غیر مسلم اسکول میں جب ایک مسلمان لڑکی کو اسکارف پہننے سے روکا جائے تو یہ مسلمانوں کے لئے اہانت کا کیس بن جاتا ہے۔ اور خود مسلمان اپنے گھروں میں اسکارف کی مخالف تہذیب کا نمائندہ (ٹی وی) کو لاکر رکھیں، یا خود اپنی لڑکیوں کو اسکارف کے بغیر بازار میں گھومنے کی اجازت دیں تو وہ اہانت کا معاملہ نہیں بنتا۔
یہی صورت ہندوستان میں بابری مسجد کے معاملے میں پیش آئی۔ اکثر مسلم ملکوں میں سیکڑوں کی تعداد میں مسجدیں ڈھائی گئی ہیں اور مسجد کی جگہ سڑک یا اور کوئی چیز بنا دی گئی ہے۔ کے اوپر نہ ہمارے علماء نے کوئی بیان دیا۔ نہ انھوں نے ان مسلم ملکوں کا بائیکاٹ کیا اور نہ ان واقعات پر کوئی ایجی ٹیشن چلایا گیا۔ مگر بابری مسجد کا مسئلہ چوں کہ غیروں نے پیدا کیا اس لئے وہ مسلمانوں کے لئے اہانت کا کیس بن گیا اور تمام مسلمان اس پر بھڑک اٹھے۔
قومی اہانت کے واقعہ پر بھڑکنا اور اسلام کے تقاضوں کے مجروح ہونے پر نہ بھڑکنا، یہ خدا پرستی نہیں ہے بلکہ قوم پرستی ہے۔ اور قوم پرستی کا مذہب خدا کے یہاں مقبول نہیں خواہ اس کے اوپر اسلام کا لیبل لگا دیا گیا ہو۔
علمی اعتبار سے آج فرانس اور مسلم دنیا میں کوئی نسبت نہیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان فرانس صرف اس لئے جاتے ہیں کہ وہاں کمائیں یا اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ مگر آٹھ سو سال پہلے صورتحال اس سے بالکل مختلف تھی۔
اسٹین لی لین پول (Lane-Poole) نے اس زمانہ کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فرانس، جرمنی، انگلینڈ اور یورپ کے ہر حصہ سے طلبہ اسپین جاتے تھے تاکہ علم کے اس سر چشمہ سے سیراب ہوسکیں جو اس وقت صرف مسلم شہروں میں بہہ رہا تھا :
فرانس کے شہر نموتہ (Namuta) میں ایک اسکول ہے جس کا نام ہے زیو برشا ت اسکول (Xavier Bichat High School) یہاں ۵ نومبر ۱۹۹۳ کو یہ واقعہ ہوا کہ مراکو کی دو لڑکیاں فوزیہ (۱۱) سال، اور فاطمہ (۱۳ سال) اسکول سے خارج کر دی گئیں۔ وہ سر پر اسکارف باندھ کر آتی تھیں۔ کے ذمہ داروں نے انھیں منع کیا، کیوں کہ یہ ان کے اسکول کے آداب کے خلاف تھا۔ اپنے باپ میمون عقیل کی ہدایت پر یہ حکم ماننے سے انکار کیا۔ اس کے بعد انھیں اسکول سے خارج کر دیا گیا۔
تمام دنیا کے مسلم اخباروں میں اس پر احتجاجی رپورٹیں شائع ہوئیں ۔ اس کو یورپ کی اسلام دشمنی پر محمول کیا گیا۔ کہا گیا کہ یورپ مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا بدلہ لینا چاہتا ہے اور اسکارف کی مخالفت اس انتقامی عمل کا آغاز ہے۔ رباط کے ایک عربی ہفت روزہ الرایہ (۲۴ رمضان ۱۴۱۴ھ ، ۱۵ فروری ۱۹۹۳ء) میں میں نے استاذ ابر اہیم الغشبانی کا ایک مضمون اس کی بابت پڑھا اس کا عنوان تھا : اور با تخوض حربا ضد وجود الاسلام۔ یعنی یورپ نے اسلام کے وجود کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ لڑکیوں کے والد میمون عقیل نے کہا کہ ہم اسلامی لباس کیوں کر چھوڑ سکتے حالاں کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور جو اس پر عمل نہیں کرے گا خدا اس کو سخت عذاب دے گا۔ (العالم الاسلامی، مکہ، ۱۵ جنوری ۱۹۹۴ء)
