حکومتی منصب
Al-Risala, April 1996, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
سفیان بن سعید بن مسروق الثوری ، ۹۷ ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ ۶۱ اھ میں بصرہ میں ان کی وفات ہوئی ۔ وہ حدیث کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی کتابوں میں الجامع الکبیر اور الجامع الصغیر بہت مشہور ہیں (الاعلام ۳ / ۱۰۲)
المسعودی نے اپنی کتاب مروج الذہب میں القعقاع بن حکیم کے حوالہ سے لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں خلیفہ المہدی کے پاس تھا۔ اس وقت سفیان الثوری وہاں لائے گئے۔ جب وہ آئے تو خلیفہ کو انھوں نے عام انداز سلام کیا، دربار خلافت والا سلام نہیں کیا۔
المهدی کا وزیر الربیع اس کے پاس تلوار پر ٹیک لگائے ہوئے کھڑا تھا۔ المهدی نے سفیان ثوری کو دیکھ کر کہا کہ تم ہم سے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ اور سمجھتے تھے کہ ہم تمہارے اوپر قابو نہیں مگر اب تم ہمارے اختیار میں ہو کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ ہم تمہارے اوپر جو فیصلہ چاہیں کریں۔ سفیان ثوری نے کہا کہ اگر تم میرے معاملہ میں کوئی غلط فیصلہ کرو گے توت اور مطلق خدا تمہارے اوپر فیصلہ کرے گا اور وہ حق اور باطل کو الگ الگ کر دے گا۔ وزیر ربیع نے کہا کہ اسے امیر المومنین کیا اس جاہل کے لئے سزا دار ہے کہ وہ آپ سے اس طرح خطاب کرے ۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن
المهدی نے ربیع سے کہا کہ چپ رہو، تمہارا برا ہو۔ وہ اور اس قسم کے لوگ یہی تو چاہتے ہیں کہ ہم انھیں قتل کردیں اور ان کو سعید ثابت کر کے اپنے کو شقی بنالیں ۔ کاغذ لاؤ اور ان کے لئے لکھو کہ ان کو کوفہ کا قاضی بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ وزیر ربیع نے اس کو لکھ کر انھیں دیدیا۔ ثوری کا کاغذ لے کر باہر نکلے۔ اس کو دجلہ میں پھینک دیا اور بھاگ گئے۔ اس کے بعد ان کو ہر شہر میں تلاش کیا گیا لیکن وہ نہیں ملے ۔ یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔
سفیان الثوری نے جب کوفہ کے قاضی کا عہدہ قبول نہیں کیا تو اس کے بعد خلیفہ نے کوفہ کے ایک اور عالم کو یہ عہدہ دے دیا۔ ان کا نام شریک بن عبداللہ بن الحارث النخعی جب یہ خبر مشہور ہوئی تو ایک عربی شاعر نے اس پر یہ شعر کہا کہ سفیان
بچ گئے اور اپنے دین کے ساتھ بھاگ گئے۔ اور شریک درہم کے پیچھے دوڑ پڑے: نحرز سفیان وفتر بدینہ و املی شريك مرصد اللدراهم شریک النخعی الکوفی بھی سفیان ثوری ہی کی طرح ایک بڑے محدث اور فقیہ تھے ۔ ان کے متعلق صاحب تذکرۃ الحفاظ نے لکھا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں نہایت عادل تھے (وکان عادل قضاة) ان کے عادل ہونے کا ایک واقعاتی ثبوت یہ ہے کہ خلیفہ المنصور العباسی نے ان کو ۱۵۳ھ میں کوفہ کا قاضی مقرر کیا۔ مگر ان کے غیر مصالحانہ رویہ کی وجہ سے اس نے انہیں معزول کر دیا۔ اس کے بعد المہدی نے دوبارہ ان کو کوفہ کا قاضی بنایا۔ مگر اس کے بعد موسیٰ الہادی کو دوبارہ انہیں معزول کرنا پڑا۔
اس حقیقت کے باوجود شاعر نے مذکورہ شعر کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں تقویٰ کا ایک غلط معیار رائج ہو گیا۔ وہ یہ کہ جو شخص عہدہ قبول نہ کرے وہ متقی ہے اور جو شخص عہدہ قبول کر لے وہ غیر متقی ۔ حالاں کہ اسلام میں اعمال کا مدار نیت پر ہے نہ کہ محض ظاہر پر۔ اضافی چیز ہے کہ کس نے حکومتی عہدہ قبول کیا اور کس نے قبول نہیں کیا۔ دیکھنے کی اصل چیز یہ ہے کہ عہدہ قبول کرنے کے بعد وہ اپنی نیت اور اپنے کردار کے اعتبار سے کیسا رہا۔ اہل علم اور اہل خیر کے لئے حکومتی عہدے قبول کرنا کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں۔ اس کی ایک انتہائی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے اور آپ نے مصر کے مشرک بادشاہ کی حکومت میں ایک اعلیٰ عہدہ قبول فرمایا۔ مگر بعد کے زمانہ میں علماء اسلام غیر ضروری طور پر حکومتی عہدوں کو برا سمجھنے لگے۔ یہاں تک کہا گیا کہ یہ حضرت یوسف کے لئے خاص تھا۔ اب ہمارے لئے وہ جائز نہیں (ان هذا كان ليوسف خاصة ، وهذا اليوم غير جائز) الجامع لاحکام القرآن ۹/ لیکن یہ نظریہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علماء کے لئے حکومتی عہدے قبول کرنا عین جائز ہے اور اس میں اسلام اور ملت کے لئے کثیر فوائد رھتے ہیں۔ البتہ شرط یہ ہے کہ نیت خالص ہو اور کسی بھی قسم کا دنیوی مفاد مقصود نہ ہو۔ اسلام میں ساری اہمیت صرف نیت یا اسپرٹ کی ہے، ظاہر کی اہمیت تمام تر اضافی ہے نہ کہ حقیقی ۔