روزمرہ کی زندگی
Al-Risala, March 1996, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت کی زندگی صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک کیسی ہونی چاہیے ۔ اس کا نقشہ شریعت میں مکمل طور پر دیا گیا ہے ۔ اس کا ایک خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے ۔ سب سے پہلا کام صبح کو سویرے اٹھنا ہے۔ جو خواتین صبح کو سویرے نہیں اٹھتیں وہ ہر دن کم از کم اپنا بہترین دو گھنٹہ ضائع کرتی ہیں۔ یہ ضائع شدہ وقت ایک دن میں صرف دو گھنٹہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسی طرح ۱۰ سال ہوتا رہے تو ضائع شدہ گھنٹوں کی مقدار سات ہزار گھنٹوں سے بھی زیادہ ہو جائے گی ۔ یہ خاندان کے صرف ایک ممبر کے ضائع شدہ گھنٹے ہیں۔ اسی طرح تمام افراد خاندان کے ضائع شدہ گھنٹوں کا شمار کیا جائے تو وہ کتنا زیادہ ہو جائے گا ۔
گھر کی خاتون جب سویرے اٹھیں تو دوسرے لوگ بھی سویرے اٹھیں گے ۔ پھر سب لوگ وضو کر کے فجر کی نماز ادا کریں گے ۔ اس طرح سویرے اٹھنا ایک طرف جسم کو اور دوسری طرف روح کو پاک کرنے کا ذریعہ بن جائے گا ۔ اسی طرح صبح کو سویرے اٹھنے کے نتیجہ میں دن بھر کے سارے پروگرام اپنے وقت پر انجام پائیں گے ، کیوں کہ جب آغاز درست ہو تو انجام بھی یقیناً درست رہتا ہے۔ صبح کو سویرے اٹھنے کی صورت میں دن بھر کے تمام پروگرام ٹھیک وقت پر انجام پائیں گے ۔ بچے تیار ہو کر وقت پر اسکول پہنچیں گے ۔ مرد تیار ہو کر وقت پر اپنے معاشی کام میں لگ جائے گا ۔ سویرے گھر کی صفائی ہو جائے گی ۔ باورچی خانہ سے لے کر مارکیٹ تک ہر چیز کا نظام ٹھیک طور پر انجام پائے گا ۔ گھر کے پورے ماحول میں چستی ، باقاعدگی اور ذمہ داری کی فضا دکھائی دے گی ۔ پانچ وقت کی نماز جو ہر مومن اور مومنہ پر فرض ہے ، وہ صحیح وقت پر انجام دی جاتی رہے گی ۔ مزید آپ کو جاننا چاہیے کہ گھر کا انتظام اور نماز ، یہ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ نہایت شدت کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ۔
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اقيم الصلاة لذكري (طہ (۱۴) ، یعنی میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ سے معلوم ہوا کہ پانچ وقت کی نماز در اصل ہر وقت کی نماز کی یاد دہانی ہے۔ یہ ہر وقت کی نماز کیا ہے ۔ وہ ذکر ہے ، یعنی اللہ کی یاد ۔ آپ کو یہ کہنا ہے کہ دن بھر کی تمام سرگرمیوں میں اللہ کو یاد کرتے رہیں ۔
صبح کو آپ سوکر اٹھیں تو اس احساس کے ساتھ اٹھیں کہ نیند کیسی عجیب نعمت ہے۔ کل دن بھر کی میری تھکن دور کر دی۔ اس نے نیا دن شروع کرنے کے لیے مجھے دوبارہ تازہ دم کر دیا۔ یہ احساس آپ کی زبان سے شکر کے کلمات کی صورت میں نکل پڑے۔
اسی طرح دن بھر آپ جو کام کریں وہ سب آپ کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ اپنے بچہ کو اسکول جانے کے لیے تیار کر رہی ہیں، اس وقت بچے کو دیکھ کر اگر آپ یہ کہہ اٹھیں کہ ایک انسانی بچہ کیسا عجیب معجزہ ہے، کیسا عجیب رحمت اور عظمت والا ہے وہ خدا جس نے انسانی بچہ جیسی عجیب چیز کی تخلیق کی۔ آپ کا بچہ اگر آپ کے اندر اس قسم کے تصورات جگانے کا ذریعہ بن جائے تو یہ سونے اور چاندی کے تمام ڈھیر سے زیادہ قیمتی ہے۔
آپ باورچی خانہ میں روٹی اور سالن پکارہی ہیں۔ آپ کو یاد آیا کہ یہ گیہوں، یہ چاول، یہ سبزی قدرت کے کیسے عجیب نمونے ہیں۔ خدا نے کروڑوں سال کے عمل کے دوران زمین کی اوپری تہہ کو اس نے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں کو ملا کر حیرت انگیز طور پر پانی جیسی نعمت پیدا کی۔ اس طرح کے بے شمار اسباب کو وجود دینے کے بعد یہ ممکن ہوا کہ زمین میں کسی چیز کا بیج ڈالا جائے اور وہ پودے اور درخت کی صورت اختیار کرکے انسان کے لیے غذا کی فراہمی کا ذریعہ بن جائے۔ جب آپ اس طرح سوچیں گی تو آپ کا باورچی خانہ اور پورا گھر آپ کے لیے عبادت خانہ بن جائے گا۔ آپ کی نماز صرف پانچ وقت کی نماز نہیں ہوگی بلکہ وہ ذکر کی صورت میں سارے دن اور ساری رات جاری رہے گی۔
اس طرح دن گزارتے ہوئے ظہر کا وقت آتا ہے اور گھر کے تمام افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ طرح آپ عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھتی ہیں۔ پھر رات کا کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ اس نے کائناتی انتظام کے تحت آپ کے لیے پانی اور کھانے کا انتظام کیا۔ عشاء کی نماز اور گھر کے ضروری کاموں کی تکمیل کے بعد وہ وقت آ جاتا ہے جب کہ آپ اب آپ معوذتین (قرآن کی آخری دو سورتیں) پڑھ کر اپنے بستر پر سو جائیے۔ نے سارا دن پاک خیالات میں گزارا ہے تو اب آپ کو نہایت سکون کی نیند آئے گی۔ رات گزار کر صبح کو اٹھنا آپ کے لیے ایسا بن جائے گا جیسے دوبارہ نئی اور تر و تازہ زندگی حاصل کر لینا ۔