The Qur'an opens our spiritual eyes.
Al-Risala, April 1996, pp. 29–44
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ قرآن کی نہایت عمدہ تشریح ہے۔ قرآن کا اصل مقصد انسان کی روحانی بصیرت کو زندہ کرنا قرآن کے مطالعہ سے جس کی روحانی بصیرت زندہ ہو جائے وہی دراصل قرآن کا قاری ہے۔ ۲ اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد برمنگھم کے مسلم کمیونٹی سنٹر اور جمیعتہ اہل حدیث مرکز (Green Lane) میں خطاب کا پروگرام تھا۔ میں نے کہا کہ سلطان ٹیپو ۹۹۷ء میں انگریزوں سے لڑ کر شہید ہو گئے۔ اس وقت سے لے کر آج تک مسلمان ساری دنیا میں اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑ ے ہیں۔ مگر اس دو سو سالہ جنگ نے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہیں
مسلمان آخر اس بے فائدہ لڑائی میں کیوں مشغول ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے نماؤں کی ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں ان کے لئے دو ہی ممکن سلطان ٹیپو کے الفاظ میں، یا تو شیر کی طرح لڑ کر مر جانا یا گیدڑ بن کر رہ رہنا۔ دوسرے لفظوں میں جنگ یا بزدلی۔ چوں کہ بزدل بن کر رہ رہنا انھیں پسند نہیں، اس لئے وہ بہادری کی موت مررہے ہیں۔
مسلم رہنماؤں کو معلوم نہیں کہ یہاں ایک تیسرا انتخاب بھی ہے۔ اور وہ ہے ٹکراؤ کو اوائڈ کر کے تیاری کرنا۔ مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے امکانات کو استعمال کرنا۔ " تھرڈ آپشن ہے" اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بتاتی ہے کہ اس طرح کے حالات میں آپ نے ہمیشہ اسی تھرڈ آپشن کو اختیار کیا ہے۔
تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ کا طریقہ جنگ کا طریقہ نہیں تھا۔ حالاں کہ حدیث میں ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں بار بار لڑوں اور بار بار شہید میں نے کہا کہ مطالعہ کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ اسی کے ساتھ آپ یہ دیکھئے کہ رسول اللہ کو بار بار شہید ہونے کا موقع ملا۔ پھر کیوں آپ نے اس سے اعراض کیا۔ ابتدائی دور میں آپ مکہ
میں نماز با جماعت قائم کرتے تو وہ لوگ آپ کے قتل کے در پے ہو جاتے۔ کمزور مسلمانوں کو ستایا جا رہا تھا۔ اگر آپ اس میں عملی مداخلت کرتے تو وہ آپ کے ساتھ وہی کرتے جو انہوں نے آل یاسر کے ساتھ کیا۔ اسی طرح ہجرت، حدیبیہ، خندق، وغیرہ میں لڑ کر شہید ہونے کے مواقع آئے، مگر کبھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔ جب تک دونوں پہلوؤں کو نہ دیکھا جائے کوئی صحیح رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔
مدرسہ قاسم العلوم (Washwood Heath Road) کی دعوت پر ۳ اکتوبر کی صبح کو وہاں وہاں اہل علم کی ایک مجلس کی صورت میں بات چیت ہوئی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کی اصلاح کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک کام کا تعلق ہے وہ تو عملاً جاری ہے۔ ہمارے یہاں ادارے قائم ہیں۔ بہت سی بڑی بڑی جماعتیں برطانیہ میں ایک ہزار مسجدیں ہیں جو اسلامی سنٹر کے طور پر چل رہی ہیں۔ سرگرمیوں کا بہت کم فائدہ ہم کو مل رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہری عمل تو بہت ہے مگر اسپرٹ موجود نہیں۔ مثال کے طور پر لوگوں میں جلن کا جذبہ بہت بڑے پیمانہ پر پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہے کہ کوئی بھی دوسرے کے کام کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہر ایک کو اپنا کام زیادہ نظر آتا ہے اور دوسرے کا کام کم۔ اس مزاج کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر لوگوں کے اندر جلن کے بجائے خیر خواہی بے اعترافی کے بجائے اعتراف کا مزاج پیدا ہو جائے تو موجودہ سرگرمیوں سے ہم کو گنا فائدہ ملنے لگے گا۔
