Al-Risala · March 1996

حسن معاشرت

Al-Risala, March 1996, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایک جامع ہدایت دی گئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے : مسلمان سب بھائی بھائی ہیں۔ پس اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کراؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اے ایمان والو ، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسروں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والو ، بہت سے گمانوں سے بچو ، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ، اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے (الحجرات ۱۰ - ۱۲)

ان قرآنی آیتوں کا خطاب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں دونوں سے ہے۔ دونوں ہی کی فلاح کا طریقہ وہ ہے جو ان آیتوں میں بتایا گیا ہے۔

مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں کس طرح رہیں ، اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ اس طرح رہیں جس طرح بھائی اور بہن آپس میں رہتے ہیں۔ بھائی اور بہن خونی رشتہ کی بنا پر باہم محبت کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ اسی طرح دینی بھائیوں اور دینی بہنوں کو بھی محبت اور خیر خواہی کے ساتھ باہم مل کر رہنا چاہیے۔

کوئی عورت یا مرد دوسرے کا مذاق کیوں اڑاتا ہے ، اس لیے کہ وہ دوسرے کی بڑائی کو ماننا ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کو جب کسی دوسرے کی کوئی نازک بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے اور اپنی بڑائی کی تسکین حاصل کر سکے۔

ایسے عورت اور مرد دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ دوسروں پر عیب لگاتے ہیں ، وہ

دوسروں کو برے نام سے یاد کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے اس جذبہ کی تسکین حاصل کریں کہ وہ دوسروں سے بڑے ہیں۔

مگر اچھا اور برا، یا بڑا اور چھوٹا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو کوئی عورت یا مرد بطور خود اچھا دراصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو، اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں

اگر کسی عورت یا کسی مرد کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہو جائے تو اس کے بعد اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسروں کا مذاق اڑانا، دوسروں کو طعنہ دینا، دوسروں پر عیب لگانا، دوسروں کو برے لقب سے یاد کرنا، اس قسم کی تمام چیزیں ان کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گی۔ کیوں کہ وہ جانیں گے کہ لوگوں کے درجہ اور مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔ ایک عورت یا مرد کو کسی کے خلاف بدگمانی ہو جائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے اس کے بارہ میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اس کی خوبیوں سے زیادہ اس کے نقائص تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے، یہ طریقہ انتہائی حد تک ایمان اور تقویٰ کے خلاف ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر معاشرتی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک اس معاملہ میں چوکنا رہے، وہ کسی بھی حال میں بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔ آپ کو کسی کے بارہ میں الٹی خبر ملے تو اس کی تحقیق کیجئے۔ آپ کو کسی سے بدگمانی ہو جائے تو اس سے مل کر اس کے بارہ میں اس سے گفتگو کیجئے۔ یہ سخت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی بات ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی دینے کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی کسی عورت یا مرد سے اس قسم کی ایک غلطی ہو سکتی ہے۔ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تو وہ اپنی غلطی پر ڈھیٹ نہ ہوں گے۔ ان کا خوفِ خدا ان کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہ کردے گا۔ پھر وہ اپنی غلط روش کو چھوڑ دیں گے اور اللہ سے معافی کے طالب بن جائیں گے۔

Printed page