Al-Risala · March 1996

خاتونِ جنت

Al-Risala, March 1996, pp. 2–3

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں وہ تمام بنیادی صفات بتائی گئی ہیں، جو جنتی خاتون میں ہونا ضروری ہیں۔ کسی عورت کو مغفرت اور اجرِ عظیم کا مستحق بناتی ہیں۔ وہ اس کے لیے آخرت کے عذاب سے نجات کو یقینی بنانے والی ہیں۔ سورہ الاحزاب ۳۵، اور التحریم ۵ کے مطابق، وہ صفات حسب ذیل ہیں : ایمان، اسلام، قنوت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، صوم، حفظ فروج، ذکر اللہ، تو بہ، عبادت، سیاحت ۔

ایمان سے مراد معرفت رب ہے۔ یعنی اپنے خالق و مالک کو اس طرح شعوری طور پر دریافت کرنا کہ وہ آپ کی سوچ پر چھا جائے ۔ وہ آپ کے دل کے اندر سما جائے ۔ آپ کی پوری شخصیت خدا کے نور سے نہا اٹھے ۔

اسلام کے معنی اطاعت کے ہیں۔ اس سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے تابع بنانا ہے یعنی آپ کا نفس اللہ کی اطاعت پر پوری طرح قائم ہو جائے ۔ آپ اللہ کی پیروی میں اپنی زندگی گزارنے لگیں ۔ آپ کی مرضی کا ہر قولی یا عملی اظہار عین اس کے مطابق ہو جس کا اللہ نے حکم فرمایا ہے ۔ قنوت کا مطلب مخلصانہ فرماں برداری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقہ کو اختیار کر لیا جائے جو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ تعمیل حکم میں جب قلب کا جھکاؤ اور خضوع شامل ہو جائے تو اسی کو قنوت کہا جاتا ہے ۔

صدق کے معنی سچائی کے ہیں۔ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے، یعنی وہی کہنا جو آپ کو کرنا ہے اور وہی کرنا جو آپ نے اپنی زبان سے کہا ہے ۔ لوگوں کے درمیان آپ ایک صاحب کردار خاتون کی حیثیت سے زندگی گزاریں ۔

صبر ایک بہادرانہ صفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے احکام پر چلنے کے لیے اگر تکلیف اٹھانا پڑے تب بھی اس سے نہ ہٹنا ۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر جمے رہنا۔ مخالفانہ محرکات کے باوجود خدائی راستہ کو نہ چھوڑنا۔

خشوع سے مراد تواضع اور خاکساری ہے۔ خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور

سے کسی کے اندر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسی کو خشوع کہا جاتا ہے۔ یہ احساس مومن اور مومنہ کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے۔ خدا کے خوف سے ان کے دل لرز اٹھتے ہیں اور ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ صدقہ کا مطلب خیرات ہے۔ یعنی آپ اپنے مال میں سے دوسرے ضرورت مندوں کا حق نکالیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس آپ کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے اسی طرح دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پروا نہ رہیں ۔

صوم کا مطلب اللہ کے لیے روزہ رکھنا ہے۔ روزہ شکر کی تربیت ہے۔ روزہ رکھنا گویا اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جانا ہے جبکہ آپ خدا کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تجربہ کریں۔ اور پھر آپ کے اندر اس رزق کے اوپر خدا کے شکر کا جذبہ بیدار ہو جو اس نے اپنے خزانہ رحمت سے آپ کو عطا کیا ہے۔ حفظ فروج کا لفظی مطلب شرمگاہوں کی حفاظت ہے یعنی دنیا کی زندگی میں عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا اور بے حیائی والے اعمال سے بچنا ۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے اس کا پورا لحاظ رکھنا۔ ذکر اللہ کا مطلب اللہ کی یاد ہے۔ خدا کو بہت زیادہ یاد کرنا خدا کی معرفت کا لازمی نتیجہ ہے۔ خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا کی یاد آتی ہے۔ اس کی روح خدا کے تصور سے اس طرح سرشار ہو جاتی ہے کہ بار بار اس کو خدا کی یاد آتی رہے ۔

توبہ کے لفظی معنی ہیں پلٹنا۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد پھر صحیح روش کی طرف لوٹ آنا۔ یہ کسی مومنہ کی خاص صفت ہے ۔ امتحان کی اس دنیا میں ہر ایک سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ ہونا چاہیے کہ نفس کے غلبہ سے جب وقتی طور پر کسی سے غلطی ہو جائے تو اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔

عبادت سے مراد پرستش ہے۔ یعنی وہ خاشعانہ عمل جو خدا کی عظمت اور برتری کو مان کر اس کے سامنے کیا جائے۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ جنتی خاتون کی پہچان یہ ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی پرستار بن گئی ہو۔

سیاحت سے مراد روزہ جیسے ریاضتی اعمال ہیں۔ اس کی روح زہد ہے۔ کسی مومنہ پر جب آخرت کی فکر اتنی زیادہ غالب آجائے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہو جائے اور دنیا کی چیزوں میں اس کا شوق باقی نہ رہے تو اس وقت اس کی جو زاہدانہ زندگی بنتی ہے اسی کو یہاں سیاحت کہا گیا ہے۔

Printed page