Al-Risala · April 1996

مظلوم کے لیے خوش خبری

Al-Risala, April 1996, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

فورٹ وین جنرل گزٹ (Fort Wayne Journal-Gazette) امریکی ریاست انڈیانا کا ایک علاقائی اخبار ہے۔ اس نے ایک مقامی ریسٹوراں کے بارے میں ایک خبر چھاپی۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ انسپکٹر نے ریسٹوراں کی جانچ کی تو اس نے اس کے ایک کمرے میں چوہے کی بیٹ (rat droppings) اخبار کے ہیڈ لائن رائٹر نے اس خبر کی سرخی یہ لگا دی کہ جانچ کرنے والے نے ہوٹل میں چوہے یعنی ریسٹوراں میں صرف چوہے کی کچھ بیٹ ملی تھی مگر سرخی میں یہ لکھ دیا کہ ریسٹوراں میں زندہ چوہے پائے گئے۔

یہ ۱۹۹۲ کا واقعہ ہے۔ مذکورہ اخبار نے اگر چہ اگلے دن اس کی معذرت چھاپ دی تھی مگر ریسٹوراں کا مالک اس معاملہ کو عدالت میں لے گیا۔ اس نے عدالت سے کہا کہ اس غلط سرخی (inaccurate headline) کی وجہ سے میرے ہوٹل کی بدنامی ہوئی اور مجھے بہت زیادہ نقصان لمبی سماعت کے بعد عدالت نے ریسٹوراں کے دعوی کو قبول کرتے ہوئے اخبار کے اوپر تقریباً تین کروڑ روپیہ (985,000 $) کا جرمانہ عائد کیا جو اس کو ریسٹوراں کے مالک کو ادا کرنا (دی پائینیر ۲۴ جون ۱۹۹۴)

ہندوستان جیسے ملکوں میں تو اس طرح کی زیادتیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ حال ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کے خلاف ایسی زیادتی کر بیٹھے تو مظلوم آدمی خوش ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ عدالت سے رجوع کر کے وہ اس کا بھر پور معاوضہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو اپنے عقیدہ کی رو سے اس وقت خوش ہونا چاہیے جب کہ کوئی شخص ان کے خلاف ظلم و زیادتی کا کوئی واقعہ کرے۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر ایک شخص کسی کو جانی و مالی نقصان پہنچائے، اس کی جائداد غصب کرلے، اس کے اوپر خلاف واقعہ الزام لگائے، اس کی کردار کشی کرے تو آخرت کی عدالت میں ظالم کو بلایا جائے گا اور اس کی نیکیاں اس سے لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیوں کی مقدار کم ہو تو مظلوم کے گناہوں کو لے کر اس کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔ مظلوم ہلکا پھلکا ہو کر جنت میں جائے گا اور ظالم اپنے ساتھ دوسروں کے گناہوں کے بوجھ سے لدا ہوا جہنم میں داخل ہوگا۔

Printed page