محقق علماء کا اختلاف
Al-Risala, January 1996, pp. 15–18
By Maulana Wahiduddin Khan
علماء کی اکثریت کا دعویٰ اگرچہ یہی ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے ، اب صرف اجتہاد مقید کا دروازہ کھلا ہوا ہے ۔ مگر محقق علماء کی ایک تعداد اس نقطہ نظر کو نہیں مانتی ۔ اس نے اس کو بے بنیاد قرار دے کر اسے رد کر دیا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس مشہور حدیث کے مطابق ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ اللہ میری امت کو کبھی ضلالت پر جمع نہیں کرے گا (إن الله لا يجمع أمتي على ضلالة) الترمذی، کتاب الفتن، بحوالہ جامع الاصول في احاديث الرسول ١٩٦/٩ یہ رائے کہ اب چار مروجہ فقہی اسکول کے باہر جا کر اجتہاد نہیں کیا جا سکتا ، یقینی طور پر خدا کے دین میں ایک انحراف ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ تم میں سے کسی شخص سے جب سوال کیا جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کتاب اللہ میں دیکھے ۔ اگر وہ اس میں نہ پائے تو سنت رسول میں دیکھے ۔ اگر اس میں بھی نہ پائے تو جس پر مسلمان مجتمع ہوئے اس میں دیکھے ۔ اور اگر اس میں بھی نہ پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ خود اجتہاد کرے ( اذا سئل احدكم فلينظر في كتاب الله فإن لم يجد ففي سنة رسول الله فإن لم يجد، فيها فلينظر فيما اجتمع عليه المسلمون، وإلا فليجتهد) جامع الاصول ١٩٦/٩ مذکورہ حدیث رسول کے مطابق ، ضروری تھا کہ سارے ہی علماء انحراف میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ علماء پھر بھی موجود رہے ہیں جو اس معاملہ میں امر حق کا اعلان کریں ۔ چنانچہ ہر دور میں ایسے محقق علماء اٹھتے رہے ہیں جنھوں نے دین میں اس فکری انحراف کی تردید کی ہے ۔ یہاں ہم چند را ئیں نقل کرتے ہیں : علامہ بحر العلوم عبد العلی حنفی نے لکھا ہے کہ کچھ لوگوں کا قول ہے کہ اجتہاد مطلق ائمہ اربعہ کے ساتھ ختم ہو گیا ۔ یہاں تک کہ ان کا دعویٰ ہے کہ اب امت پر ان چاروں میں سے کسی ایک امام کی تقلید واجب ہے ۔ مگر یہ سب محض بے عقلی کی باتیں ہیں جس پر وہ کوئی دلیل نہیں دے سکے ہیں ۔ ان کی اس بات کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔ ایسے لوگوں پر وہ حدیث صادق آتی ہے جس
میں آپ نے فرمایا کہ انھوں نے علم کے بغیر فتویٰ دیا اور پھر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا: واما الاجتهاد المطلق فقالواانہ اختتم بالائمة الاربعة حتى اوجبواتقلید واحد من هؤلاء على الامة وهذا كله هوس من هوساتهم لم يأتوا بدليل ولا يعبأ بكلامهم وانما هم من الذين حكم الحديث)، نهم (فتوا بغیر علم فضلوا وضلوا (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت، مطبع نول کشور لکھنؤ، جلد ثانی، صفحه ۶۲۴) شیخ محمد مصطفٰی المراغی (۱۹۴۵-۱۸۸۱) کا شمار جدید مصر کے اکابر علماء میں ہوتا ہے۔ ازہر شریف اور اس سے ملحق دینی اداروں کے تعلیمی و تربیتی نظام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے میں قابلِ قدر اصلاحی و تجدیدی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اجتہاد کے پرزور حامی تھے۔ یہاں تک کہ جو لوگ اجتہاد کو نا ممکن بتاتے ہیں ان کے خیال کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب بحوث في التشريع الاسلامی (صفحه ۱۱۔ ۱۰) میں لکھا ہے کہ مصر کے موجودہ دینی اداروں میں ایسے علماء موجود ہیں جن کے اندر اجتہاد کی شرائط پوری طرح پائی جاتی ہیں اور اس لیے ان کے اوپر تقلید حرام ہے روانی مع احترامى لرأى القائلين باستحالة الاجتهاد وخالفهم في رأيهم واقول ان في علماء المعاهد الدينية فى مصر من توافرت فيهم شروط الاجتهاد ويحرم عليهم (لتقليد)
