حضرت خدیجہ
Al-Risala, March 1996, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجموعی طور پر گیارہ خواتین سے نکاح کیا۔ ان کو امہات المومنین کہا جاتا ہے۔ آپ کی پہلی اہلیہ حضرت خدیجہ بنت خویلد تھیں۔ حضرت خدیجہ آپ کی پہلی بیوی بھی ہیں اور اسی کے ساتھ پہلی مسلمان بھی۔
حضرت خدیجہ ایک مالدار خاتون تھیں ۔ وہ مکہ میں بیوہ کی حیثیت سے زندگی گزار رہی تھیں۔ اسی اثناء میں انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مال تجارت دے کر شام بھیجا۔ یہ معاملہ قدیم رواج کے مطابق، کچھ معاوضہ کی بنیاد پر ہوا تھا۔ آپ سفر سے واپس آئے تو آپ نے دوسروں سے زیادہ نفع کا حضرت خدیجہ نہایت شریف خاتون تھیں، ان کے اندر اعتراف کا غیر معمولی مادہ تھا، چنانچہ وہ دوسروں کو ایک اونٹ معاوضہ دیتی تھیں اور آپ کو انھوں نے دو اونٹ معاوضہ میں پیش کیا۔ اس تجربہ کے بعد وہ آنحضرت کی طرف راغب ہو گئیں۔ انھوں نے مکہ کی ایک بوڑھی خاتون کے ذریعہ آپ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس وقت آپ کے چچا ابو طالب آپ کے سرپرست تھے، آپ نے ان سے مشورہ کے بعد اس پیغام کو قبول کر لیا۔ ابو طالب نے خاندانی افراد کی موجودگی میں آپ کا نکاح خدیجہ سے کر دیا۔ نکاح کے وقت خدیجہ کی عمر چالیس سال اور آپ کی عمر 25 سال تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال ہوئی تو غار حرا میں فرشتہ جبرئیل آئے اور پہلی وحی آپ تک پہنچائی اور بتایا کہ آپ کو اللہ نے اپنا رسول مقرر فرمایا ہے۔ واپس آکر آپ نے اپنے اس تجربہ کو سب سے پہلے حضرت خدیجہ سے بیان فرمایا۔ حضرت خدیجہ بے حد ذہین اور نہایت نیک بخت خاتون ان کی سوچ میں کسی قسم کی کوئی کجی نہ تھی۔ انھوں نے فوراً آپ کے بیان کی تصدیق کی۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ اٹھیں ۔ اپنے اوپر ایک چادر ڈالی اور اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں ۔ ورقہ نے مسیحی مذہب اختیار کر لیا تھا اور تورات اور انجیل کا مطالعہ کیا تھا۔ حضرت خدیجہ نے جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غار حرا کا قصہ بتایا تو ورقہ نے فوراً کہا: اے خدیجہ، اگر تو نے سچ کہا تو یہ آنے والا وہی ناموس اکبر تھا جو اس سے پہلے موسیٰ کے پاس آیا تھا۔ محمد اس امت کے پیغمبر ہیں۔
خدیجہ اب تک صرف آپ کی بیوی تھیں۔ اب وہ نبوت کے کام میں آپ کی ساتھی بن گئیں۔ انھوں نے ہر طرح آپ کی مدد کی۔ اپنی ساری دولت آپ کے حوالے کر دی۔ آپ کے ساتھ ہر قسم کی مصیبتیں برداشت کیں ۔ شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ تین سال گزارے جو ناقابل بیان حد تک تکلیف دہ تھے۔ مگر ان سب کے باوجود کبھی ایک بار بھی اف کا کلمہ آپ کی زبان سے نہیں نکلا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ مکہ میں ایک دن حضرت جبریل آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ خدیجہ آپ کے پاس آ رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک برتن ہے جس میں کچھ کھانا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آ جائیں تو ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام پہنچا دیجئے اور میری طرف سے بھی۔ اور ان کو جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دیجئے جو موتی کا بنا ہوا ہوگا، اس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف (بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صَخَبَ فيه ولا نَصَبَ فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۶۶/۷ اس بشارت کا پس منظر یہ ہے کہ اس وقت مکہ میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کے ساتھ حضرت خدیجہ کو سخت پریشان کر رکھا تھا، آپ کے مکان کے پاس آ کر شور کرتے۔ آپ کے راستے میں کانٹا ڈالتے۔ آپ کو مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچاتے۔ اس کے نتیجہ میں حضرت خدیجہ کی پرسکون اور پرمسرت زندگی بالکل برباد ہو گئی تھی۔ رسول اللہ سے نکاح ان کے لیے سادہ طور پر نکاح نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو مصیبتوں کے طوفان میں ڈال دینے کے ہم معنی تھا۔
اس وقت آپ کو مذکورہ بشارت دی گئی۔ اس میں اللہ تعالی کی طرف سے براہ راست آپ کو یہ خوش خبری دی گئی کہ دنیا میں لوگ اگر تم کو پریشان کر رہے ہیں تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آخرت کی ابدی زندگی میں ہم نے تمہارے لیے ایسا پرراحت محل تیار کر رکھا ہے جو موتیوں اور جواہرات سے بنایا گیا ہو گا اور اس میں ہمیشہ کے لیے ایک ایسی پر سکون زندگی حاصل ہوگی جہاں نہ کسی کا شور داخل ہوگا اور نہ کوئی تکلیف دینے والا کبھی تم کو کوئی تکلیف پہنچا سکے گا۔
حضرت خدیجہ کو یہ انعام اس لیے دیا گیا کہ انھوں نے آنحضور کے ساتھ اس طرح وفادارانہ زندگی گزاری کہ کبھی کسی چیز کے لیے شکایت نہیں کی۔ آپ نے نبوت کا اعلان کیا تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر فوراً آپ کی تصدیق کی۔ آپ کے مشن میں آخر وقت تک وہ آپ کی ساتھی بنی رہیں ۔