ایک طرف فرانس بلکہ سارے یورپ کے خلاف یہ غوغا ہے۔ دوسری طرف مراکو میں دو ہفتہ تک وہاں میں نے اسکول اور کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات کو دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ہر جگہ مراکشی لڑکیاں عام طور پر کھلے سر کے ساتھ گھوم رہی ہیں۔ فرانس میں لڑکیوں کا سر کھلا ہونا اسلام کے لئے خطرہ تھا مگر اپنے وطن میں سر کھولنے کے باوجود اسلام پوری طرح محفوظ تھا۔ فرانس کا اقتدار ایک عرصہ تک افریقہ میں رہا ہے۔ مثلاً مالی میں ۷۵ سال تک فرانس کا اقتدار قائم تھا۔ سعودی عرب میں مالی کے سفیر ڈاکٹر محمود الزبیر کا ایک انٹرویو ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۹ شعبان ۱۴۱۴ھ) میں چھپا ہے۔ انٹرویو رنے پوچھا کہ مالی لمبی مدت تک فرانسیسی
استعمار کے تحت رہا ہے ، اس کے اثرات ملک کے عوام پر کیسے تھے ۔ سفیر مذکور نے جواب دیا کہ فرانس نے مالی کے مسلمانوں کی دینی شخصیت کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے لئے انھوں نے اسلامی مدارس کو ختم کرکے فرانسیسی اسکول قائم کئے۔ اس کی وجہ سے مالی کی نسل تعلیم سے محروم کیوں کہ لوگوں نے اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں نہیں بھیجا:
فقضوا على التعليم الاسلامي وفتحوا بدلا من المدارس الاسلامية مدارس فرنسية وهذا ما جعل السكان يبقون اولاد هم بدون تعليم علی ان يلحقوهم بتلك المدارس. یہی واقعہ خود ہندوستان میں بھی پیش آیا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی صحیح پالیسی نہیں۔ تعلیم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ایک دن کے لئے بھی اس کو روکا نہیں جا سکتا۔ ایسے حالات میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ زمانی تعلیم کے لئے طلبہ کو اسکولوں اور کالجوں میں بھیجا جائے۔ مگر اسی کے ساتھ گھر پر یا شبینہ مدارس کی صورت میں دینی تعلیم کا طاقت ور انتظام کیا جائے۔ ایسے حالات میں مسلمان کے لئے علیحدگی نہیں ہے بلکہ مقابلہ ہے۔ بدقسمتی سے اکثر لوگ مقابلہ کے نام سے صرف مسلح تکراؤ کو جانتے ہیں وہ تدبیری جدوجہد کی اہمیت سے واقف نہیں۔
فرانس سے نپولین بونا پارٹ کا نام وابستہ ہے۔ وہ ۱۷۶۹ء میں کورسیکا میں پیدا ہوا، اور ۱۸۲۱ میں جزیرہ سینٹ ہیلینا میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ مغرب کی تاریخ میں چند انتہائی نمایاں شخصیتوں میں سے ایک ہے۔ اس نے فرانس کا اقتدار یورپ کے بڑے حصہ پر قائم کر دیا تھا۔ تاہم اس کا آخری انجام یہ ہوا کہ اس کے حریف انگریز نے اس پر قابو پا کر اس کو جنوبی اٹلانٹک کے ایک جزیرہ میں نظر بند کر دیا۔ اور وہیں اس کا انتقال ہو گیا۔
ایک شخص جس نے ۲۰ سال تک واقعات سے بھری ہوئی زندگی گزاری، جو اپنی طاقتور فوج کے ساتھ زمین کے پورب اور پچھم ، اتر اور دکھن مارچ کرتا رہا۔ وہ آخر کار ایک چھوٹے سے جزیرہ میں تنہائی کی حالت میں مر گیا۔ جزیرہ کی قید کے زمانہ میں اس کو ایک برطانی افسر کے ہمراہ پورے جزیرہ میں چلنے پھرنے کی اجازت تھی۔ مگر ہمراہی کی شرط کو اس نے قبول نہیں کیا۔ زیادہ تر وقت وہ اپنے گھر پر گزارتا رہا۔
قید کے زمانہ میں اس نے انگریزی سیکھنا شروع کیا۔ اس نے اتنی انگریزی سیکھ لی کہ وہ
انگریزی کا اخبار پڑھنے لگا۔ ۵ مئی ۱۸۲۱ کو اس کی حالت زیادہ خراب ہوئی۔ آخر وقت میں وہ کوئی مربوط کلام بولنے کے قابل نہ تھا۔ اس کی زبان سے حسب ذیل الفاظ غیر مربوط طور پر سنے گئے۔ فوج کا سردار:
