ایمان کی طاقت
Al-Risala, March 1996, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
شیخ حمید الدین ابو حاکم قریشی (۵۳۷ - ۶۰۵ھ) ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو کچھ اور مکران کے علاقہ پر حکومت کر رہا تھا۔ اپنے والد سلطان بہار الدین کے انتقال کے بعد وہ تختِ سلطنت پر بیٹھے اور ۲۱ سال تک شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔
"ذکرِ کرام" میں ان کے واقعات کے ذیل میں لکھا ہے کہ شیخ حمید الدین کے ساتھ ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور "سلطان" کے بجائے ان کو "شیخ" بنا دیا۔ شیخ حمید الدین اپنی حکومت کے زمانہ میں دوپہر کو اپنے ایک باغ میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ اس باغ میں ان کا ایک محل تھا۔ اس محل کی نگرانی نونیت نامی ایک مسلم خادمہ کے سپرد تھی۔ اس مسلم خادمہ کے ذمہ یہ کام تھا کہ ہر روز وقت پر وہ بستر بچھا دے تا کہ شیخ حمید الدین آکر اس پر آرام کر سکیں۔
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک روز شیخ کے آنے سے پہلے خادمہ نے بستر بچھایا تو اس کو بستر بہت اچھا لگا۔ اس پر کچھ دیر کے لیے لیٹ گئی۔ ابھی وہ بستر سے اٹھی نہیں تھی کہ اس کو نیند آگئی۔ شیخ حمید الدین جب معمول کے مطابق آرام کرنے کے لیے محل پہنچے تو دیکھا کہ خادمہ نونیت بستر پر پڑی سورہی ہے۔ سلطان کے بستر پر خادمہ کو سویا ہوا دیکھ کرانہیں غصہ آگیا۔ انھوں نے حکم دیا کہ اس گستاخی پر خادمہ کو سو کوڑوں کی سزا دی جائے۔ حکم کی فوراً تعمیل ہوئی اور خادمہ کو کوڑے مارے جانے لگے۔ مگر یہ عام قسم کی خادمہ نہیں تھی ۔ مومنہ اور مسلمہ تھی۔ چنانچہ شیخ حمید الدین کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ خادمہ آہ و واویلا نہیں کر رہی ہے، بلکہ ہر کوڑے پر ہنس پڑتی ہے۔ انھوں نے سزا کو روک کر خادمہ کو بلایا اور اس سے خلافِ معمول ہنسنے کی وجہ خادمہ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا :
"مجھے خیال آیا کہ جب اس نرم بستر پر ایک بے اختیارانہ نیند کی یہ سزا ہے تو ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو روزانہ اس نرم بستر پر آرام کرتے ہیں"۔
خادمہ کے اس جواب کا سلطان حمید الدین پر اتنا اثر ہوا کہ ان کی زندگی بالکل بدل گئی۔ وہ سلطان کے بجائے شیخ بن گئے ۔ وہ دنیا اور اس کی لذتوں سے بے رغبت ہوگئے یہاں تک کہ درویشی کی زندگی اختیار کرلی۔ سلطنت چھوڑ کر شیخ حمید الدین لاہور آئے۔ یہاں حضرت سید احمد توختہ (جو ان کے نانا بھی ہوتے تھے) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے ہاتھ پر طریقہ شطاریہ میں بیعت کی اور ریاضتوں اور مجاہدوں کے بعد
ان کی خلافت حاصل کی۔ شیخ حمید الدین نے ، ۱۶ سال کی عمر پائی۔ آخر عمر میں وہ اُچ اور سکھر کے درمیانی علاقہ میں تبلیغ وارشاد کا کام کرتے رہے۔ اس علاقہ میں بہت سے لوگ ان کے ہاتھ پر ایمان لائے (تذکرہ صوفیا، پنجاب از اعجاز الحق قدوسی)
ایک عورت اگر صحیح معنوں میں ایمان اور اسلام پر ہو تو وہ خادمہ ہو کر بھی مالک سے زیادہ طاقت ور ہو جاتی ہے۔ اس کا ایک جملہ بادشاہ کو تڑپانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ تاریخ میں ایسی خواتین بہت ہیں جنہوں نے اپنے ایک مومنانہ کلمہ سے بڑے بڑے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔
بنو عباس کے آخری زمانہ میں تاتاریوں نے مسلم دنیا کو پامال کر ڈالا۔ ایک مؤرخ کے الفاظ میں: اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہے جس کا مقابلہ دہشت انگیزی اور غارت گری میں تاتاری حملہ سے کیا جا سکے۔ جس طرح کسی پہاڑ سے بہت بڑا تودہ کسی بستی پر اگرے اسی طرح تاتاریوں کے وحشی لشکر اسلامی تہذیب و تمدن کے مرکزوں پر ٹوٹ پڑے اور اپنے پیچھے ویران صحرا اور بھیانک کھنڈر کے سوا کچھ اور نہیں چھوڑا۔
جیسا کہ معلوم ہے ، یہ المناک حادثہ دوبارہ اس طرح بدلا کہ وحشی تاتاری اسلام قبول کر کے اسلام کے حامی اور پاسباں بن گئے۔ یہ انقلابی واقعہ جن لوگوں کے ذریعہ انجام پایا ان میں بڑی تعداد عورتوں کی تھی۔ تاتاریوں نے مسلم دنیا کو تاراج کرنے کے بعد مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو لونڈی بنا لیا۔ یہ خواتین جو تاتاری گھروں میں زبردستی داخل کی گئی تھیں، انھوں نے خاموشی کے ساتھ تاتاریوں پر اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت کو اسلام میں داخل کر دیا۔ - 226-234 .The Preaching of Islam, pp تاتاریوں (مغلوں) کا پہلا فرماں روا جس نے اسلام قبول کیا وہ برکہ خان تھا۔ اس نے ۱۲۵۶ء سے لے کر ۱۲۶۶ء تک حکومت کی۔ برکہ خان کی ماں ایک مسلمان تھی۔ اس نے بچپن سے اس کی تربیت اسلامی انداز پر کی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ بڑا ہو کر مسلمان ہو گیا۔ اسی طرح غازان خان کا بھائی الجائتو اپنی مسلمان بیوی کی ترغیب سے اسلام لے آیا۔
اسلامی خواتین کی تاریخ اس قسم کے کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