Al-Risala · March 1996

جنت کا استحقاق

Al-Risala, March 1996, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں مرد بھی امتحان کی حالت میں ہے اور عورت بھی امتحان کی حالت میں کسی عورت یا مرد کو جو کچھ اس دنیا میں ملتا ہے وہ سب اس کے لیے امتحان کا پرچہ ہے۔ ایک کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے ٹھیس پہنچنے کے باوجود وہ لوگوں کے درمیان محبت کے ساتھ رہ سکے۔

عورت کے امتحان کا سب سے زیادہ اہم پرچہ اس کی سسرال ہے۔ عورت جب میکے میں ہوتی ہے تو وہاں وہ خونی رشتوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، ہر ایک اس کے لیے خونی رشتہ دار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر ایک کو وہ اپنا سمجھتی ہے۔ اس لیے جب کوئی ناخوشگواری کی بات پیش آتی ہے تو وہ سنگین بات بننے نہیں پاتی۔

میکے میں بھی بار بار ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ عورت کو گھر والوں سے کسی ناخوش گوار بات کا تجربہ ہو۔ شکایت اور تلخی اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔ وہ ہمیشہ اور ہر جگہ پیش آتی ہے۔ میں جب عورت کو گھر کے کسی فرد سے اس قسم کا ناموافق تجربہ ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ خون کا تعلق غالب آکر تلخی کے احساس کو ختم کر دیتا ہے۔

لیکن عورت کی جب شادی ہو جاتی ہے اور وہ رخصت ہو کر سسرال میں آتی ہے تو یہاں کی فضا بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں ہر رشتہ دار غیر خونی رشتہ دار ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں جب کوئی تلخی یا شکایت کی بات ہوتی ہے تو اگر چہ وہ عام فطری قانون کے تحت ہوتی ہے۔ مگر چونکہ میکے کی طرح سسرال میں خون کا تعلق اس پر غالب آنے کے لیے موجود نہیں ہوتا، اس لیے یہاں ہر بات اس کے لیے سنگین بات بن جاتی ہے۔ جو بات میکے میں بھول کے خانہ میں چلی جاتی تھی وہ سسرال میں یاد کے خانہ میں مسلسل زندہ رہتی ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو عورت اپنے میکے میں بے مسئلہ خاتون بن کر رہتی تھی، وہ سسرال میں مسائل کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔

یہی عورت کے امتحان کا پرچہ ہے۔ وہ سسرال میں بھی اسی طرح رہے جس طرح وہ میکے میں جس طرح میکے میں شکایت کے باوجود وہ افراد خاندان سے حسن تعلق باقی رکھتی تھی۔

وہ مسند عالی میر ابھجو ، شکایتیں کے باوجود خاندان کے افراد سے خوش گوار تعلقات کو باقی رکھے ۔ عورت ، آخرت کی جنتی کی مستحق ہے جو اپنے حسن عمل سے اپنے شوہر کے گھر کو جنت کا نمونہ بنا دے ۔ اس دنیا میں کوئی عورت یا مرد جب اپنے امتحان میں ناکام ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ قریبی ماحول کے افراد سے وہ کسی نہ کسی نفسیاتیی پیچیدگی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ نفسیات پیچیدگی بعض اوقات اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتی ہے کہ اس سے اوپر اٹھنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔ وہ نفسیاتی پیچیدگی کے اس طوفان میں گھر کر رہ جاتا ہے ۔ عورت اور مرد دونوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس نزاکت کا شعوری ادراک کرے اور اس سے غیر متاثر رہ کر اپنا مفوضہ کردار ادا کر سکے ۔

ایک عورت کو ایک پورے ماحول میں رہنا پڑتا ہے جہاں اس کا سابقہ بار بار بہت سے مردوں اور عورتوں سے پیش آتا ہے ۔ اس عمل کے دوران کبھی کسی کی بات پر اس کو غصہ آجاتا ہے ۔ کبھی کسی کی بات اس کو اپنے حق میں توہین آمیز معلوم ہوتی ہے ۔ کبھی کسی کی ترقی کو دیکھ کر اس کے اندر جلن اور حسد کا جذبہ ابھر آتا ہے ۔ کبھی اس کو یہ شبہ ہو جاتا ہے کہ فلاں کی موجودگی میں میں ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی ۔ کبھی اس کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ فلاں مرد یا عورت خواہ مخواہ میرے راستہ کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ کبھی اپنے بچوں کی بے جا محبت اور حمایت اس کو طرح طرح کی نادانیوں میں مبتلا کر دیتی ہے ۔

یہ تمام چیزیں عورت کی دنیا اور آخرت کو تباہ کرنے والی ہیں ۔ عورت کو ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرنا ہے ، اس کو ان تمام جذبات سے اوپر اٹھنا ہے ، ورنہ عورت اپنا وہ عظیم کردار ادا کرنے میں ناکام رہے گی ، جس کا سنہری موقع نظام فطرت نے اس کے لیے مہیا کیا ہے ۔ تاریخ میں بہت سی ایسی خواتین گزری ہیں جنھوں نے نہایت اعلیٰ کارنامے انجام دیے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی ۔ مگر یہ تمام وہی خواتین تھیں جن کے اندر بلند نظری کی صفت تھی ۔ جو اپنے آپ کو نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھانے میں کامیاب ہو گئی تھیں ۔ شکایت کی باتوں میں الجھنا آپ کی ترقی کے سفر کو روکتا ہے ۔ اور شکایت کو نظر انداز کر کے لوگوں سے اچھا معاملہ کرنا آپ کو اعلیٰ درجات تک پہنچا دیتا ہے ۔

Printed page