My God... The French nation.. my son... head of the army. شام کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کی عمر بمشکل ۵۲ سال تھی۔ اس کے جنازہ میں صرف چند آدمی سینٹ ہیلینا کے ایک گوشہ میں اس کو دفن کر دیا گیا۔ اس کی قبر پر جو کتبہ لگایا گیا، اس پر اس کے نام کے بغیر صرف یہ دو لفظ لکھے ہوئے ہیں: یہاں مدفون ہے (Here lies) موت کا قانون اسی طرح ہر آدمی کی نفی کر رہا ہے۔ وہ ہر نامور کو بے نام بنا رہا ہے۔ جتھے والے کو بے جتھا کر رہا ہے اور ہر ملک والے کو بے ملک۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا اعلان ہے جو ہزاروں سال سے اس زمین پر کیا جا رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس کو سنے۔ کوئی نہیں جو اپنے مستقبل کو اپنے حال میں دیکھ لے۔
۱۲ فروری کی رات ہوٹل کے کمرہ میں گزری۔ سو کر اٹھا تو حوائج سے فارغ ہو کر وضو کیا۔ دو رکعت نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو بے اختیار یہ الفاظ زبان پر آ گئے: خدایا، دو رکعت نماز قبول فرمائیے فرانس کی سرزمین پر جہاں بارہ سو سال پہلے اسلام کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی روک دی گئی۔
ہوٹل کی طرف سے ہر پندرہ منٹ پر ایک کوچ ایئر پورٹ کی طرف جاتی ہے۔ اس سے روانہ ہو کر اور لی ایئر پورٹ پہنچا۔ یہاں سے ایئر فرانس کی فلائٹ ۸۸۷ کے ذریعہ کیسابلانکا کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں فلائٹ میگزین ایئر فرانس دیکھا۔ یہ فرانسیسی اور انگریزی دو زبانوں میں تھا۔ ایک مضمون یورپ کے بارہ میں تھا۔ اس میں آغاز کے وقت سے بتایا گیا تھا کہ جب زمین خشکی اور تری میں تقسیم ہوئی، اس وقت یورپ کا جغرافی نقشہ کیا تھا۔ پھر تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ نیچر نے یہاں کیا کیا وسائل جمع کئے ۔ ان وسائل کی فہرست دیتے ہوئے آخر میں کہا گیا تھا کہ ان کے علاوہ وہ ایک اور چیز بھی جس کو الفاظ میں بتایا نہیں جاسکتا: ...and another substance that language cannot describe.
اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ہر چیز کا ہے، حتی کہ گھاس اور مکھی جیسی چیزوں کا ہر چیز بے شمار عناصر کا مجموعہ ہے۔ اس میں سے کچھ کو ہم اپنی زبان میں کسی حد تک بتاتے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ ہر چیز میں کچھ اور عناصر ہیں جن کو انسانی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انٹرنیشنل ہیرالڈٹریبیون (۱۲-۱۳ فروری ۱۹۹۴) کا پیرس ایڈیشن دیکھا۔ اقوام متحدہ کے فیصلہ کے تحت بوسنیا کی جنگ کو روکنے کے لئے فوجی اقدام کیا ہے۔ آج کے اخبار میں کئی خبریں اور تصویریں اس کے بارہ میں تھیں۔ ایک رپورٹ میں اس علاقہ کے لوگوں کے تاثرات نقل کئے گئے تھے۔ بوسنیا کے ایک ۵۸ سالہ مسلمان (Ferid Hodzic) نے کہا کہ پچھلے دو دن سے میں محسوس کر رہا ہوں جیسے کہ جنگ ختم ہو گئی اور سرایجی و میں امن واپس آرہا ہے :۔ The last two days, I have been feeling like the war is over and peace is returning خدا کرے کہ بوسنیا ہرزیگووینا میں جنگ کی تباہ کاری ختم ہو جائے اور وہاں دوبارہ امن کا دور آ جائے۔
پیرس سے کیسا بلانکا جاتے ہوئے میری سیٹ کے قریب ایک تندرست فرانسیسی بچہ تھا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ایسا انسان بھلا ارتقا کے بے شعور طبیعی قانون کے ذریعہ کیسے بن سکتا ہے۔ ارتقا تو ایک مفروضہ اندھا قانون ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور ذہین وجود ہے۔ انسان مل کر بھی گھاس کی ایک پتی کی تخلیق نہیں کر سکتے۔ پھر اگر ایک معلوم وجود تخلیق کی قدرت نہیں رکھتا تو ایک نامعلوم وجود ذات اتنے عظیم اور اتنے بامعنی عالم کو کس طرح پیدا کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتقا کا نظریہ بے معنی الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں۔
پیرس سے کیسا بلانکا کا سفر ڈھائی گھنٹہ کا تھا۔ اس دوران جہاز نے ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر میں کل ایشیا سے روانہ ہوا تھا۔ پھر میں یورپ پہنچا۔ اور اب میں افریقہ کی زمین پر پہنچ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ مجموعی مدت پرواز کے لحاظ سے اس سفر میں ساڑھے بارہ گھنٹے صرف ہوئے۔ کیسا بلانکا میں وزارت الاوقاف والشئون الاسلامیہ کے نمائندہ کے طور پر ایک صاحب موجود ائیر پورٹ سے ان کے ساتھ رباط کے لئے روانہ ہوا۔ تقریباً ایک سو کلومیٹر کا راستہ شروع سے
لے کر آخر تک نہایت شاندار ہے۔ عمدہ سڑک کے دونوں طرف سر سبز ماحول دور تک پھیلا ہوا تھا۔ مراکو کے اوپر سے سیاسی اقتدار اگر چہ ختم ہو گیا ۔ مگر فرانس کا اقتصادی غلبہ مراکو کے اوپر بدستور اس کا اندازہ مجھے مراکو میں داخل ہونے سے پہلے اس وقت ہو اجب کہ جہاز کے اندر ایمبارکیشن / ڈس ایمبارکیشن فارم پر کرنے کے لئے دیا گیا۔ اس فارم کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ فرانس میں چھپا ہوا(Printed in France) قدیم زمانہ میں کسی ملک سے سیاسی اقتدار ختم ہونے کے بعد ناممکن ہو جاتا تھا کہ اس کو دور سے قائم رکھا جا سکے۔ مگر آج صنعتی ترقی کے بعد ایسا کرنا عین ممکن ہو گیا ہے۔ رباط میں میرا قیام ہوٹل (Hyatt Regency) کے کمرہ نمبر ۳۰۷ میں تھا۔ یہاں میں نے ۱۳ فروری کو رمضان ۱۴۱۴ھ کا پہلا روزہ رکھا۔ ایک عرب نوجوان سے گفت گو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ روزہ کا مقصد انسان کو یہ بتانا ہے کہ دنیا میں جو چیزیں ہیں ان سب کا مالک خدا ہے ، انسان کسی بھی چیز کا مالک نہیں۔ خدا نے اپنی اس حیثیت کو بتانے کے لئے کھانے پینے کو بطور علامت اختیار کیا۔ روزہ کا مقصد آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرنا ہے کہ خدا نا ہے، تو ہی ہر چیز کا جب تو نے روکا تو میں رک گیا ، اور جب تو نے اجازت دی تو میں نے ان کو استعمال کیا۔ کیسابلانکا (عربی: الدار البیضاء) مراکو کا قدیم شہر ہے۔ اس کا یہ نام پرتگالیوں اور اسپینیوں نے رکھا تھا۔ بارھویں صدی عیسوی میں وہ صرف ایک گاؤں تھا۔ آج وہ قاہرہ، اسکندریہ، بغداد کے بعد عرب دنیا کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ ۱۹۱۲ سے ۱۹۵۶ تک وہ فرانس کی ماتحتی میں رہا۔ فرانسیسی زبان اور فرانسیسی تہذیب کی چھاپ یہاں بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔
رباط اٹلانٹک کے کنارے ایک قدیم شہر ہے۔ وہ مراکو کی راجدھانی ہے۔ اسپین سے جب مسلمان نکالے گئے تو ان کی بڑی تعداد اسی علاقہ میں آکر آباد ہوئی۔ ۱۹۵۶ میں وہ فرانس کے سیاسی قبضہ سے آزاد ہوا۔ ۱۹۱۲ میں جب مراکو پر فرانس کا سیاسی قبضہ ہوا تو مولانا شبلی نعمانی نے ایک نظم میں
مراکش جا چکا فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ جیتا ہے یہ ترکی کا مریض سخت جاں کب تک مسلم ملکوں پر مغرب کے استعمار کو مسلم رہنماؤں نے صرف اس کے تاریک رخ سے دیکھا۔ حالاں کہ اس میں ایک روشن پہلو بھی موجود تھا۔ اسی کے نتیجہ میں لاکھوں مسلمان مسلم ملکوں سے نکل کر مغربی ملکوں میں
آباد ہو گئے۔ آج یورپ میں مسلمانوں کی جو تعداد پائی جاتی ہے اور وہاں اسلام کو زندہ کئے ہوئے ہے وہ زیادہ تر وہی ہے جو نو آبادیاتی دور میں وہاں جاکر آباد ہوئی تھی۔
