تقسیم کار
Al-Risala, March 1996, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی صالح بیوی سے بہتر نہیں (لیس من متاع الدنيا شیئ افضل من المرأة الصالحۃ) عورت کی اس خصوصیت کے بہت سے پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ صالح عورت اپنی مخصوص حیثیت کی بنا پر مرد کی بہترین ساتھی اور بہترین مشیر ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کے دو واقعے نقل کیے جاتے ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی مکہ کے قریب غارِ حرا میں اتری۔ یہ آپ کے لیے ایک غیر متوقع تجربہ تھا۔ آپ غار سے نکل کر اپنے گھر میں واپس آئے تو روایات کے مطابق آپ کانپ رہے آپ نے فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ حضرت خدیجہ نے آپ کو کمبل اڑھادیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہ سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غار حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھ کو اپنی جان کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے اس وقت یہ الفاظ کہے :
كلا والله ما يخزيك الله ابدا ، انك ہرگز نہیں، خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا، لتصل الرحم وتحمل الكل وتكسب آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، المعدوم وتُقرى الضيف وتعين کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، گمنام لوگوں کو کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور قدرتی آفتوں کے شکار لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دینے کے لیے جو کلمات کہے وہ بلاشبہ اپنے موقع کے لحاظ سے بہترین کلمات تھے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ حضرت خدیجہ کے لیے کیسے یہ ممکن ہوا کہ اس نازک موقع پر ایسے پر اعتماد الفاظ کہہ سکیں ۔ اس کی خاص وجہ آپ کا مذکورہ طوفان خیز تجربہ سے الگ رہنا ہے۔ کی سرگرمیوں میں بار بار ایسے گمبھیر مسائل آتے ہیں جن میں بعض اوقات وہ شخص غیر متاثر رائے قائم نہیں کر پاتا جو خود مسئلہ کے اندر گھر اہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک
ایسا مشیر ہو جو خود مسئلے سے متعلق نہ ہو تاکہ اس کی بابت وہ غیر متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کر سکے۔ حضرت خدیجہ کا مذکورہ قول اسی کی مثال ہے۔
اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے ، اس تقسیم سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے ۔ عورت اپنے شعبہ میں مصروف ہوتی ہے اور مرد اپنے شعبہ میں ۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے معاملات سے براہ راست طور پر غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ ہر فریق اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملہ میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچے ۔ بے لاگ مشورہ سے اس کی مدد کر سکے۔ اس تقسیم کار کے نتیجہ میں عورت اور مرد دونوں کو ایسے قابل اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن سکیں۔
۲- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاملہ بظاہر جب ہر کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میں تھیں ۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدہ کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جو تم اپنے ساتھ لائے ہو ، یہیں ذبح کر دو اور سر منڈالو تو ایک شخص بھی اس کے لیے نہ اٹھا ۔ آپ نے تین بار اپنے حکم کو دہرایا پھر بھی سب لوگ خاموش رہے۔ آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ موجود تھیں۔ انھوں نے آپ کو غمگین دیکھ کر پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔
ام سلمہؓ نے کہا ۔ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنا قربانی کا جانور ذبح کریں اور سر منڈالیں۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو بلا کر سر منڈایا ۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب نے اٹھ کر اپنی اپنی قربانیاں ذبح کر دیں ۔ کیوں کہ انھوں نے محسوس کر لیا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی طرح ام سلمہؓ کو اس نازک موقع پر جو قیمتی بات سوجھی وہ اس لیے سوجھی کہ وہ اصل معاملہ سے الگ تھیں ۔ اور اس بنا پر وہ اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں ۔ بصورت دیگر ان کے لیے ایسا کرنا شاید ممکن نہ ہوتا۔