مومن کا گھر
Al-Risala, March 1996, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳۳ میں ازواج مطہرات (پیغمبر کی بیویوں) کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : اور تم لوگ اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور سابقہ جاہلیت کا سا انداز اختیار نہ کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دور کرے اور تم کو پوری طرح پاک کر دے اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے اس کو یاد رکھو۔ بے شک اللہ باریک بیں ہے، خبر رکھنے والا ہے (الاحزاب ۳۳-۳۴) ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ ازواج رسول کو اپنے گھروں میں کس طرح رہنا چاہیے۔ انھیں جاہلی نمائش کا طریقہ چھوڑ کر متانت کے ساتھ گھر میں قیام کرنا چاہیے۔ ان کے گھر کو ذکر و نماز اور زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی کا مرکز ہونا چاہیے۔ معاملات زندگی میں ان کی روش خدا و رسول کی اطاعت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان کے گھر میں قرآن کی تعلیمات کا چرچا ہونا چاہیے ۔ ان کے گھر میں حکمت اور معرفت کی باتوں کا ماحول دکھائی دینا چاہیے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جس طرح تمام مسلمانوں کی زندگی کے لیے نمونہ تھی، اسی طرح آپ کا گھر بھی تمام گھروں کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قیامت تک تمام مسلم مردوں اور تمام مسلم عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھروں کو اسی خاص نمونہ پر ڈھالیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں قائم فرمایا ہے۔
مسلم خواتین کو اپنے گھروں کو اپنے عمل کا مرکز بنانا چاہیے۔ گھر گویا سماجی زندگی کی ابتدائی اکائی ہے، اور عورت کا کام یہ ہے کہ وہ اس اکائی کو درست کرے۔ کیوں کہ مختلف اکائیوں کا درست ہونا آخر کار پورے سماج کا درست ہونا ہے۔
مسلم خاتون کے گھر کے ماحول کو سادہ اور بے تکلف ہونا چاہیے نہ کہ زرق برق اور چمک دمک زرق برق گھر میں مادی فضا ہوتی ہے اور سادہ گھر میں روحانی فضا۔ زرق برق گھر دنیا کی یاد دلاتا ہے اور سادہ گھر آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ زرق برق گھر میں مادی ذہن پرورش پاتا ہے اور سادہ گھر میں دعوتی اور مقصدی ذہن۔ زرق برق گھر میں ادنیٰ شخصیت کی نشو و نما ہوتی ہے اور سادہ گھر میں اعلیٰ
شخصیت پر وان چڑھتی ہے۔
مومن مومن خاتون کا گھر عبادت کا گھر ہوتا ہے — پانچ وقت کی نماز، روزہ اور زکوۃ کی ادائیگی اللہ اور رسولؐ کا چرچا، فضول چیزوں میں مشغولیت کے بجائے دین میں مشغولیت، یہ وہ چیزیں ہیں جو مومنہ و مسلمہ کے گھر میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔
۴- اہل اسلام کے گھر میں خدا اور رسولؐ کی اطاعت کا چرچا ہوتا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس معاملے میں اللہ کا حکم کیا ہے، اور رسول خدا کی سنت کیا ہے۔ صحابہ کی زندگی میں کیا نمونہ ملتا ہے۔ اس طرح خدائی احکام اور رسولؐ اور اصحاب رسول کے نمونہ سے ہدایت لیتے ہوئے گھر کو ایمان و اسلام کا گھر بنا دیا جاتا ہے۔
۵- مومن کا گھر پاکیزگی کا گھر ہوتا ہے۔ جس طرح غسل خانہ میں آدمی نہاتا ہے اور اس سے اس کا مادی جسم پاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مومن کا گھر روح کی پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں میں شرافت، انسانیت، سنجیدگی، اصول پسندی اور اعتراف حق کی خوشبو بسی ہوئی ہوتی ہے۔ اس ماحول میں رہتے ہیں، ان کی شخصیت مسلسل نکھرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکلتے ہیں تو وہ ایک ربانی انسان بن چکے ہوتے ہیں۔
لوگ اپنے گھر کو اس لحاظ سے بناتے ہیں کہ دیکھنے والے لوگ اس کو اچھا سمجھیں، مومن عورت اور مومن مرد کو اپنا گھر اس لحاظ سے بناتا ہے کہ وہ اللہ کی پسند کے مطابق ہو اور اللہ کے فرشتے وہاں آکر اس کو برکت دیں اور اس کو دنیا و آخرت کی سعادت سے بھر دیں۔
یہاں ازواج رسولؐ کو خطاب کرتے ہوئے مسلم عورتوں کو یہ عام ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کس طرح رہیں۔ اور اپنے گھروں کو کس نمونہ پر ڈھالیں۔ مسلم خاتون کو عام حالات میں اپنے گھر کے دائرہ میں رہنا چاہیے۔ دنیا دار عورتوں کی طرح زیب و زینت کی نمائش کا طریقہ انھیں اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی توجہ کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی عبادت گزار بن جائیں۔ اثاثہ کو اللہ کے لیے خرچ کریں۔ زندگی کے معاملات میں اللہ اور رسولؐ کا جو حکم ملے اس کو فوراً اختیار وہ اللہ اور رسولؐ کی باتوں کو سننے اور سمجھنے میں اپنا وقت گزاریں۔ یہ طرز زندگی وہ ہے جو بندوں کو پاک باز بناتا ہے، اور پاک باز بندے ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