صلح بہتر ہے
Al-Risala, March 1996, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت اور مرد کے درمیان مختلف قسم کے جھگڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جھگڑا ختم ہونے والا ہی نہیں۔ اس طرح کے معاملات میں دونوں کیا کریں، اس کے بارہ میں قرآن میں مختلف قسم کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک جگہ نہایت اصولی رہنمائی دی گئی ہے جو اس قسم کے ہر معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے۔ وہ ہدایت یہ ہے :
و إن امرأة خافت من بعلها نشوزاً اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی او اعراضاً فلا جناح عليهما ان يصالحا یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ بينهما صلحاً والصلح خير وأحضرت الأنفس دونوں آپس میں کوئی صلح کرلیں، اور صلح بہتر ہے۔ الشح وإن تحسنوا وتتقوا فان الله كان بما حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم تعملون خبيراً - اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم (النساء ۱۳۸) کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔
گھریلو زندگی میں یا رشتہ داروں کے درمیان ہمیشہ جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی یہ نزاع صرف جذباتی نوعیت کی ہوتی ہے اور کبھی کسی واقعی معاملہ کے بارہ میں ہوتی ہے۔ کبھی عورت سمجھتی ہے کہ مرد کی زیادتی ہے، اور کبھی مرد کا خیال ہوتا ہے کہ زیادتی کرنے والی عورت ہے۔
ایسے مواقع پر ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ، قرآن کے الفاظ میں ، شح (حرص) کا طریقہ ہے، اور دوسرا صلح کا طریقہ۔ دونوں طریقوں کی نفسیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طریقہ کا رخ صرف اپنی طرف ہوتا ہے اور دوسرے طریقہ کا رخ دونوں کی طرف ۔
جس عورت یا مرد کے اوپر حرص کی سوچ غالب ہو وہ معاملہ کو صرف اپنی نسبت سے دیکھے گا۔ اپنے جذبات کی رعایت، اپنے مفاد کا تحفظ، اپنے وقار کی بحالی، اپنی ضد کو پورا کرنے پر اصرار، بس انھیں دائروں میں اس کا ذہن چلے گا۔ ایسے لوگ اپنے کو جانیں گے مگر وہ دوسرے کے نقطہ نظر سے بے خبر رہیں گے۔ اس قسم کا مزاج ہمیشہ صرف جھگڑے کو بڑھاتا ہے، وہ کبھی جھگڑے کو ختم کرنے والا ثابت نہیں ہوتا۔
دوسرا طریقہ صلح کا طریقہ ہے۔ یعنی دونوں فریقوں کی رعایت کرتے ہوئے تصفیہ کی کوشش کرنا۔ یا کچھ لے کر اور کچھ دے کر معاملہ کو ختم کرنا۔ اس طریقہ میں سنجیدگی ہے۔ اس میں انصاف ہے۔ اگر خود پسندی کا طریقہ ہے تو یہ دوسرا طریقہ انسانیت دوستی کا طریقہ۔
اس دنیا میں صلح کا طریقہ ہی کامیاب ہوتا ہے۔ نزاعات کا خاتمہ اگر ممکن ہوتا ہے تو اسی کے ذریعہ جہاں تک حرص کے طریقہ کا معاملہ ہے، وہ صرف نزاع کو بڑھانے میں مددگار ہے۔ یہ طریقہ نزاع کو بڑھا کر اس کو ایسا فساد بنا دیتا ہے جہاں حریص اپنے ملتے ہوئے فائدے سے بھی محروم ہو کر رہ جائے۔ حرص اور صلح کے طریقوں کا تعلق صرف بیوی اور شوہر کے مخصوص معاملات سے نہیں ہے، اس کا تعلق تمام نزاعات سے ہے، خواہ وہ گھر کے محدود ماحول میں پیدا ہوں یا باہر کے وسیع تر ماحول میں۔ اور ساری تاریخ کا تجربہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی معاملہ کبھی حرص کے اصول پر چل کر نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی معاملہ حل ہوتا ہے تو وہ صلح کے اصول کو اختیار کر کے ہی حل ہوتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب آپ ایک طرفہ طور پر صرف اپنی خواہشات کو جانیں اور صرف اپنے حق پر اصرار کریں تو یہی مزاج فریق ثانی کے اندر بھی پیدا ہوگا ۔ ایک ضد کے بعد جوابی ضد پیدا ہو کر معاملہ کو مزید پیچیدہ بنا دے گی، لیکن اگر آپ دو طرفہ انداز میں سوچیں ۔ آپ دوسرے سے کہیں کہ میں صلح اور امن چاہتا ہوں۔ آؤ ہم دونوں ضد کو چھوڑ دیں اور مفاہمت کے اصول پر چلتے ہوئے ادھر یا اُدھر معاملہ کو ختم کر دیں۔ جب آپ اس قسم کا مصالحانہ رویہ ظاہر کریں گے تو فریق ثانی کا ضمیر جاگ وہ بھی اپنی ضد کو چھوڑ دے گا اور کم سے کم پر راضی ہوتے ہوئے آپ سے صلح کرلے گا، جب کہ اس سے پہلے وہ زیادہ سے زیادہ کے لیے اصرار کر رہا تھا۔
خواہ گھر کا معاملہ ہو یا وسیع تر دائرہ میں سماج کا معاملہ ، جب بھی کچھ مرد اور کچھ عورتیں مل جل کر رہیں تو لازماً ان میں نزاع کی صورتیں پیدا ہوں گی۔ ایسے مواقع پر آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ قرآن کی ہدایت کے مطابق، احسان اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے اسے جلد از جلد ختم کر دیں۔ حرص انسانی روح کو گندہ کرتی ہے، اور صلح کا طریقہ انسان کو غیر حقیقی جھگڑوں سے اوپر اٹھا کر اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اعلیٰ افکار میں جی سکے ۔ حرص دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی ہے، اس کے برعکس صلح دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی۔