Al-Risala · March 1996

غلط فہمی

Al-Risala, March 1996, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح مسلم کتاب الصلاۃ (باب ما يقال فى الركوع والسجود) میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ ی نے بتایا کہ ایک رات کو میں نے رسول اللہ کو اپنے پاس نہ پایا۔ میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے پاس گئے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپ کو ڈھونڈا۔ پھر میں لوٹی تو آپ رکوع یا سجدہ میں تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ خدایا، تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ، میں کس خیال میں تھی اور آپ کسی اور حال میں ہیں : عن عائشة ، قالت افتقدت النبی صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فظننت أنه ذهب الى بعض نسائه فتحسست ثم رجعت فاذا هو راكع أو ساجد يقول سبحانك وبحمدك لا اله الا أنت - فقلت بأبی انت وأمي ، إنی لفي شأن وإنك لفي آخر (صحیح مسلم بشرح النووی ۴/ ۲۰۳)

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ غلط فہمی کتنی خطرناک چیز ہے۔ حضرت عائشہ ہر لحاظ سے ایک افضل خاتون تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت پیغمبر اعظم کی تھی ، اس کے باوجود حضرت عائشہ رض کو آپ کے بارہ میں ایک ایسی غلط فہمی ہوگئی جس کا سرے سے کوئی وجود نہ تھا۔ حضرت عائشہ نے رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرہ میں نہیں پایا تو انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ آپ کسی اور بیوی کے یہاں چلے گئے ہیں، حالاں کہ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ چوں کہ یہ رات کا وقت تھا، حضرت عائشہ نے رسول اللہ کی غیر موجودگی سے یہ قیاس کیا کہ آپ کو اپنی کسی زوجہ کی یاد آئی اور آپ وہاں چلے گئے ۔ حالاں کہ اصل بات یہ تھی کہ آپ کو خدا کی یاد آئی تھی اور آپ خدا کے آگے رکوع و سجود کے لیے مسجد میں چلے گئے تھے۔

غلط فہمی ہمیشہ کسی ظاہری مشابہت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ بظاہر مشابہت کے باوجود ، غلط فہمی کتنی زیادہ بے اصل ہوسکتی ہے ۔

گھریلو زندگی میں جو بگاڑ پیدا ہوتے ہیں اور جو کبھی کبھی اتنا بڑھتے ہیں کہ پورا خاندانی نظام منتشر

ہو جاتا ہے، ان کا سبب بیشتر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ غلط فہمی پیدا ہونے کے بعد اگر سنجیدگی کے ساتھ اس کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ محض بے بنیاد تھی۔ اس طرح پہلے مرحلہ ہی میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن اکثر لوگ غلط فہمی کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس طرح ایک بے بنیاد چیز بڑھ کر بگاڑ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

مذکورہ واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ایک چشم کشا واقعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاتون جب غلط فہمی میں پڑ سکتی ہے تو عام عورت اور عام مرد کیوں غلط فہمی میں نہیں پڑیں گے۔ لیے جب بھی کسی کے خلاف کوئی برا خیال ذہن میں آئے تو کبھی اس کو دل میں بٹھانا نہیں چاہیے بلکہ اس کی تحقیق کرنا چاہیے۔ اور تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئے اس کو فوراً مان لینا چاہیے۔ گھر کی زندگی بگاڑ اور انتشار سے بچی رہے گی۔

غلط فہمی کا صرف یہی نقصان نہیں ہے کہ وہ گھر کے نظام کو بگاڑنے والی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک سخت گناہ بھی ہے۔ کسی کے بارہ میں ایسا گمان کر لینا جو فی الواقع درست نہ ہو، وہ اللہ کو بیحد حتی کہ یہ بھی اندیشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں عورت یاجومرد کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں۔ غلط فہمی کو ماننے کا مزاج آدمی کی شخصیت کو بھی سخت نقصان پہنچاتا ہے۔ جو عورت یا مرد اس کمزوری کا شکار ہوں کہ وہ آسانی سے کسی کے بارہ میں غلط فہمی میں پڑ جائیں اور پھر اپنے ذہن کی صفائی نہ کریں وہ دھیرے دھیرے نہایت سطحی ہو جائیں گے۔ انسانوں کے لیے ان کے دل میں خیر خواہی وہ ایک غیر حقیقی دنیا میں جینے لگیں گے۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

غلط فہمی انسانی تعلقات کے لیے قاتل ہے۔ غلط فہمی سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہے۔ دو گروہوں کو لڑا دیتی ہے۔ غلط فہمی عظیم بربادیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ تا ہم اس ہولناک برائی کا علاج نہایت آسان ہے۔ اور وہ تحقیق ہے۔ جب بھی آپ کو کسی کے بارہ میں غلط فہمی پیدا ہو تو آپ فوراً اس کو مان نہ لیں بلکہ براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق کریں۔ اس کے بعد یقینی ہے کہ آپ کی غلط فہمی رفع ہو جائے گی اور آپ کی حفاظت گناہ سے بھی ہو جائے گی اور غلط اقدام

Printed page