غلط فہمی
Al-Risala, April 1996, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح البخاری (کتاب النکاح ، باب عرض الانسان ابنته او اخته علی اهل الخیر) میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے والد حضرت عمر بن الخطاب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا جب ان کی صاحبزادی حفصہ بیوہ ہوگئیں جن کا نکاح خنیس بن حذافہ السہمی سے ہوا تھا۔ اور وہ مدینہ میں وفات پاگئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ پھر میں عثمان بن عفان کے پاس آیا اور میں نے ان کو حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا۔ جواب دیا کہ میں اس پر غور کروں گا۔ چند دن کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس وقت میں نکاح نہیں کر سکوں گا۔
حضرت عمر کہتے ہیں کہ پھر میں ابو بکر صدیق سے ملا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی لڑکی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں۔ ابو بکر خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا (فصمت ابو بکر فلم يرجع الى شيئاً)
حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابو بکر پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ غصہ آیا (وكنت اوجد عليه منى على عثمان ، وفي رواية : فغضب على ابی بکر وقال فيها ، كنت اشد غضبا حين سكت منى على عثمان)
پھر میں کچھ دن تک ٹھہرارہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا تو آپ کے ساتھ میں نے حفصہ کا نکاح کر دیا۔ اس کے بعد میری ملاقات ابو بکر سے انھوں نے کہا کہ شاید تم مجھ پر غصہ ہوئے ہو گے جب کہ تم نے مجھ سے حفصہ کا پیغام دیا تھا۔ اور میں نے تم کو کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس معاملہ میں جو اب سے مجھے صرف اس چیز نے روکا تھا کہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کا ذکر کیا ہے۔ اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میں رسول اللہ کا راز کھول دوں۔ اگر آپ ان کو چھوڑ دیتے تو میں ضرور انھیں قبول کر لیتا (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۸۱/۹-۸۳) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں انتہائی جلیل القدر صحابی ہیں۔ اس کے باوجود ۱۲ الرسائل اپریل ۱۹۹۶
ایسا ہوتا ہے کہ ایک صحابی دوسرے صحابی کے رویہ کو اتنا زیادہ غلط سمجھ لیتا ہے کہ اس پر اس کو غصہ حالاں حقیقت کے اعتبار سے اس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل غلط فہمی کا معاملہ تھا نہ کہ غلط کاری کا۔
اصل یہ ہے کہ حضرت عمر ابتدائی مرحلہ میں مذکورہ واقعہ کو محض ظاہر کے اعتبار سے لے ظاہر کے اعتبار انہیں دکھائی دیا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان نے نامناسب رویہ مگر جب معاملہ کی اصل حقیقت معلوم ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کا رویہ بالکل درست تھا۔ اس میں غصہ ہونے کی کوئی بات سرے سے موجود ہی نہ تھی۔
ایک صحابی کو جب دوسرے صحابی کے معاملہ میں غلط فہمی ہو سکتی ہے تو عام مسلمان کو دوسرے مسلمان کے معاملہ میں بھی یقیناً غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ کسی کے متعلق بری رائے قائم کرنے میں وہ انتہائی محتاط ہو۔ عین ممکن ہے کہ بعض ظاہری چیزوں کو دیکھ کر وہ بری رائے قائم کر رہا ہو۔ حالانکہ کہ زیادہ گہرے اسباب بتا رہے ہوں کہ یہ سراسر غلط فہمی کی بات ہے، کیونکہ وہاں سرے سے کوئی غلط فعل پایا نہیں جارہاہے۔
موجودہ دنیا میں باہمی تعلقات میں بگاڑ کا سبب اکثر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ حتی کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ظاہر حالات کے اعتبار سے غلط فہمی بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔
یہ غلط فہمی دو مخلص افراد یا دو سچے تصور گروہوں کے درمیان بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ جب بھی غلط فہمی کی صورت پیدا ہو تو ایسا کرے کہ اس پر یقین کر کے بیٹھ جائے ۔ بلکہ متعلق افراد سے مل کر اس کی تحقیق کرے ۔ کامل تحقیق کے بغیر ہر گز وہ اس کو تسلیم نہ کرے ۔ تحقیق کا طریقہ غلط فہمی سے پیدا ہونے والی برائیوں کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پھر یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق کے بعد جب غلط فہمی بے بنیاد ثابت ہو تو فورا اپنے دل و دماغ سے اس کو نکال دے۔ اپنے آپ کو دوبارہ اسی طرح معتدل بنالے جس طرح وہ غلط فہمی کی صورت پیدا ہونے سے پہلے تھا۔
تحقیق کو اپنا اصول بنا لیجئے ۔ اور پھر آپ کو کسی سے شکایت نہیں ہوگی۔