مشہور یمنی عالم محمد بن علی الشوکانی (م ۱۸۳۴-۱۷۶۰) ان لوگوں میں سے ہیں جو اجتہاد کو علماء امت پر فرض قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب (القول المفيد فى الاجتهاد والتقليد میں لکھا ہے :
"لا يخفى على من له أدنى فهم أن الاجتهاد قد يسّره الله للمتأخرين - تيسيراً لم يكن للسابقين - لأن التفاسير للكتاب العزيز قد دونت وصارت من الكثرة إلى حد لا يمكن حصره ، والسنة المطهرة قد دوّنت وتكلم علماء الامة على التفسير والتصحيح والترجيح والتجريح بما هو زيادة على ما يحتاج إليه المجتهد -- فالاجتهاد على المتأخرين أيسر وأسهل من الاجتهاد على المتقدمين ولا يخالف في هذا من له فهم صحيح وعقل سوى “
یعنی جو شخص بھی ادنیٰ فہم وادراک رکھتا ہے اس سے یہ بات مخفی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعد کے لوگوں کے لیے اجتہاد اتنا آسان کر دیا ہے جتنا کہ وہ پہلے لوگوں کے لیے آسان نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی تفسیریں لکھی جا چکی ہیں۔ جن کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ حدیث کی بھی تدوین ہو چکی ہے۔ پھر امت کے علماء نے اس سلسلہ میں تفسیر و تصحیح اور ترجیح و تجریح کے اعتبار سے جو کچھ کہا اور لکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جس کی ایک مجتہد کو ضرورت ہوتی پس اجتہاد پچھلے لوگوں کی بہ نسبت بعد کے لوگوں کے لیے زیادہ سہل اور آسان تر ہے جس شخص کے پاس بھی فہم صحیح اور عقل سلیم ہے وہ اس میں اختلاف نہیں کر سکتا۔ سلطان العلماء، عبدالعزیز ابن عبد السلام (۱۲۶۲ - ۱۱۸۱) نے اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اجتہاد کا درجہ حاصل کرنا ممکن ہے جو کہ فتویٰ اور قضاء کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ اور یہ اس زمانے تک باقی رہے گا جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ اس وقت علم اٹھا لیا جائے گا۔ مگر ہم ابھی اس زمانے تک نہیں پہنچے ہیں، ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ امت غلطی پر مجتمع ہو چکی ہے، جو سراسر باطل ہے (إن رتبة الاجتهاد مقدور على تحصيلها، وهي شرط في الفتوى والقضاء، وهي موجودة الى الزمان الذي أخبر عنه عليه الصلاة والسلام بانقطاع العلم - ولم نصل اليه الآن ، والّا كانت الأمة مجتمعةً على الخطأ - وذلك باطل) شرح مختصر ابن الحاجب ، باب القضاء اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ دیکھیے ابن عبدالسلام نے کتنی صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اجتہاد ناممکن نہیں، اور یہ کہ ان کے زمانے تک باقی رہا ہے، اور یہ کہ اجتہاد کے فقدان سے یہ لازم آتا ہے کہ ساری امت ناحق پر اکٹھا ہو جائے اور یہ محال ہے ہے(فانظر كيف صَرَّح بأن رتبة الاجتهاد غير متعذرة ، وأنها باقية إلى زمانه ، وبأنه يلزم من فقدها (اجتماع الامة على الباطل وهو محال) الرد علی من اخلد الى الارض ، صفحه ۲۴ مولانا اشرف علی تھا نوی(۱۹۴۳۔ ۱۸۶۳) نے اس مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا ہے : اگرچہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مذہب خامس مستحدث کرنا جائز نہیں۔ یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اس پر عمل جائز نہیں کہ حق دائر و منحصر اسی چار میں ہے۔ مگر اس پر بھی
کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ اہل ظاہر ہر زمانہ میں رہے ہیں۔ اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہی ہوں ۔ اس اتفاق سے علیحدہ رہے۔ دوسرے اگر اجماع ثابت بھی ہو جائے تو تقلید شخصی پر کبھی اجماع نہیں ہوا(تذکرۃ الرشید ، جلد اول، صفحه ۱۳۱)