الہجرہ اسکول (Hob Moor Road) میں ۳ اکتوبر کی سہ پہر کو خطاب کا پروگرام تھا۔ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں آگئے تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دوسری قومیں اسلام کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ مگر میرے نزدیک اسلام کا زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ذہین طبقہ اسلامی جد و جہد میں شریک نہیں۔ برطانیہ میں ایک ہزار مسجدیں اور اسلامی مرکز ہیں۔ مگر ان مسجدوں اور اسلامی اداروں سے زیادہ تر غیر ذہین طبقہ وابستہ ہے۔ ذہین طبقہ اس سے دور ہے۔
میں نے کہا کہ چند سال پہلے میں بار بیڈوز گیا۔ وہاں میری ایک تقریر تھی۔ ایک آدمی اپنے پندرہ سال کے لڑکے کو پکڑ دھکڑ کر لے آیا۔ وہ آیا تو حاضرین کے ساتھ نہیں بیٹھا بلکہ کنارے اپنا رخ الٹی طرف کر کے بیٹھ گیا۔ کسی نے پوچھا کہ تم اس طرح الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو۔ اس نے کہا کہ می ناٹ (me not) یہی اس طبقہ کے بیشتر لوگوں کا حال ہے۔ وہ می ناٹ کلاس بنے
ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسلام کو اب تک اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے قابل فہم (understandable) نہ بنا سکے۔ روایتی انداز کی تقریریں اور مضامین اس طبقہ کو اسلام کی طرف نہیں لاسکتے۔ آج اسلام کی ری ڈسکوری کی ضرورت ہے۔ اسلام قدیم ذہنوں کو بھی مطمئن کرنے کی طاقت رکھتا تھا اور آج کے ذہنوں کو بھی مطمئن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے داعیوں کی ضرورت ہے جنہوں نے اسلام کو ری ڈسکور کیا ہو۔ اس سلسلہ میں میں نے کئی مثالیں دے کر اس معاملہ کو واضح کیا۔
برطانیہ میں جو مسلمان آباد ہیں ان میں شاید ہی آپ کو کوئی ایسا آدمی ملے جو سکون کی نیند سوتا ہو اور جس کو مسرت کی زندگی حاصل ہو۔ یہاں کی پوری زندگی سودی قرضوں پر گھر، کار اور تمام قیمتی چیزیں قرضوں سے حاصل کی جاتی ہیں اور ساری زندگی آدمی کما کما کر ان کا قرض مع سود ادا کرتا رہتا ہے۔ دوسری طرف گورنمنٹ ٹیکسوں میں عام آدمی کی کمائی کا ۳۰ فیصد اور زیادہ کمائی والوں کا ۶۰ فیصد وصول کر لیتی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی طرح یہاں یہ ممکن نہیں ہے کہ رشوت یا غلط حساب کے ذریعہ آدمی ٹیکس سے بچ جائے۔ یہاں کا نظام ایسا ہے کہ ہر آدمی کو بہر حال ٹیکس کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح تمام لوگ ایک قسم کے اقتصادی ٹریپ (trap) میں پھنس کر زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسرا بہت بڑا مسئلہ اولاد کا ہے۔ یہاں کی سوسائٹی کا سب سے بڑا مسئلہ آزادی ہے۔ مطلق آزادی کو یہاں سب سے بڑی انسانی قدر سمجھا جاتا ہے۔ ٹی وی، اسکول اور پورے سماج سے وہ آزادی کا سبق حاصل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ماں باپ کے لئے آزاد مخلوق بن جاتا ہے۔ باپ اگر اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات کہیں تو وہ فوراً جواب دے گا کہ تم اپنا کام کرو، تم
سے اس کا کوئی تعلق نہیں:
