Al-Risala · April 1996

حبّ شدید

Al-Risala, April 1996, pp. 25–28

By Maulana Wahiduddin Khan

محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ جائز حدود میں آدمی کسی بھی چیز سے محبت کر سکجاتا ہے۔ حبِ شدید صرف ایک اللہ سے ہونا چاہیے ۔ صرف اللہ کو یہ حق ہے کہ انسان اپنے جذباتِ محبت کو سب سے زیادہ اس سے وابستہ کرے، اس کی قلبی شیفتگی کا سب سے بڑا مرجع خداوند ذوالجلال یہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے :

ومن الناس من يتخذ من دون الله اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں اندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت أشد حباً لله (البقرة ١٦٥) رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ غیر اللہ کے ساتھ حب شدید کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً پتھر کے بتوں کے ساتھ بڑھا ہوا قلبی اپنے اکابر سے بہت زیادہ عقیدت، قوم کے ساتھ غیر معمولی محبت، وغیرہ۔ آدمی کو جس چیز سے حب شدید ہو اسی کی یاد میں وہ جینے لگتا ہے، اسی کا تذکرہ اس کے لیے رب سے زیادہ محبوب بن اس کے مقابلہ میں دوسری چیزیں رسمی تعلق کے خانہ میں چلی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تمام خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ ان کے اندر اللہ کے لیے حبّ ذاتی مفاد، سیاسی اقتدار، قومی عزت، تاریخی عظمت، اس قسم کی چیزیں ان کے لیے حب شدید کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ خدا ان کے حب شدید کا موضوع نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ قسم کی چیزوں پر ان کے درمیان بڑی بڑی تحریکیں اٹھتی ہیں۔ مگر محبت خداوندی کی بنیاد پر کوئی تحریک ان کے درمیان نہیں اٹھتی۔

موجودہ زمانہ میں جو علوم انسانی ظاہر ہوئے ان میں خدا کے وجود کو یکسر حذف کر دیا گیا مگر مسلم دنیا میں کوئی بھی شخص نظر نہیں آتا جو اس پر تڑپے اور علوم جدیدہ سے واقفیت حاصل کرنے کے خدا کے وجود کو علمی حیثیت سے ثابت شدہ بنانے کے لیے محنت کرے۔ اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ اقوام عالم کے اوپر خدا کے دین کی شہادت دی جائے، اگر ساری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی قابلِ ذکر شخص نہیں جو اس کے لیے بے چین ہو اور عمل شہادت کو جاری کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

یکم اکتوبر کو پہلی بار برطانوی اخبارات میں انڈیا کے بارہ میں نمایاں خبر پڑھی۔ یہ بھونچال کی خبر تھی۔ مہاراشٹر کے اضلاع لاتور اور عثمان آباد میں شدید بھونچال کے نتیجہ میں ۲۰ دیہات میں زبردست چھ دیہات کا وجود مٹ گیا۔ تقریباً ۳۰ ہزار آدمی ہلاک ہو گئے، وغیرہ وغیرہ۔ زلزلہ کا سبب زمین کی قدرتی بناوٹ ہے۔ زمین اوپر سے بظاہر ٹھوس دکھائی دیتی ہے مگر اس کے نیچے بہت بڑی مقدار میں پگھلا ہوا مادہ ہے۔ زمین کی پرت پلیٹوں کی مانند اندر کی نرم تہ پر پھسلتی رہتی ہے۔ جب یہ پلیٹیں آپس میں رگڑ کھاتی ہیں تو زمین میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ اس وقت زمین کی تہوں کے سرکنے سے زلزلہ آتا ہے۔

زلزلہ کی تباہی سے کوئی چیز بچ نہیں سکتی۔ جو کچھ ممکن ہے وہ صرف یہ کہ مکانات کی تعمیر اس طرح لچکدار انداز میں کی جائے جو زلزلے کے جھٹکے کو سہار سکے ۔ اور ہل کر اپنی جگہ کھڑی رہے جس طرح آندھی کے مقابلہ میں گھاس کرتی ہے۔ کیلی فورنیا (امریکہ) میں زلزلے عام مگر اسی طرز تعمیر کی بنا پر آجکل وہاں جانی نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ زلزلوں کا شکار اب زیادہ تر وہ قومیں ہوتی ہیں جہاں منصوبہ بند تعمیر کا فقدان ہے۔

