وقت اتحاد
Al-Risala, April 1996, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
نبوت سے پہلے جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ابھی ۳۵ سال تھی، مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ کعبہ کی تعمیر کا مسئلہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کعبہ کی جو تعمیر کی تھی، وہ زمانہ گزرنے کی وجہ سے بوسیدہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ قریش کو خیال ہوا کہ اس کو از سر نو تعمیر کیا جائے۔
پہلا مسئلہ قدیم دیوار کو توڑنے کا تھا۔ اب تمام لوگ ڈر گئے۔ ہر ایک اس اندیشہ میں تھا کہ اگر اس نے اس مقدس عمارت پر پھاوڑا چلایا تو کہیں اس کے اوپر کوئی آفت نازل نہ ہوجائے۔ آخر کار ولید بن مغیرہ نے ہمت کی۔ وہ کعبہ کے سامنے پھاوڑا لے کر کھڑا ہوا اور کہا: اللھم لم نزغ، اللھم إنا لا نريد إلا الخير (اے اللہ، ہم نے ٹیڑھی راہ اختیار نہیں کی۔ اللہ، ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے)۔
اس کے بعد سب نے مل کر دیوار توڑی۔ مگر قدیم بنیاد کو باقی رکھا۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کھدائی میں ان کو ایک پتھر ملا۔ اس پر یہ کلمات لکھے ہوئے تھے: مَنْ يَزْرَعْ خَيْراً يَحْصُدُ غِبْطَةً ۔ ومن جو آدمی نیکی بوئے گا وہ قابل رشک فصل کاٹے يَزْرَعُ شَرّاً يَحْصُدُ ندَامَةً ۔ اور جو آدمی برائی بوئے گا وہ ندامت کی السيّاتِ وَتجْزَوْنَ الحسنات. اجل، كما فصل کاٹے گا۔ کیا تم لوگ برائی کرو گے اور اچھا لا يُجْتَنَى مِنْ الشَّوْكِ العنب (سيوابن ہمام) بدلہ پاؤ گے، ایسا نہیں ہوسکتا، جس طرح کانٹے کے پیڑ سے انگور نہیں توڑے جاسکتے۔
قریش کے قبیلہ نے کعبہ کی تعمیر کے لئے پتھر جمع کئے۔ پھر اس کی تعمیر شروع کی۔ جب تعمیر اس مقام پر پہنچی جہاں حجر اسود کو دوبارہ لاکر نصب کرنا تھا تو قبائل کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ یہ ایک شرف کی بات تھی، چنانچہ ہر قبیلہ یہ چاہنے لگا کہ وہی حجر اسود کو اٹھائے اور وہی اس کو اس کے سابقہ مقام پر لا کر رکھے۔ لوگ لڑنے مرنے پر تیار ہوگئے؛ یہاں تک کہ بنو عبد الدارخون سے بھرا ہوا ایک کٹورا لائے اور اس میں اپنی انگلیاں ڈال کر آخر وقت تک لڑائی کرنے کا عہد کیا۔
اسی تکرار میں چار یا پانچ دن گزر گئے۔ آخر ان کو ہوش آیا۔ سب کے سب مسجد کے اندر اکٹھا ہوئے۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کیا اور انصاف پر راضی ہوگئے (ثم انهم اجتمعوا في المسجد و تشاوروا و تناصفوا صفحه ۲۱۳ )
ابوامیہ بن المغیرہ اس وقت قریش میں سب سے زیادہ سن رسیدہ تھا۔ اس نے کہا کہ اے قریش کے لوگو، تم لوگ اپنے اختلاف کا فیصلہ اس طرح کرو کہ کل صبح کو جو پہلا آدمی مسجد کے دروازہ سے داخل ہو اس سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرالو۔ سب نے یہ رائے مان لی۔ اگلے دن جو شخص سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ نے جب آپ کو دیکھا تو کہا کہ یہ تو الامین ہیں۔ ہم ان پر راضی ہیں، یہ تو محمد ہیں (هذا الامین، رضينا، هذا محمد) ، اس کے بعد لوگوں نے اپنا مسئلہ آپ کے سامنے رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ تم ایک کپڑا لاؤ۔ چنانچہ کپڑا لا کر آپ کو دیا گیا۔ آپ نے کپڑے کو زمین پر پھیلایا اور پھر حجر اسود کو اٹھا کر اس کپڑے پر رکھ دیا۔ آپ نے کہا کہ اب ہر قبیلہ اس کا ایک ایک کو نا پکڑلے پھر سب مل کر ایک ساتھ اس کو اٹھائیں۔
انھوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب وہ اس کو لے کر اصل مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں وہاں رکھ دیا جہاں اس کو نصب اس کے بعد کعبہ کی تعمیر مکمل کی گئی۔ اختلاف اور لڑائی کا معاملہ پر امن طور پر حل ہو گیا۔ اس واقعہ سے اتحاد کے دو اصول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ قائد جو مرکز اتحاد کے طور پر کام کرے ، اس کو اخلاقی اعتبار سے لوگوں کا معتمد علیہ ہونا چاہئے۔ لوگ اس کو سچے اور امانت دار کی نگاہ سے دیکھیں۔ لوگ اس کو اپنے سے کچھ اوپر محسوس کریں۔ جب تک ایسا ایک شخص درمیان میں نہ ہو، لوگوں کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔
دوسری بات یہ کہ قائد اتحاد دوسروں کا لحاظ کرنے والا ہو۔ ثمرہ اتحاد میں وہ تمام لوگوں کو حصہ دار بنائے ۔ اتحاد ی عمل میں وہ ہر ایک کو شریک کرے۔ کامیاب قائد دوسروں کے درمیان انہی کی طرح رہتا ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ تواضع کا سلوک کرتا ہے۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لئے خیر خواہی ہوتی ہے۔ وہ قائد ہو کر بھی اپنے آپ کو دوسروں کے برابر رکھتا ہے۔ یہی سچا قائد ہے۔