۱۳ فروری کو ہوٹل سے نکلا کہ کسی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کروں۔ ڈرائیور السید محمد السد والی جو ایک گاڑی کے ساتھ مستقل میرے لئے مخصوص کئے گئے تھے، انہوں نے بہت چاہا کہ میں گاڑی پر چلوں۔ مگر میں نے عذر کر دیا اور ایک عرب نوجوان کے ساتھ پیدل چل کر مسجد حنصالی (جامع الحنصالی) وہاں جماعت تیار تھی۔ مجھے مسجد کا ماحول طبعی طور پر بہت پسند ہے۔ چنانچہ نماز سے فراغت کے بعد میں مسجد میں بیٹھ گیا۔ میں خاموش دیر تک بیٹھا رہا، یہاں تک کہ تمام نمازی مسجد سے چلے گئے۔ میں مسجد کے موذن صاحب میرے پاس آئے اور کہا: نريد ان نسد أبواب المسجد، بارك اللہ فيكم (ہم مسجد کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں، اللہ آپ پر برکت نازل فرمائے) چنانچہ میں فوراً اٹھ کر مسجد کے باہر آگیا۔
یہی اکثر عرب ملکوں کا حال ہے۔ وہاں نماز کے بعد مسجد کے دروازہ پر تالا لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلی نماز کے وقت یہ تالا کھلتا ہے۔ صرف اس لئے کہ دوبارہ نماز کے بعد اسے بند کر دیا ان ملکوں میں ایسا حکومت کے احکام کے تحت کیا جاتا ہے۔ اگر ہندوستان کی حکومت یہاں کی مسجدوں کے بارہ میں ایسا حکم جاری کر دے تو فوراً اس کو مداخلت فی الدین قرار دیکر اس کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر دی جائیگی۔ ممکن ہے کہ کچھ مقدس لوگ اپنے حجروں سے نکل کر اس کے خلاف دھرنا دینے کے لئے دہلی پہنچ جائیں۔ مگر یہی مقدس حضرات عرب ملکوں میں نہایت اطمینان کے ساتھ اس کو برداشت کئے ہوئے ہیں۔ ہمارے نااہل رہنماؤں کی یہی دو عملی موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
مسجد کے راستہ میں مغرب کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام عبدالمجید ان سے میں نے کہا کہ میں یہاں دروس حسنیہ میں شرکت کے لئے آیا ہوں۔ کہا: المكتبة الاسلامية مليئة بالكتب ولكن الاعمال مفقودة ، نقرء ولا نعمل، نخطط ولا نطبق (اسلامی کتب خانہ کتابوں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر اعمال غائب ہیں۔ ہم پڑھتے ہیں مگر ہم عمل نہیں کرتے، ہم نقشہ بناتے ہیں مگر ان کو نافذ نہیں کرتے)
اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ کہنے والے صرف کہتے ہیں اسی لئے سننے والے لوگ بھی صرف سن کر رہ جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے تو کامل اخلاص کے ساتھ دعوت اس کے باوجود ان کے معاصرین ان کی بات ماننے پر راضی نہیں ہوئے ۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ صورت داعی کے غیر مخلص ہونے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ مخاطبین کی عدم قبولیت کی بنا پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مادی چیزوں کی طرف رغبت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ لوگوں کو مادی چیزوں کے سوا کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔
مسجد سے واپس ہو کر ہوٹل پہنچا تو یہاں ڈاکٹر محمد الکبیر علوی میرا انتظار کر رہے تھے۔ الاوقاف والشئون الاسلاميۃ میں مدیر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت عرصہ ہوا میں نے آپ کی کتاب الاسلام يتحدی پڑھی تھی۔ اس کے بعد کوئی اور کتاب مجھ کو نہیں ملی ۔ وہ میرے ساتھ میرے کمرہ میں آئے تو یہاں میں نے ان کو الاسلام يتحدی سمیت کئی اور عربی کتابیں دیں۔ وہ بہت خوش ہوئے ۔ نے تجویز کیا کہ ان کتابوں کا ایک سیٹ جلالۃ الملک اور وزیر اوقاف کو ضرور دیں ۔ وہ بہت خوش ہوں گے ۔
