دار الحرب یا دار الإعداد
Al-Risala, January 1996, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان میں جب انگریزوں کا نفوذ بڑھ گیا تو شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ۱۸۰۶ء میں یہ فتوی دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان میں اسلام خطرہ میں ہے۔ مسلمانوں کا پیشہ علی فرض ہو چکا ہے کہ وہ انگریزوں سے لڑ کر انہیں نکالیں اور ملک کو ان کے فساد سے پاک کریں۔
جس وقت یہ انتہائی فتوی دیا گیا اس وقت مسلم معاشرہ مکمل طور پر شخصیت پرستی میں مبتلا ہو چکا چنانچہ اس فتوے کے خلاف کوئی کھلی تنقید سامنے نہیں آئی۔ حتی کہ کسی نے یہ کہنے کی بھی جرات نہیں کی کہ اتنا بڑا اعلان شخصی طور پر نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے علماء کا ایک نمائندہ اجتماع ہونا چاہیے۔ یہ فتوی جاری رہا۔ یہاں تک کہ ۱۸۳۱ء میں سید احمد بریلوی نے اپنے ساتھیوں کو لے کر عملی جس میں تمام کے تمام لوگ ہلاک ہو گئے۔ اس وقت مسلمانوں کے درمیان شخصیت پرستی اپنی آخری حد پر تھی۔ لوگ ’’بڑوں‘‘ کے خلاف بولنا تو درکنار سوچنا بھی نہیں جانتے تھے۔ اس وقت صرف ایک عالم میر محبوب علی دہلوی (۱۲۸۰۔ ۱۲۰۰ھ) نکلے جنہوں نے سید صاحب سے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ صرف شوریٰ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مگر شخصیت پرستی کی فضا کی بنا پر ان کی بات بے وزن ہو کر رہ گئی۔
اس کے بعد ۱۸۵۷ء میں جب علماء دیو بند نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ بھی ایک عالم شیخ محمد صاحب نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کو نا جائز بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ
حریف کے مقابلے میں ہماری تیاری کچھ نہیں ہے ۔ اس لیے عملاً جنگ نہیں بلکہ خودکشی ہوگی، مگر اس، بار بھی شخصیت پرستی رکاوٹ بنی اور ان کی بات غیر مؤثر ہو کر رہ گئی ۔
اس کے بعد ۱۹۱۴ء میں عرب عالم محمد رشید رضا دیو بند آئے۔ یہاں انھوں نے اپنی تقریر میں، انگریزوں کے خلاف جہاد سے اختلاف کیا اور کہا کہ اس کے بجائے آپ کو دعوت کا کام کرنا چاہیے ۔ مگر ان کی یہ رائے "اکابر" کی رائے سے ٹکراتی تھی ۔ اس لیے کسی نے اس کی طرف بھی توجہ نہیں دی۔ رشید رضا کی تقریر صرف دار العلوم دیوبند کی سالانہ روداد کا ایک غیر اہم حصہ بن کر رہ گئی ۔ انگریزوں کے خلاف جہاد کا یہ عمل مختلف صورتوں میں بلا انقطاع جاری رہا ۔ یہ یہاں تک کہ ۱۹۱۹ء میں مہاتما گاندھی نے آکر اس کو ختم کیا ۔ بے فائدہ جنگ کا یہ خاتمہ "اجتہاد" ہی کے ذریعہ ممکن ہوا۔ یہ ایک سیکولر اجتہاد تھا نہ کہ کوئی شرعی اجتہاد ۔
علماء اپنی غیر مجتہدانہ سوچ کے تحت صرف ایک ہتھیار کو جانتے تھے ۔ اور وہ تشدد کا ہتھیار تھا۔ انھیں خبر نہیں تھی کہ ان کی جدوجہد آزادی کے لیے موجودہ زمانہ میں ایک عظیم تر نظریاتی ہتھیار وجود میں آ چکا ہے ۔ یہ ہتھیار وہ ہے جس کو حکومت خود اختیاری (self-determination) کہا جاتا ہے ۔ یہ تصور اٹھارویں صدی کے فرنچ ریولیوشن کے دوران ظہور میں آ چکا تھا ۔ جس نے قوموں کو یہ حق دیا کہ وہ تشدد کا استعمال کیے بغیر محض دلیل کی پر امن طاقت سے قومی آزادی کی مؤثر جدوجہد کر سکیں ۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد ۱۹۱۹ میں بننے والی جمعیتہ اقوام (League of Nations) کے متعلق مسلمانوں کے رہنما علامہ اقبال صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ وہ کفن چوروں کی ایک انجمن ہے جو قبروں کی تقسیم کے لیے منظم کی گئی ہے :
