Al-Risala · March 1996

پیغمبرانہ نصیحت

Al-Risala, March 1996, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح مسلم (باب الوصیۃ بالنساء) میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن کسی مومنہ سے بغض نہ رکھے ، اگر اس کی کوئی خصلت اس کو ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی (لا یفرك مؤمن مؤمنة إن کره منها خلقاً رضیٰ منها آخر) صحیح مسلم بشرح النووی ۵۸/۱۰ یہ حدیث بظاہر عورت کے بارہ میں ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود مرد کے بارہ میں بھی ہے۔ یہ ایک فطری اصول ہے جس کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ مرد کو بھی عورت کے ساتھ اسی اصول کے مطابق معاملہ کرنا ہے اور عورت کو بھی مرد کے معاملہ میں اسی اصول کو اختیار کرنا ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ کسی بھی مرد یا عورت کو ہر صفت نہیں دی جاتی۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہر اعتبار سے بے صلاحیت پیدا ہوتا اور نہ کوئی ہر اعتبار سے کامل ۔ کسی کے اندر اگر ایک خصوصیت پائی جارہی ہے تو اس کے اندر دوسری صفت مفقود ہوگی۔ ایسی حالت میں کوئی اگر ایسی چیز چاہے جو فطرت کے نظام میں موجود نہیں ہے تو اس کا ایسا چاہنا بے معنی ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ایسی چیز کا طالب ہے جو یہاں قابل حصول ہی نہیں۔

ایک شخص کو اگر ایسی بیوی ملے جس میں ظاہری کشش کم ہو تو اس کو ایسی خاتون سے نفرت نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یقینی ہے کہ اس کے اندر عملی خصوصیات بہت زیادہ ہوں گی۔ اگر جلد غصہ میں آجاتی ہوں تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جس کے اندر غصہ زیادہ ہوتا ہے اس کے اندر اصول پسندی ، اخلاص اور دیانت داری کی صلاحیت بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔

اگر آدمی بیزار ہونے کے بجائے قدر دانی کی نگاہ سے دیکھے تو وہ پائے گا کہ اس کی رفیقۂ حیات میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو غیر موجود خصوصیت کے مقابلہ میں زیادہ قیمتی ہیں۔ بیوی میں سطحی صفت دیکھنا چاہتا تھا ، جب کہ قدرت نے اس کے اندر گہری صفت پیدا کر رکھی تھی۔ اس کے اندر تفریحی پہلو کی تلاش کر رہا تھا ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ایسے پہلو رکھ دیے تھے جو

زندگی کو بنانے اور گھر کو آباد کرنے کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کو شوق تھا کہ اس کی بیوی ظاہر کے اعتبار سے پرکشش ہو، مگر خداوند عالم نے اس کے لیے ایسی بیوی مقدر کر دی جو باطن کے اعتبار سے پرکشش تھی، اور اول الذکر کے مقابلہ میں ثانی الذکر یقیناً زیادہ اہم ہے۔ یہی معاملہ دوسری صورت میں عورت کے لیے بھی ہے۔ عورت کی بھی مختلف خواہشیں ہوتی ہیں وہ چاہتی ہے کہ میرا رفیق ایسا ہو اور ویسا ہو۔ مگر اس کو بھی تقدیر کے اوپر راضی ہونا ہے۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ جو شخصیت اسے ملی ہے وہ اس سے زیادہ قیمتی ہو جس کو وہ چاہتی تھی۔ مثلاً ایک عورت کی خواہش تھی کہ اس کا شوہر دولت مند ہو، مگر تقدیر نے اس کو دولت مند شوہر یں دیا۔ مگر اس پر غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ایک شخص کے پاس اگر نہ زیادہ دولت نہ ہو تو کچھ اور چیزیں اس کے پاس دولت مندوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ مثلاً سنجیدگی، حساسیت، تواضع، ہمدردی، جدوجہد کا جذبہ، وغیرہ۔ اور یہ دوسری چیزیں یقینی طور پر دولت سے زیادہ قیمتی ہیں۔

اسی طرح مثلاً ایک عورت کو ایسا خاوند ملا ہے جو نسب کے اعتبار سے زیادہ اونچا نہیں جب کہ عورت کی خواہش تھی کہ اس کو عالی نسب خاوند ملے۔ اس فرق کی بنا پر عورت اگر اپنے خاوند کو کم سمجھنے لگے تو وہ بہت بڑی نادانی کرے گی۔ کیوں کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ عالی نسب ہوتے ہیں وہ اخلاق اور انسانیت میں زیادہ اونچے نہیں ہوتے۔ کودوسروں سے اونچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا یہ احساس ان کے اندر طرح طرح کی برائیاں پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اس فخر سے خالی ہو کہ وہ اعلیٰ حسب و نسب والا ہے، وہ نسبتاً زیادہ حقیقت پسند اور فرض شناس اور دوسروں کی رعایت کرنے والا ہوتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی اچھی چیز خرابیوں سے پاک نہیں، اسی طرح کوئی بھی معمولی چیز خوبیوں سے اس لیے عورت اور مرد کو چاہیے کہ اپنی ملی ہوئی چیز ہی میں خوبیاں تلاش کریں، نہ کہ اس کو چھوڑ کر کسی اور چیز کی طرف دوڑنا شروع کر دیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو کبھی مایوسی میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر بظاہر مایوسی کے واقعہ میں اللہ نے امید کا ایک پہلو چھپا دیا ہے۔

Printed page