ایک بار میں رباط جدید کے علاقہ میں نکلا۔ یہاں مکانوں کے سامنے نارنگی (برتقال) کے بڑے بڑے درخت تھے ، وہ لال رنگ کی نارنگیوں سے لدے ہوئے تھے۔ میرے ایک عرب ساتھی نے بتایا کہ یہ لوگ ان درختوں کو اپنے گھر کے سامنے صرف خوبصورتی کے لئے لگاتے ہیں ، وہ ان کے پھلوں کو استعمال نہیں کرتے ، نہ کوئی اور ان کو توڑتا۔
یہ میرے لئے بڑے تعجب کی بات تھی ۔ دہلی میں اگر کوئی اپنے گھر کے سامنے اس طرح پھل دار درخت لگائے تو ایک بھی پھل درخت پر باقی نہیں رہے گا ، خواہ وہ نئی دہلی میں ہو یا پرانی دہلی میں۔ مراکش (مراکو ) ایک سیاحتی ملک ہے۔ اس بنا پر یہاں مغربی آزادی کے آثار کافی دکھائی مگر اس کے ساتھ یہاں کے لوگوں میں دینی تعلق بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ میں ایک مراکشی عالم کا قصہ قابل ذکر ہے جو اس طرح بیان کیا جاتا ہے :
جدہ میں شیخ محمد نصيف کے گھر پر ایک مراکشی عالم ایک بے داڑھی والے مصری سے الجھ گئے۔ مصری عالم سے انھوں نے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں ۔ مصری عالم نے جواب دیا : من احسن
دولة في العالم دنیا سے سب سے اچھے ملک سے، مراکشی عالم نے دوبارہ پوچھا کہ سعودیہ کے کس شہر مصری عالم نے جواب دیا : من احسن دولة في العالم وهي مصر ومن احسن مدينة في العالم وهي القاهرة ر دنیا کے سب سے اچھے ملک مصر سے اور دنیا کے سب سے اچھے شہر قاہرہ سے، مراکشی عالم اس جواب پر غصہ ہو گئے اور کہا کہ تمہارے ملک کے بارہ میں اللہ نے فرمایا ہے سأوريكم دار الفاسقين ۔ میں بہت جلد تم کو فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا ، یعنی مصر۔ مصری عالم غصہ میں آ کر کھڑے ہو گئے اور مراکشی عالم کی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے حمار کہہ کر چپ ہو گئے۔ (البلاغ بمبئی، جنوری ۱۹۹۴ صفحه ۲۵)
اس واقعہ میں مصری عالم کی غلطی اگر بے جا فخر ہے تو مراکشی عالم کی غلطی یہ ہے کہ ایک واقعہ جو اعراض کے حکم کے تحت آتا تھا اس کو انہوں نے نہی عن المنکر کے حکم کے متعلق سمجھ لیا۔ ۱۳ فروری کو مصر وغیرہ کے کچھ نوجوان یہاں میری آمد کی خبر سن کر آ گئے۔ آج کا بیشتر وقت ان سے گفتگو میں گزرا۔ مختلف مقامات پر آجکل کچھ مسلم جماعتیں "مسلح انقلاب" کی کوشش کر رہی وہ قائم شدہ حکومتوں سے مسلح ٹکر اؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ ان کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ سب اسلام کے نام پر غیر اسلام ہے۔ کیوں کہ اسلام میں قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (شرح نووی ۱۲/ ۲۲۹)
اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی قائم شدہ حکومتی نظام کو توڑ نا محض کسی شخص یا گروہ کی کوشش سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ہمیشہ تاریخ کی مساعدت در کار ہوتی ہے۔ تبدیلیاں مساعدت کے لئے موجود نہ ہوں تو ایسی ہر تحریک فساد اور خوں ریزی پر منتج ہوتی ہے اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل کو صرف پر امن دعوتی جد و جہد تک محدود رکھیں ۔ کہ وہ ضروری تاریخی امکانات پیدا ہو جائیں جن کو استعمال کر کے سیاسی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچنا ممکن ہو جائے۔
رباط پہنچنے کے بعد کل شام کو میں نے اپنے دہلی کے دفتر کو ایک فیکس روانہ کیا تھا۔ آج وہاں سے اس کا جواب آ گیا۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے شکر کا کلمہ نکلا۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسے کیسے وسائل دے دئے ہیں۔ یہ سن کر ایک عرب نوجوان نے
