خبر نامه اسلامی مرکز 101
Al-Risala, February 1995, pp. 47–49
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندے شری ارن پانڈے اور مسٹر دلیپ چوبے نے 21 ستمبر 1994 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ مہاتما گاندھی کا عدم تشدد کا فلسفہ کس حد تک جدید حالات سے متعلق ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ (انصاری آڈیٹوریم) میں 24 ستمبر 1994 کو میلاد النبی کا جلسہ ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ایک مفصل تقریر کی۔ موضوع تھا، آفاقی انسانی قدریں، سیرت کی روشنی میں۔
آل انڈیا ملی کونسل کے زیر اہتمام دہلی میں 23 - 25 ستمبر 1994 کو کل ہند مدارس کنونشن اس میں پاس کی جانے والی دس تجاویز میں سے ایک یہ تھی : کل ہند پیمانہ پر منتخب فضلاء مدارس کو دعوت الی اللہ کے کام کے لئے درکار تعلیمی تربیت کے مرحلہ سے گزارنے کے لئے ایک مرکز قائم کیا جائے۔ مدارس کے اساتذہ و طلبہ میں دعوتی جذبہ پیدا کرنے کے لئے خصوصی اجتماعات کئے جائیں۔ خالص دعوتی نقطہ نظر سے مدرسوں میں علاقائی زبان اور انگریزی کی تعلیم دی جائے۔ طلبہ کو گرد و پیش کی بستیوں میں دعوتی کام کے لئے بھیجا جائے۔
مسٹر عبد الرحمن عابد (فری لانس جرنلسٹ) نے 26 ستمبر 1994 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر طلاق کے بارہ میں اسلامی قوانین سے تھا۔
بنگلہ دیش سے مولانا محمد شمس الحق نے مطلع کیا ہے کہ انھوں نے اسلامی مرکز کی کتابوں کا ترجمہ بنگلہ زبان میں کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں تین ترجمے وہ اب تک پمفلٹ کی صورت میں شائع کر چکے ہیں۔ انسان اپنے آپ کو پہچان، مذہب کی طرف واپسی، علم کی گواہی۔ الرسالہ مشن سے وہ مکمل طور پر متفق ہیں اور اپنی پوری زندگی اسی مشن کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔
بھارتیہ ودیا بھون کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بمبئی کا سفر کیا اور وہاں 1۔ 2 اکتوبر 1994 کو ہونے والی پیس کانفرنس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔
اکتوبر ۱۹۹۴ میں فرینکفرٹ (جرمنی) میں کتابوں کی انٹرنیشنل نمائش ہوئی۔ الرسالہ کے ایک ہمدرد نے اس نمائش میں ایک مخصوص اسٹال حاصل کرکے وہاں اسلامی مرکز کی انگریزی اور عربی کتابیں بھی رکھیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے وہاں آکر کتابوں کو دیکھا اور اس کی بابت معلومات حاصل کیں۔
بھارتیہ ودیا بھون کی دعوت پر اکتوبر ۱۹۹۴ کے پہلے ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے بمبئی کا سفر کیا۔ وہاں بھارتیہ ودیا بھون کے پروگرام میں شرکت کے علاوہ شہر میں مختلف مقامات پر تعلیم یافتہ مسلمانوں کے اجتماع ہوئے جس میں خطاب کیا گیا اور سوالات کے جواب دئے اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
اکتوبر ۱۹۹۴ کے پہلے ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے پونہ کا سفر کیا۔ یہ سفر حلقہ الرسالہ کی دعوت پر تھا۔ وہاں مختلف دعوتی اور تربیتی پروگرام ہوئے۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر کلیش ترپاٹھی اور مسٹر سراج ساحل نے ۱۰ اکتوبر۔ ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر خواتین کے بارہ میں اسلامی قانون سے تھا۔
مسٹر جیمز فورستھ (James Forsyth) ایک انگریز جرنلسٹ ہیں۔ آجکل وہ کیلی فورنیا (امریکہ) میں رہتے ہیں۔ وہ ایک ناول لکھنا چاہتے ہیں جس کا بنیادی کیریکٹر ایک مسلمان ہوگا۔ اس سلسلہ میں وہ اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۴ کو وہ دہلی آئے اور صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے تھا۔ اپنے ناول کا تفہیم انھوں نے ان لفظوں میں بیان کیا:
The main character in my proposed novel is trying to be a Muslim بمبئی سے چھپنے والے گجراتی ہفت روزہ ابھیان (Abhiyaan) کے نمائندہ مسٹر وجے ترویدی نے ۱۳ اکتوبر کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ابھیان کا ایک شمارہ مختلف مذہبوں پر نکل رہا
ہے، اس سلسلہ میں وہ اسلام کی تعلیمات پر بھی ایک مستقل مضمون دے رہے ہیں۔ سلسلہ میں تھا۔
۱۳| ہندی اخبار ہندوستان کے نمائندہ مسٹر سنیل دت اور مسٹر اشوک کنکر نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اردو اور مسلمان سے تھا۔ سوال کے جواب میں کہا گیا کہ آزادی کے بعد اردو کو زوال نہیں ہوا ہے۔ اب وہ کئی دوسری زبانوں کی طرح بیک وقت دو رسم الخط میں لکھی جارہی ہے۔ ایک فارسی رسم الخط میں اور دوسرے دیوناگری رسم الخط میں۔ جیسے کہ گجراتی، ترکی، مالیزی وغیرہ زبانیں بیک وقت دو رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔
۱۴| جن ستا کے نمائندہ مسٹر صفدر رضوی نے ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا اس کا تعلق رام مندر ٹرسٹ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس معاملہ میں پوری کے شنکراچاریہ کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے کوئی اقدام نہیں کیا جانا چاہئے۔
۱۵| کرزن روڈ (نئی دہلی) پر ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۴ کی شام کو سوامی اوم پورن سوتنترا کی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں تعلیم یافتہ ہندو صاحبان شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ملک میں امن اور ترقی کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ۱۶| جناب رفیق لودیا کے تعاون سے اکتوبر ۱۹۹۴ میں ڈاکٹر ثانی اثنین خاں نے جرمنی اور انگلینڈ کا سفر کیا۔ اس کا مقصد انسائیکلو پیڈیا آف قرآن کے لئے ضروری تاریخی مواد حاصل
۱۷| نیو ہورائزن اسکول (نئی دہلی) میں دعوت کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا۔ پیس فاؤنڈیشن نے منظم کیا تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز بھی مدعو تھے۔ اس میں شرکت کی اور ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۴ کو دعوت کے موضوع پر تقریر کی۔ ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں صرف انفرادی دعوتی کامیابی ممکن ہے۔ دعوت کے عمومی فتحیاب کے لئے ہمیں یک طرفہ اعراض کے ذریعہ موجودہ کشیدگی کو ختم کرنا ہوگا۔