حق کا اعتراف
Al-Risala, April 1996, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں ۱۶ھ میں عراق فتح ہوا۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ دجلہ و فرات کے علاقہ کی زرخیز زمینیں جو مسلمانوں کے قبضہ میں آئی ہیں، ان کا انتظام کس طرح کیا سابق رواج کے مطابق، فوجی سرداروں کی رائے یہ تھی کہ اس مفتوحہ زمین کا بڑا حصہ فوجیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر کی رائے اس کے خلاف تھی۔ ان کی رائے یہ تھی کہ زمین کو سرکاری بیت المال کے زیر تصرف رہنا چاہئے تاکہ آئندہ نسلوں تک اس کا فائدہ تمام لوگوں کو مل سکے ۔
اس مسئلہ پر سخت اختلاف ہوا اور کئی دن تک بحث جاری رہی۔ خاص طور پر خالد بن الولید ، عبد الرحمن بن عوف اور بلال بن رباح نے اتنی زیادہ حجت کی کہ حضرت عمر فاروق کی زبان سے یہ الفاظ نکل آئے کہ : اللہم اکفنی بلالاً ۔ یعنی اے اللہ، تو مجھ کو بلال سے اس کے بعد اس مسئلہ کو طے کرنے کے لئے ایک مشاورتی بورڈ بنایا گیا جس میں حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت طلحہ جیسے لوگ تھے۔ اس کے باوجود اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
کئی دن کی بحث کے بعد آخر کار حضرت عمر کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی کہ (غنیمت میں) ان مفلس مہاجروں کے لئے حصہ ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے ہیں۔ وہ اللہ کا فضل اور رضا مندی چاہتے ہیں ۔ اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ سچے ہیں۔ اور جو لوگ پہلے سے دار الاسلام میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اور ایمان استوار کئے ہوئے ہیں، جو ان کے کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں ، اور وہ اپنے دلوں میں اسے تنگی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جاتا ہے۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں، اگر چہ ان کے اوپر فاقہ ہو۔ اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ اور جو اُن کے بعد آئے (و الذين جاؤا من بعد هم ) الحشر ۸ - ۱۰ حضرت عمر فاروق نے لوگوں کو قرآن کی یہ آیت سنائی اور کہا کہ اس آیت میں غنیمت
اور فی کا حکم بیان کرتے ہوئے والذين جاؤا من بعدهم اور جوان کے بعد آئے کا اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فتوحات کے ذریعہ جو اموال ملیں وہ صرف حال کے لوگوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ اس میں آنے والی نسلوں کا بھی حق ہے۔ اگر ان مفتوحہ زمینوں کو میں موجودہ فاتحین کے درمیان بانٹ دوں تو ہماری آئندہ نسلوں کو اس میں حصہ نہیں مل سکے گا۔ یہ قرآن کے منشاء کے خلاف ہوگا۔ حضرت عمر کے اس استدلال کو تمام لوگوں نے مان لیا اور ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہی کی رائے درست ہے۔
اس کے بعد یہ اصول قائم ہو گیا کہ فتوحات کے ذریعہ جو زمینیں اسلامی مملکت میں داخل ہوں وہ حکومت اسلامی کی ملکیت قرار پائیں نہ کہ فوج کے افراد میں تقسیم ہو کر ان کی انفرادی ملکیت میں
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورہ حشر کی مذکورہ آیت نے لوگوں کے ہونٹ سی دئے اور اب ان کے لئے کچھ بولنے کا موقع باقی نہ رہا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں میں مقبولیت حق کا مادہ ان کی بحث نہ سمجھنے کی وجہ سے تھی نہ کہ محض سرکشی کی بنا پر۔ اس لئے جب قرآن کی آیت نے حقیقت کھول دی تو اس کے بعد ان کے لئے سمجھنا کچھ دشوار نہ رہا۔
اس دنیا میں بولنے کی گنجائش اتنی زیادہ ہے کہ آدمی ہر دلیل کے جواب میں اس کے خلاف بولنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ پا لیتا ہے۔ اب جو لوگ غیر سنجیدہ ہیں وہ اسی طرح ہر دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ پیش کرکے اسے رد کر دیتے ہیں۔ مگر جو لوگ سنجیدہ ہوں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہوں۔ وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات کسی بات کے مخالف بن مگر جب اس بات کو زیادہ واضح دلائل سے ثابت کر دیا جائے تو وہ فوراً مان لیتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں اصل بات کو ماننے میں کوئی الجھن پیش نہیں آتی۔
غلط کار وہ نہیں ہے جو غلطی کرے۔ غلط کار وہ ہے جو صحیح اور غلط واضح ہو جانے کے بعد بھی غلط روش پر قائم رہے۔ غلطی کسی بھی شخص سے ہو سکتی ہے۔ مگر جب دلیل سامنے آجائے تو آدمی کو چاہئے کہ اس کے آگے جھک جائے۔ وہ غلط روش کو ترک کر کے صحیح روش کو اختیار کر لے۔ یہی مومن کا اور یہی سچے انسان کا طریقہ ہے۔