کہا کہ آپ ان چیزوں پر شکر ادا کر رہے ہیں ، حالاں کہ میں نے ایک بڑے شیخ ذرائع کو ان کی مذمت کرتے ہوئے سنا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ان ذرائع مواصلات کے ذریعہ شیطانی باتیں ہر جگہ تیزی سے پہنچائی جا رہی ہیں۔ یہ جدید آلات سب شیطان کے کام ہیں اور ہمیں ان سے جنگ کرنا چاہئے؛
الكلمات الشيطانية في هذه الأيام تُرسل عن طريق الاتصالات الحديثة ومنها الفاكس، إلى كل مكان بسرعة ، فهذه الأجهزة المنظورة كلها عمل شيطاني يجب علينا محاربتها. میں نے کہا کہ شیخ نے بڑی عجیب بات کہی۔ یہ جدید ذرائع تو امکانات فطرت کا استعمال ہیں، جو چیز بری ہے وہ استعمال ہے نہ کہ خود ذرائع۔ اور برا استعمال تو لوگ مذہب تک کا کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں برے استعمال کی مذمت کرنا چاہئے نہ کہ خود ان اشیاء کی۔
رباط میں لیبیا کے ایک صاحب (شیخ صالح) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ لیبیا میں ۱۹۷۰ میں جب انقلاب آیا تو اس کے لیڈر سوشلسٹ افکار سے متاثر تھے۔ انھوں نے ملک میں جو تبدیلیاں کیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے اعلان کیا کہ گھر اس کا ہے جو گھر میں رہے۔ ہر طرف دیواروں پر لکھ دیا گیا: البيت لساكنه۔ مگر لیبیا میں بہت ہی کم ایسے افراد تھے جنھوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ بیشتر لوگوں نے اس قانون کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔ دار بدستور کرایہ دیتے رہے۔ مکانوں کی خرید و فروخت پہلے ہی کی طرح جاری رہی۔ تھوڑے سے افراد جنھوں نے اس حکومتی اعلان کا فائدہ اٹھایا وہ معاشرہ میں سخت معیوب نظروں سے دیکھے جانے لگے۔ ان کو اپنی جائداد کے لئے خریدار یا کرایہ دار ملنا سخت مشکل شیخ صالح نے بتایا کہ میں نے خود اپنے لئے ایک مکان خریدا ہے۔ مجھے مذکورہ قسم کا مغصوبہ مکان کم قیمت پر مل رہا تھا۔ مگر میں نے اس کو نہیں لیا۔ اس کے بجائے جائز ملکیت والا مکان اپنے لئے خریدا۔
یہ نہایت عجیب ہے۔ ہندوستان میں ہم نے دیکھا ہے کہ آزادی کے بعد خاتمہ زمینداری کا قانون منظور کیا گیا۔ اور حکومت نے اعلان کیا کہ جو جوتے اس کا کھیت اس کا نتیجہ ہوا کہ تمام کسان اپنے زیر
استعمال کھیتوں پر قبضہ کر کے بیٹھ گئے۔ زمینوں کے مالک اچانک بے زمین ہو کر رہ گئے۔ یہ ہے کہ لیبیا کی قوم کو اگر صحیح اور دانش مند قائد ملتا تو آج وہ مسلم دنیا کی سب سے زیادہ ممتاز ان کے پاس ذرائع و وسائل وافر مقدار میں موجود تھے۔ وہ بہترین جائے وقوع کا مگر سوشلسٹ قائدین نے لیبیا کو تباہ کر کے رکھ دیا۔
۴ فروری کو میرا دوسرا روزہ تھا۔ سحری کے لئے کل میں نے دودھ اور کھجور لیا تھا۔ میں نے صرف دودھ اور کھجور منگوایا۔ اکثر لوگ سحری کے وقت خوب زیادہ کھاتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ اس سے روزہ کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ لوگوں کی توجہ صرف اس پر ہوتی ہے کہ دن کے وقت بھوک نہ لگے۔ حالاں کہ روزہ رکھ کر آدمی کو بھوک لگنا چاہئے تاکہ اس پر روحانی تجربات گزریں اور اس کے اندر توجہ الی اللہ کی کیفیت پیدا ہو۔
کل اچھی دھوپ تھی۔ چنانچہ میں ہوٹل سے نکل کر سامنے کے پارک میں دیر تک ٹہلتا رہا۔ آج بادل چھائے ہوئے ہیں اور ہلکی بارش بھی ہوئی ہے۔ اگر میں بادلوں کی جمی ہوئی تہہ کے اوپر چلا جاؤں تو آج بھی سورج بدستور چمک رہا ہوگا۔ مگر بادلوں کے نیچے سورج کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کا مشاہدہ صرف اضافی ہے، کوئی انسانی مشاہدہ حقیقی مشاہدہ نہیں۔