محمود صاحب ایک پاکستانی میکانیکل انجینئر ہیں۔ وہ ٹریننگ کے تحت تین سال کے لئے اوساکا (جاپان) میں رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک کارخانہ میں وہ تربیت کے لئے جاتے وہاں وہ دیکھتے تھے کہ روزانہ ایک بوڑھا آدمی آتا ہے۔ وہ خالی بیگ سمیٹ کر جمع کرتا ہے اور ان کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی لو گریڈ کا ملازم ہے جو اسی کام کے لئے اس کے بعد ایک روز ایسا ہوا کہ انھیں کسی ضرورت سے کارخانہ کے چیف انجینئر کے یہاں جانا پڑا۔ انھوں نے حیرت کے ساتھ دیکھا کہ وہی بوڑھا آدمی چیف انجینئر کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے جس کو وہ کارخانہ میں صفائی کرتے دیکھا کرتے تھے۔ محمود صاحب کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں جب آفس آتا ہوں تو لوگوں کو ضروری ہدایات دینے کے بعد میرے پاس وقت رہتا ہے۔ اس وقت کا رخانہ چلا جاتا ہوں اور وہاں لوگوں کا ہاتھ بٹاتا ہوں۔ ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ مجھے ہر چیز کی فرسٹ ہینڈ معلومات ہو جاتی ہے جو بحیثیت چیف انجینئر مجھے اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں کام آتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک بار کارخانے کے ورکروں نے ہڑتال کر دی۔ چھ گھنٹہ تک جاری رہنے کے بعد ہڑتال ختم ہوگئی۔ اگلے دن وہ کارخانہ آئے تو انھوں نے دیکھا کہ لنچ کے وقت ورکروں نے چھٹی نہیں کی، وہ لگاتار کام کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ورکر سے پوچھا کہ آج تم لوگوں نے لنچ کا وقفہ کیوں نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ کل کی ہڑتال کی کمی پوری کرنے کے لئے۔ محمود صاحب نے کہا کہ اس ہڑتال میں تو مینجمنٹ کی غلطی تھی۔ ورکر نے کہا کہ غلطی جس کی بھی ہو جب کام کم ہوگا تو نیشنل آوٹ پٹ کم ہوگا۔ اور پھر پوری قوم کو اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔

یکم اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد برمنگھم کی مسلم خواتین کا اجتماع تھا۔ کا انتظام جناب شمشاد خاں صاحب کے مکان پر کیا گیا تھا۔ خواتین مکان کے ایک بڑے کمرہ میں جمع ہوگئیں ۔ ایک اور کمرہ میں مائک کا انتظام تھا۔ یہاں سے میں نے مائک پر اپنی تقریر کی۔ تعلیم یافتہ مرد بھی اس اجتماع میں شریک تھے۔

میں نے کہا کہ اسلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے عورت کا درجہ گھٹایا ہے۔ ایک لغو بات ہے۔ میں نے کہا کہ ایک چیز ہے عورت کا احترام اور اس کے حقوق۔ ہے ورک پلیس کا مسئلہ۔ اسلام میں عورت اتنی ہی محترم اور معزز ہے جتنا کہ مرد۔ پلیس کے معاملہ میں دونوں میں فرق کیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ دونوں کا حیاتیا تی فرق ہے۔ پھر میں نے کہا کہ مغرب میں کہا جاتا ہے کہ (Ladies first) مگر اس اصول کو اسلام میں زیادہ بڑے پیمانے پر قائم کیا گیا ہے۔ اور اس کی مثال یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام مسلمان جو حج کے لئے جاتے ہیں وہاں وہ صفا دو مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ یہ ایک خاتون کے نقشِ قدم کی پیروی ہے جن کا نام ہاجرہ تھا۔

حضرت ہاجرہ کو یہ عظیم مرتبہ کیوں ملا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک نئی نسل بنانے کے لئے قربانی دی تھی۔ وہ اس مقولہ کی بہترین مثال تھیں کہ :

There is a woman at the beginning of all great things. میں نے کہا کہ آج مسلم خواتین کو حضرت ہاجرہ کے اسی رول کو دہرانا ہے۔ انھیں دوبارہ اپنے بچوں کو تربیت دے کر ایک نئی نسل تیار کرنی ہے جو دورِ جدید میں اسلام کی عظمت قائم کر سکے۔

۲ اکتوبر کی دوپہر کو یہاں احمد دیدات صاحب کا ایک ویڈیو کیسٹ دیکھا۔ اس سے پہلے عرب امارات میں ایک بار ان کی تقریر سن چکا ہوں۔ آج جو کیسٹ دیکھا وہ لندن کے البرٹ ہال کی تقریر تھی۔ اس کا عنوان تھا:

Printed page