انتظار کیجئے
Al-Risala, March 1996, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۶۵ میں طلاق اور اس سے پیدا شدہ مسائل کا ذکر ہے۔ اس ذیل میں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ باہمی معاملات کو ہمدردی اور فراخ دلی کے ساتھ طے کرو۔ جب دو آدمیوں میں تفریق ہوتی ہے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چیز اپنے لیے سمیٹے۔ کیوں کہ اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ جو میرے پاس ہے وہی میرا ہے، اور جو دوسرے کے پاس چلا گیا وہ میرا نہیں اس لیے اپنے فائدہ کو محفوظ رکھنے کے لیے دوسرے کے ساتھ وہ تنگ نظری کا معاملہ کرنے لگتا ہے۔
اس سلسلہ میں دونوں فریقوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وأتمروا بینکم بمعروف (اور تم آپس میں ایک دوسرے کو نیکی سکھاؤ) اس روش میں بظاہر اپنے لیے گھاٹے کی صورت دکھائی دے رہی تھی، چنانچہ فرمایا کہ حوصلہ سے کام لو، اللہ تمہارے لیے مشکل کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا سیجعل ٱللَّهُ بعد عسر یسراً ( الطلاق ۶ اس ہدایت کا تعلق صرف طلاق کے معاملہ سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام نزاعی معاملات جب بھی کسی مرد اور کسی عورت کے درمیان لین دین پر جھگڑا پیدا ہو تو ہر ایسے معاملہ میں لینے کے ساتھ دینے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ اس روش کے نتیجہ میں اگر کچھ نقصان دکھائی دے تو اس کو وقتی سمجھ کر اس پر راضی ہو جانا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں اضافہ کے ساتھ اس کے نقصان کی تلافی کی جائے گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں انتظار بھی ایک مستقل پالیسی ہے۔ دنیا کا نظام جس قانون الہیٰ کی بنیاد پر چل رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں لازماً ہر شام کے بعد نئی صبح نمودار ہو۔ لوگ شر پھیلائیں تب بھی اس میں سے خیر برآمد ہو۔ کسی کو نقصان کا تجربہ ہو تب بھی زمانہ کی گردش دوبارہ اس کے لیے نفع کی صورتیں پیدا کر دے۔
اس دنیا میں انتظار سادہ طور پر محض انتظار نہیں ہے، وہ شام کے بعد صبح کے انتظار کے ہم معنیٰ ہے۔ وہ خدائی نظام سے اس چیز کو پانے کی امید کرنا ہے جس کو آدمی اپنی طاقت سے حاصل
نہیں کر سکتا تھا۔ انتظار بے عملی نہیں، انتظار خود ایک عمل ہے۔ اگرچہ یہ ذہنی عمل زیادہ تر سوچ کی سطح پر انجام پاتا ہے۔
صبح کو کوئی کھینچ کر نہیں لاتا۔ وہ کسی کو صرف انتظار کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ باغ کی فصل جو ایک کسان کو ملتی ہے وہ بھی انتظار کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ کسان صرف یہ کرتا ہے کہ وہ زمین میں بیج ڈال دیتا ہے۔ اس کے بعد ہزاروں ہزار ضروری عمل ہیں جن کو فطرت بطور خود انجام دیتی ہے۔ کسان گویا زرخیز زمین میں بیج ڈال کر انتظار کرتا ہے کہ کب وہ وقت آئے جب زمین و آسمان کا نظام اپنے عمل کو مکمل کرے اور قیمتی فصل اگا کر اس کے دامن میں ڈال دے۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ قرآن کا یہ ارشاد کہ اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا۔ ایک عام قانون فطرت کا اعلان ہے، ایک ایسا قانون فطرت جو ہمیشہ اپنا کام کرتا ہے، جس میں کبھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔
فطرت کے اس نظام پر آدمی کو اگر یقین ہو تو اس کے اندر جھنجلاہٹ اور مایوسی کا مکمل خاتمہ ہو جائے، وہ سراپا امید اور یقین میں جینے لگے۔
اگر آپ کو اس حقیقت کا یقین ہو جائے تو آپ کو کسی کی ضد کے مقابلہ میں اپنا فائدہ چھوڑنا گھاٹے کا سودا معلوم نہیں ہو گا، کیوں کہ آپ جانیں گے کہ اس کی حسن تلافی عنقریب خدا کی طرف سے کی جانے
وقار کی قربانی آپ کو قربانی معلوم نہیں ہوگی، کیوں کہ آپ کو یقین ہوگا کہ بہت جلد اس کا معاوضہ اضافہ کے ساتھ ملنے والا ہے۔ کسی کی اشتعال انگیزی پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل نہیں رہے گا۔ کیوں کہ آپ کو دکھائی دے گا کہ اس صبر کے پیچھے خدا کی عظیم نصرت میری طرف چلی آرہی ہے۔ انتظار بے عملی نہیں، انتظار خدا کی اس دنیا میں ایک مثبت پالیسی ہے۔ انتظار ہمت ہارنا نہیں ہے، انتظار اس بلند ہمتی کا ثبوت دینا ہے کہ آپ وقتی ہیجان سے اوپر اٹھ گئے ہیں اور مستقبل بینی کی بصیرت کے حامل ہیں۔ انتظار فریق ثانی کے مقابلہ میں ہتھیار نہیں ہے۔ انتظار یہ ہے کہ فریق ثانی سے مقابلہ کے لیے آپ نے اپنی ذات کو ہٹا دیا اور خدا وند عالم کو اپنی جگہ کے اوپر کھڑا کر دیا۔