Mind your own business. Its nothing to do with you. ماں باپ اس طرح کے جواب سنتے ہیں اور برداشت کرتے ہیں۔ کیوں کہ اگر وہ بچہ کے ساتھ سختی کریں تو بچہ کے ایک ٹیلی فون پر پولیس آئے گی اور ماں باپ کو پکڑ لے جائے گی۔ ۱۹ اگست کی صبح کو ناشتہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ شہر دیکھنے کے لئے نکلے۔ پر آئے تو پہلا سنٹر یہ دکھائی دیا کہ ادھیڑ عمر کا ایک آدمی ایک بچھیڑیا نما کتے کو اپنے ساتھ لئے ہوئے فٹ پاتھ پر چل رہا ہے۔ مغربی ملکوں میں کتا زندگی کا جزو بن گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ آدمی جس طرح ایک بھیڑیا نما کتے کو لے کر بے خوف چلا جا رہا ہے۔ اسی طرح وہ کسی بھیڑیے کو لے کر بھی چل سکتا ہے۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ اس کی وجہ دونوں کی فطرت کا فرق ہے۔ کتے کو خدا نے اپنے مالک کے لئے وفادار بنایا ہے جب کہ بھیڑیا صرف ایک خونخوار وہ ایک عام انسان کے لئے خوں خوار ہے اور مالک کے لئے بھی غیر وفادار۔ اس دنیا میں بھیڑیا بھی ایک قابل پیشین گوئی کردار کا حامل ہے اور کتا بھی قابل پیشین گوئی کردار کا حامل۔
المركز الاسلامی کے نام سے یہاں ایک منظر ہے جس کو عربوں نے قائم کیا ہے۔ کو اسے دیکھا۔ یہاں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ ۱۹ اگست کو یہاں دو رکعت نماز ادا کی اور حسب توفیق دعائیں کیں۔ یہ مسجد ایک ہشت پہل ہال میں بنائی گئی ہے۔ جمعہ کے نمبر کی جگہ لکڑی کی ایک چھوٹی سی کرسی رکھی ہوئی ہے۔ پوری مسجد میں قالین کی صفیں بھی ہوئی اس مسجد کا نام مسجد الرحمن ہے۔ پورے اٹلی میں غالباً صرف دو مسجد ہے۔ کی موجودہ مسجد اور دوسرے روم کی مسجد جو حال میں تعمیر ہوئی ہے۔ اٹلی میں یہ سارا کام عربوں کے تعاون سے ہو رہا ہے۔
اس مسجد سے متصل ایک مرکز ہے۔ یہاں مسلم مرد اور مسلم عورتیں کثرت سے موجود تھیں معلوم ہوا کہ آج اطالوی مسلمانوں کا اجتماع ہے۔ اس قسم کا یہ پہلا اجتماع تھا۔ مرکز کے ڈائرکٹر السید عبدالفتاح
مجھ کو جانتے تھے اور میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ وہ اتفاق سے وہاں موجود تھے۔ نے دوپہر کے اجتماعی کھانے میں شریک کیا۔ اور اصرار کیا کہ اجتماع سے خطاب کروں۔ بہت کم تھا کیوں کہ مجھ کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بیٹھنا تھا۔ میں نے اسی وقت بیٹھ کر ایک فل اسکیپ کاغذ پر ایک عربی تقریر لکھی اس کے بعد اسٹیج پر آیا۔ ابتداً کچھ کلمات انگریزی میں کہے اس کے بعد عربی میں لکھی ہوئی تقریر پیش کی۔ ایک عرب عالم نے فوری طور پر اس کا اطالوی زبان میں ترجمہ کیا۔
ایک ایشیائی نے اہل مغرب کے تعصب کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کا میڈیا ویسٹرن فریم ورک کے سوا کسی اور ڈھنگ پر کسی بات کو بتانا جانتا ہی نہیں : There is a lot of reluctance in the media to explain anything outside the میں نے کہا کہ ایشیائی ملکوں میں کونسا ملک ہے جہاں یہ مزاج موجود نہیں ہے، ہندوستان والے ہندوستانی نقطہ نظر سے ہر چیز کو بیان کرتے ہیں۔ پاکستان والے پاکستانی نقطہ نظر سے ہر معاملے کی تشریح کرتے ہیں۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ پھر اس کے لئے آپ اہل مغرب کی شکایت کیوں کر رہے ہیں۔
میرے ٹکٹ کا جور یزرویشن تھا ، اس میں اٹلی، انگلینڈ اور مالٹا شامل تھے۔ درمیان سفر میں بعض وجوہ سے میلان میں مالٹا کو حذف کرکے مجھ کو نیا ٹکٹ بنوانا پڑا۔ طرح سفر مزید جاری نہ رہ سکا۔
" مالٹا " کا لفظ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک تاریخی علامت کی حیثیت ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی باقاعدہ جدوجہد کو اگر سلطان ٹیپو سے مانا جائے تو وہ ۱۷۹۹ میں شروع ہوئی جبکہ سلطان انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے اس کے بعد مسلسل یہ جنگ مسلح ٹکر او کی صورت میں جاری رہی۔ مولانا محمود حسن دیوبندی اس ناکام شمشیری جنگ کی آخری کڑی تھے۔ اسی کے جرم میں ان کو تقریباً ساڑھے تین سال تک مالٹا کے قلعہ میں قید کی زندگی گزارنا پڑا۔
