بہترین خزانہ
Al-Risala, March 1996, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ہے کہ : اے ایمان والو، اہل کتاب کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو ۔ اس دن اس مال پر دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی ۔ پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی ۔ یہی ہے وہ جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کیا تھا ۔ پس اب چکھو جو تم جمع کرتے رہے ( التوبہ ۳۴- ۳۵)
یہ آیت قرآن میں اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بُرا ہو سونے کا اور بُرا ہو یہ بات صحابہ پر بہت شاق گزری۔ انھوں نے آپس میں کہا کہ پھر اور کون سا مال ہم اپنے حضرت عمر فاروق رضی نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاکر اس کی بابت دریافت کروں ۔ لوگوں نے کہا کہ ضرور ۔
اس کے بعد حضرت عمر فاروق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب پر یہ بات بہت شاق ہو رہی ہے ، وہ کہہ رہے ہیں کہ پھر ہم کون سا مال اکٹھا کریں۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نعم ، فیتخذ احدکم لساناً ذاکراً وقلباً شاکراً و زوجةً تُعینُ احدكم على إيمانه (ہاں ، تم میں سے جس شخص کو اپنانا ہے وہ خدا کو یاد کرنے والی زبان کو اپنائے ، وہ شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایک ایسی بیوی کو اپنائے جو اس کے دین میں ، اس کی آخرت کے معاملہ میں اس کی مدد کرے ۔ (تفسیر طبری ۲۱/۱۰ - ۱۲۰)
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ بہترین خزانہ کیا ہے جس کو آدمی اپنے لیے جمع کرے ۔ بہترین خزانہ وہ صالح عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس سے کوئی بات کہے تو وہ اس کی تعمیل اور جب وہ گھر میں موجود ہو تو نفس اور مال میں اس کی حفاظت کرے (الا اخبرک بخير مايكنز المرء المرأة الصالحة التي اذا نظر اليها سرته واذا امرها
اطاعتہ واذا غاب عنہا حفظتہ فی نفسہا ومالہ) تفسیر ابن کثیر ۳۵۱/۲ اس حدیث میں عورت کو کسی مرد کے لیے سب سے اچھا خزانہ کہا گیا ہے ۔ اور یہ بات صدفی صد درست ہے۔ سونا اور چاندی یا مال صرف مادی ضرورت پورا کرتے ہیں۔ صالح خاتون گھر کو اور خاندان کو خوشی اور سکون اور محبت کا گہوارہ بناتی ہے۔ ایک صالح خاتون اپنے میٹھے بول سے گھر میں مٹھاس بکھیرتی ہے ۔ وہ اپنے اچھے اخلاق سے پورے ماحول کو انسانیت کا ماحول بناتی ہے۔ اس کا شریفانہ برتاؤ ہر ایک کو شرافت کی تربیت دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی پیدائشی نرمی اس کو نرم گفتار اور نرم کردار بناتی ہے، اور پھر گھر کی پوری فضا اسی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔
عورت اپنی فطری صلاحیت اور اپنے فطری حالات کے اعتبار سے گھر کی انچارج ہے۔ گھر کے نظام میں اس کو مرکزی شخصیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے گھر کے بننے یا بگڑنے میں اس کا رول بے حد اہم ہے۔ ایک عورت کے بننے سے گھر بنتا ہے اور ایک عورت کے بگڑنے سے گھر بگڑجاتا ہے۔ اسی لیے عورت کو بہترین خزانہ کہا گیا ہے۔
عورت کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ گھر کو مسرتوں کا باغ بنائے۔ اس کے شوہر کو اور گھر کے دوسرے افراد کو اس سے خوشی کا تحفہ مل رہا ہو۔ ہر ایک کے لیے اس کا وجود نفع بخشی اور فیض رسانی کا ذریعہ بن گیا ہو۔ شوہر کو اور گھر کے افراد کو یہ یقین ہو کہ خواہ وہ موجود ہوں یا غیر موجود ہوں ہمیشہ گھر کے اندر ان کا ذکر خیر خواہی کے ساتھ کیا جائے گا۔ ہمیشہ ان کو وہ سلوک ملے گا جو ان کی دنیا و آخرت کے لیے سب سے بہتر ہو۔
عورت گھر کا خزانہ ہے، بلکہ سب سے اچھا خزانہ ۔ عورت گھر کے باغ کا پھول ہے، بلکہ سب سے اچھا پھول۔ عورت گھر کی دنیا کی روشنی ہے، بلکہ سب سے اچھی روشنی ۔ مگر کوئی عورت اپنا یہ فطری کردار اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ وہ باشعور ہو، جب کہ وہ اپنے احساسات کے ساتھ دوسروں کے احساسات کو بھی جانے ۔ جب کہ اس کے اندر یہ عزم ہو کہ وہ بہر حال اس انسانی کردار کو ادا کرے گی جو خالق نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، خواہ اس کے لیے اسے صبر و برداشت کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