and let them do the job
Al-Risala, April 1996, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے یہ بات پسند آئی۔ ایک ایسا مسئلہ جو دوسروں کے ذریعہ زیادہ بہتر طور پر حل کیا جا سکتا ہو اس کو اپنے ہاتھ میں لینا کوئی عقلمندی نہیں۔ اس قسم کا غیر ضروری فعل وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سوچے بغیر کوئی کام کریں۔ جن کے اعمال کا سرچشمہ ان کے جذبات ہوں نہ کہ ان کی عقل۔ عبد اللہ یوسف علی کا انگریزی ترجمہ جو سعودی عرب کی طرف سے بہت بڑی تعداد میں چھاپ کر پھیلایا گیا ہے۔ اس میں بہت سے اجزا، حذف کر دئے گئے ہیں۔ برمنگھم میں مجھ کو ابتدائی نسخہ ملا۔ اس کو میں نے مختلف مقامات سے دیکھا۔ مجھے اس کے تفسیری حواشی بہت
اس میں عبد اللہ یوسف علی کا ابتدائی دیباچہ (preface) شامل ہے۔ اس پر ۴ اپریل ۱۹۳۴ کی تاریخ درج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترجمہ اور تفسیر ان کے چالیس سالہ مطالعہ اور تفکیر کا نتیجہ تھا۔ انھوں نے نہایت سخت حالات میں اس کو لندن میں مکمل کیا اور آنسوؤں کے ساتھ اس کو لکھا۔ چنانچہ دیباچہ میں یہ الفاظ ہیں کہ اس کے مسودات آنسوؤں سے سینچے گئے: