Al-Risala · April 1996

وقت کا استعمال

Al-Risala, April 1996, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے (افضل العبادة انتظار الفرج)، یہ ایک حکیمانہ بات ہے جو خدا کے پیغمبر نے کہی۔ وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے الجھے ہوئے معاملات میں اکثر کسی مسئلہ کا سادہ حل یہ ہوتا ہے کہ اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیا جائے ۔

خدا نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں سارے اسباب ہمیشہ اصلاح اور تعمیر کے لئے کام کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ راستہ میں کوئی گندگی ڈال دیں تو فوراً لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریا وہاں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ اس کو تحلیل (decompose) کرکے اس کو مفید گیس میں تبدیل کر سکیں ۔ یہی فطرت کے پورے نظام کا حال ہے، اس لئے انتظار کی پالیسی اس دنیا میں کوئی بے عملی کی پالیسی نہیں۔ وہ عین عمل کی پالیسی ہے کیوں کہ انسان کا انتظار کرنا گویا فطرت کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ حرکت میں آکر اس کے مسئلہ کو زیادہ بہتر طور پر حل کر دے۔ اس بات کو شاعر نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے:

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ایک بار میں ایک بڑے شہر میں گیا۔ وہاں میری ملاقات ایک تاجر سے ہوئی ۔ وہ سخت پریشان تھے، حتیٰ کہ ان کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایک تجارتی سامان تیار کیا، مگر جب وہ اس کو مارکیٹ میں لائے تو انہیں بروقت خریدار نہ مل سکے ۔ ان کا سامان گودام میں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی دعا یا عمل بتائیے جس سے میں اس تجارتی بحران سے

میں نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر ایک نصیحت لکھی اور اس کاغذ کو ایک لفافہ میں بند کر کے انہیں دے دیا، میں نے کہا کہ اس لفافہ کو آپ دس دن کے بعد کھولئے گا ۔ اس لفافہ کے اندر جو کاغذ بند تھا اس پر میں نے مذکورہ حدیث کی روشنی میں ایک مختصر جملہ ان الفاظ میں لکھا تھا : اپنے معاملہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجئے ۔

ڈیڑھ سال کے بعد مذکورہ تاجر کی طرف سے ایک خط میرے پاس آیا۔ اس میں انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ کے مشورہ کے مطابق میں نے انتظار کی پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ اللہ کے فضل سے میرا سارا مال نفع کے ساتھ فروخت ہو گیا۔ میرا پھنسا ہوا روپیہ خالی ہو گیا ہے اور اب میں ایک نیا کاروبار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔ ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ اخلاقی عمل کا عظیم قانون خدا کے بعد یہ ہے کہ وقت کا احترام

The great rule of moral conduct, is next to God, to respect time. خدا کا حق انسان پر یہ ہے کہ وہ خدا کی پرستش کرے۔ خدا سب سے بڑا ہے۔ وہ انسان کا خالق اور مالک ہے۔ وہی سب کچھ دینے والا ہے۔ اس لئے وہی اس کا حقدار ہے کہ سب سے زیادہ اس کی تعظیم کی جائے ۔ اسی کا نام پرستش یا عبادت ہے۔

وقت موجودہ دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں سب کا سب وقت کے دائرہ میں کرتے ہیں۔ جہاں وقت ختم ہو جائے وہاں انسان کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے انسان کو سب سے زیادہ وقت کا پاس و لحاظ کرنا چاہئے۔ وقت کو ضائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس جو سب سے بڑی دولت تھی اس کو اس نے ضائع کر دیا۔ اگر آپ استعمال نہ کریں تو وہ آپ کے پاس ٹھہرا نہیں رہے گا بلکہ چلا جائے گا۔ اور پھر کبھی لوٹ کر آپ کے پاس نہیں آئے گا۔ وقت کا جو لمحہ کھویا گیا وہ ابدی طور پر کھویا گیا۔ اس کو شاعر نے سادہ طور پر ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

Printed page