مالٹا سے رہا ہو کر وہ ۸ جون ۱۹۲۰ کو دوبارہ بمبئی کے ساحل پر اترے۔ اس وقت مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاست میں داخل ہو چکے تھے۔ انھوں نے جدوجہد آزادی کے طریق کار میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے اس کو تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر قائم کر دیا تھا۔ اس وقت کے مسلم رہنماؤں نے اس تبدیلی کو قبول کر لیا۔ مولانا محمود حسن دیوبندی مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمد علی جوہر اور دوسرے تمام لوگوں نے مہاتما گاندھی کی قیادت کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح سوا سو سال کی ناکام قربانیوں کے بعد آزادی کی تحریک پر تشدد اصول کو ترک کر کے عدم تشدد کے اصول پر چلنے لگی اور آخر کار ۱۹۴۷ء میں کامیابی کے مرحلہ تک پہنچی۔
اسی قسم کا معاملہ آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ مسلمانوں کو یہ احساس ہوا کہ اس ملک میں وہ اکثریتی فرقہ کے تعصب اور زیادتی کا شکار ہو رہے مسلم لیڈروں نے دوبارہ لفظی جنگ کی صورت میں ایک جوابی تحریک شروع کر دی۔ مطالبہ، احتجاج، عوامی مظاہرہ کے اصول پر چلائی گئی۔ یہ پر شور جنگ پچاس سالہ قربانیوں کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ اس سے مسلمانوں کے نقصان میں اضافہ تو ہوا مگر اس سے مسلمانوں کو کچھ حاصل ہو سکا۔
اب دوبارہ مسلم سیاست میں ایک تبدیلی کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اپنی جدوجہد کو اصول احتجاج کے بجائے اصول تعمیر پر قائم کریں۔ اب وہ خارجی مطالبہ کے بجائے داخلی تعمیر پر محنت کریں۔ وہ مبنی بر غیر سیاست کو چھوڑ کر مبنی بر خویش سیاست کو اختیار کر لیں۔ لیبیا کے ایک صاحب کو میں نے گری لال جین کا یہ اقتباس دکھایا : اب ہمارے لئے کیا راستہ ہے۔ کیا ہم اپنی پرانی دنیا کی طرف واپس چلے جائیں، مانوس فراریت کی دنیا کی طرف یا ہم کٹر پن سے ٹکراؤ کی طرف بڑھیں۔ یہ پہلا انتخاب نہیں جس کی ایک شخص تمنا کر سکتا ہے۔ اور تیسرا انتخاب افق پر موجود نہیں۔ آئیے کہ مایوسی کے عالم میں ہم یہ خیال کریں کہ آئندہ کبھی تنہائی کی ہوا نہ نکل جائے اور لیبیا دنیا میں ایک نئے آغاز کا نقیب بن جائے :
Where then do we go from here? Back into our old, familiar escapism, or forward into confrontation with obscurantism. It is not a choice I for one would wish to make. And a third option is not on the horizon unless in our desperation we regard the deflation of Col Gaddafy in far away Libya as a harbinger of a new beginning in the world. Girilal Jain, The Times of India, May 7, 1992, p. 8. ایک مجلس میں میں نے یہ حدیث سنائی کہ من صمت نجا (جو آدمی چپ رہا اس نے نجات پائی)، لوگ بولنے کو کام سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ کسی کا قول ہے کہ جب میں چپ ہوتا ہوں تو میں سوچ رہا ہوتا ہوں اور جب میں بولتا ہوں تو میں نہیں
While I am quiet I think, while I talk, I do not. سوچنا گویا بولنے کی تمہید ہے۔ سوچنا گویا بولنے کی تیاری ہے۔ اگر آپ نے سوچنے کا مرحلہ طے کیا ہے تو آپ نے اپنے اندر یہ قابلیت پیدا کی ہے کہ آپ بولیں۔ سوچنا آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کیا بولیں اور کس طرح بولیں۔ اگر آپ نہ سوچیں تو آپ یہ بھی نہیں جانیں گے کہ مسئلہ کیا ہے۔ اور جو آدمی مسئلہ کی حقیقت ہی سے واقف نہ ہو وہ بولنے کا اہل کیونکر ہو سکتا ہے۔
بولنا آسان ہے مگر سوچنا بے حد مشکل ہے۔ بولنا جلد بازی کا عمل ہے اور سوچنا صبر کا عمل۔ ایک غیر سنجیدہ آدمی بھی بولنے کا کام کر سکتا ہے۔ مگر سوچنے کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو سنجیدہ ہوں ۔