چيست جمعیت اقوام کفن دزدے چند بہر تقسیم قبور انجمنِ ساخته اند مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جمیعت اقوام نے پہلی بار انٹرنیشنل تصدیق سے یہ سیاسی معیار طے کیا کہ ہر قوم کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے درمیان اپنی مرضی کی حکومت قائم کرے ۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد ۱۹۴۵ء میں جب اقوام متحدہ (United Nations) بنائی گئی تو تمام قوموں کے اتفاق رائے سے یہ اصول آخری طور پر ایک مصدقہ سیاسی اصول کے طور پر تسلیم کر لیا گیا (41/IX)
مہاتما گاندھی نے عالمی سیاست کا مطالعہ کیا تھا ۔ وہ ان زمانی تبدیلیوں سے آگاہ تھے ۔
وہ ساؤتھ افریقہ سے ہندوستان آئے اور اپنے "سیکولر اجتہاد" کے ذریعہ ہندوستان کے عوام نیز علماءءءء کو بتایا کہ ہمیں اب متشددانہ ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں " حکومت خود اختیاری" کے نظریاتی ہتھیار کو ہم زیادہ مؤثر طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ علما کی مقلدانہ رائے پر گاندھی کی مجتہدانہ رائے بر تر ثابت ہوئی ۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا وہ اب تمام لوگوں کے لیے ایک معلوم تاریخ بن چکا ہے ۔
اس پورے معاملے پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے تمام علما سو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک جہاد کے نام پر ایک ایسے خونیں عمل میں مشغول رہے جس کا کوئی بھی نتیجہ تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا اس خونیں جہاد کے دوران انھوں نے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو ناقابل بیان تباہی سے دوچار یہ صرف مہاتما گاندھی تھے جنہوں نے ان کو اس تباہ کن غار سے باہر نکالا ۔ اس مہلک تجربہ کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا۔ اور وہ ہے ہمارے علما کرام کا اپنے لیے اجتہاد کو شجر ممنوعہ سمجھ لینا ۔ تنقید و تحقیق اور بحث و اختلاف کو ممنوع قرار دے کر تقلید کے خول میں اپنے آپ کو بند کر لینا ۔
شاہ عبدالعزیز صاحب اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر صرف دو حالتوں کو جانتے تھے ۔ دار السلام ، دار الحرب ۔ ہندوستان جب ان کو دار الاسلام نظر آیا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ دار الحرب ہے ، اور اسی کے مطابق فتویٰ دے دیا۔ اگر وہ مجتہدانہ نگاہ رکھتے تو وہ وسیع تر دائرہ کے اعتبار سے معاملے کی تحقیق کرتے اور پھر وہ اعلان کرتے کہ قرآن کے الفاظ میں، ہندوستان اب دار الإعداد بن چکا ہے ( ہے(الانفال۶۰ یعنی ہماراروایتی دفاع اب بالکل غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ لوگ مغربی زبانوں کو پڑھو۔ سفر کر کے یورپ جاؤ اور معلوم کرو کہ ان قوموں کی ترقی کا راز کیا ہے۔ زمانہ کی تبدیلیوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھو اور پھر اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی
حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد زندگی ہے اور تقلید صرف موت ۔ مگر تقلید کے خول سے نکلنا اور اجتہاد کے فوائد کو حاصل کرنا صرف آزادانہ اظہار رائے کے ماحول میں ممکن ہے۔ اور آزادانہ اظہار رائے کا ہم نے صدیوں سے اپنے درمیان خاتمہ کر رکھا ہے۔