۴ فروری کی دوپہر کو وزارت الاوقاف والشئون الاسلامیہ کے وزیر عبد الکبیر العلوى المدغری سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے علماء ان کے دفتر میں لے جائے گئے جو القصر الملکی کے وسیع احاطہ میں واقع ہے۔ ان کا لباس اور ان کی گفتگو ہر چیز میں تواضع نظر انھوں نے الدروس الحسنیہ الرمضانیہ کے بارہ میں بتایا کہ وہ المغرب میں اور دوسرے عرب ملکوں میں ساتھ ساتھ ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔ ملک حسن الثانی خود اس میں شروع سے آخر تک موجود رہتے ہیں اور وہ صرف ملک نہیں ہیں بلکہ ایک اچھے عالم بھی ہیں۔
آنے والوں میں سے ایک جرمنی کے نو مسلم بھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا پچھلا نام (Thomas Haacke) تھا۔ ۱۹۷۵ء میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ موجودہ نام حسن ہاکے ہے۔ کی عمر ۳۱ سال ہے۔ برلن میں مولانا صدر الدین لاہوری نے ۱۹۲۲ میں ایک سہ ماہی جرمن رسالہ نکالا
اس کا نام (Moslemische Revue) ہے۔ اس کا تازہ شمارہ انھوں نے مجھ کو دکھایا۔ کے ایڈیٹوریل بورڈ میں بھی ہیں۔ جرمنی میں ترکی وغیرہ کے مسلمانوں سے ان کا ملنا جلنا ہوتا تھا۔ کے دوران وہ اسلام سے متاثر ہوئے اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ وہ ایک کمپیوٹر فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔
جب میں نے بتایا کہ میں انڈیا سے آیا ہوں تو انھوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ ہندوؤں نے ایک قدیم مسجد کو ڈھادیا۔ اب وہاں کیا حال ہے۔ انڈیا میں باہر کے لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ وہاں بابری مسجد ڈھائی گئی ہے۔ اس کے سوا یہاں بے شمار تعمیری واقعات بھی ہیں مگر لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔
۵ فروری کو بادل ہٹ گئے اور دوبارہ آسمان صاف ہو گیا۔ یہاں کا موسم اہل یورپ کے لئے بہت پسندیدہ موسم ہے۔ چنانچہ یورپی سیاح کثرت سے مرا کو آتے ہیں۔ یہاں کی آمدنی کا قابل لحاظ حصہ سیاحت انڈسٹری کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آزادی کے بعد بھی یہاں کے کلچر پر یورپی سیاحوں کا بہت زیادہ اثر ہے۔ بلکہ یہاں کے کلچر کو اگر سیاح کلچر کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
ایک حادثہ پیش آیا۔ میں اپنے کمرہ سے باہر نکلا۔ کنجی اندر تھی۔ دروازہ اپنے آپ بند اب میں دروازہ کو کھول نہیں سکتا تھا۔ اس کے بعد میں ریسپشن کے ڈسک پر گیا۔ ان کو اپنے مسئلہ کی بابت بتایا۔ ان کا ایک آدمی فوراً ایک خاص کنجی لے کر آیا۔ یہ ماسٹر کی تھی جس سے ہوٹل کے تمام تالے کھولے جاسکتے ہیں۔ اس نے ماسٹر کی کے ذریعہ فوراً تالا کھول دیا۔ اب میں کمرہ کے اندر تھا۔ میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر زندگی کا بھی ہے۔ زندگی میں ایک قسم کی کنجیاں وہ ہیں جن سے صرف ایک مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ ایک کنجی صرف ایک تالے کو کھولتی ہے۔ دوسری کنجی ماسٹر کنجی ہے۔ اس کنجی کے استعمال سے تمام تالے کھولے جاسکتے ہیں۔ یہ ماسٹر کی اہل اسلام کے لئے دعوت ہے۔ اہل اسلام کے لئے بلاشبہ دعوت الی اللہ وہ ماسٹر کی ہے جس کو استعمال کیا جائے تو وہ تنہا تمام بند تالوں کو کھولنے کے لئے کافی ہے۔ تاہم دعوت کی ماسٹر کی کو استعمال کرنے کی لازمی شرط مدعو کی زیادتیوں پر صبر ہے۔ مسلمان اگر صبر کی قیمت ادا نہ کریں تو وہ دعوت کی ماسٹر کی