رومن کیتھولک چرچ میں اب تک یہ قاعدہ تھا کہ پادری کے لئے مجرد رہنا ضروری تھا۔ مگر ایسے اسکینڈل کی تعداد بڑھنے لگی جب کہ پادریوں نے عورتوں سے ناجائز جنسی تعلقات قائم کر لئے۔ چرچ کے ذمہ دار اس کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ چنانچہ جولائی 1993 میں ویٹیکن کے پوپ جان پال دوم نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں پادریوں کو نکاح کی اجازت دیدی گئی ہے۔
روم میں میں نے ایک پادری سے یہ بات کہی۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں، مگر پوپ نے یہ بھی کہا ہے کہ غیر شادی شدہ رہ کر ایک پادری زیادہ اچھی طرح اپنی خدمات انجام دے پادری کی ذمہ داری مجرد رہ کر زیادہ بہتر طور پر ادا کی جاسکتی ہے: But Pope has also added that being single is more suited to carrying out a priest's duties. The needs of the Priesthood are better served by celibacy. اس سفر میں کئی ایسے تجربے ہوئے جن کے درمیان محسوس ہوا کہ یورپ میں عربوں کے ساتھ آج وہی آئی پی جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس پر مجھے ایک قصہ یاد آیا۔ مولانا شبلی نعمانی نے ۱۸۹۲ میں ترکی وغیرہ کا سفر کیا۔ اس سفر کی مفصل رو داد ”سفرنامہ روم و مصر و شام کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ بحری سفر کے ذریعہ وہ ۲۳ مئی ۱۸۹۲ کو قسطنطنیہ پہنچے اور وہاں تین مہینہ قیام کیا۔ روز قسطنطنیہ کے مکتب حربیہ کے سکریٹری ذکی پاشا سے ملنے گئے۔ موصوف پہلے سے مولانا شبلی سے واقف نہ تھے۔ چنانچہ بوقت ملاقات ایک عجیب واقعہ گزرا جو مولانا شبلی کے الفاظ میں یہ تھا: اتفاق سے ذکی پاشا باہر جا چکے تھے۔ آدمی نے کہا کہ ذرا ٹھہر جائیے، شاید جلد آجائیں۔ اسی اثنا میں وہ آ پہنچے۔ گاڑی سے اترنے کے ساتھ انہوں نے ہماری طرف رخ کیا۔ طیبان اور میں دونوں عربی لباس میں تھے۔ اگرچہ میرے سر پر ریشمی عمامہ اور کمر میں سنہری پیٹی تھی لیکن قفطان اور عبا کی وجہ سے مجموعی صورت سے میں عرب معلوم ہوتا تھا۔ ذکی پاشا کو اس وقت نہایت جلدی تھی۔ سلام علیک کے ساتھ ہی جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ مجیدیاں (ترکی سکہ) پہلے تو مجھے سخت تعجب ہوا۔ پھر خیال آیا کہ نعوذ باللہ، انہوں نے ہم کو عام عربوں کی طرح گدا گر سمجھا۔ اس خیال کے ساتھ مجھ کو نہایت رنج اور رنج کے ساتھ غصہ آیا۔ میں نے چلا کر کہا: ماجئنا لهذا ، لسنا من الفقراء (ہم اس لئے نہیں آئے، ہم محتاج نہیں ہیں)، پاشا موصوف اگرچہ عربی نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن چہرے کی ہیئت اور لہجہ کلام سے سمجھے کہ یہ امر اس کو شیخ علی طیبان کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ غیظ میں کیوں ہیں۔ شیخ علی طیبان ٹوٹی پھوٹی ترکی بول لیتے تھے۔ میرے آنے کی غرض بیان کی۔ پاشا موصوف نہایت شرمندہ ہوئے۔ (صفحه ۴۴ - ۴۵)
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ سو سال پہلے عربوں کی عام تصویر کیا تھی۔ کی بات ہے، اعظم گڑھ میں خود میرے یہاں اسی قسم کے ایک عرب مسافر آئے تھے اور ان کو میں نے ایک رات اور ایک دن اپنے مکان پر ٹھہرایا تھا۔ اور ان کی خدمت کی تھی۔ جب میں ان کے کمرہ میں گیا اور پوچھا کہ رات کیسی گزری تو انھوں نے کہا: ما کان النوم معلوم ہوا کہ مچھر کی وجہ سے وہ رات کو ٹھیک سے نہ سو سکے۔ مگر آج عربوں کی تصویر اس سے سراسر مختلف ہے۔ "عرب شیخ" کا لفظ اب دولت کا نشان بن چکا ہے اور اسی کے ساتھ عزت و احترام کا بھی۔
۴ اکتوبر ۱۹۹۳ کو واپسی ہوئی۔ صبح کو فجر سے کچھ پہلے برمنگھم سے لندن کے لئے روانگی ہم کو لندن سے دہلی کے لئے جہاز لینا تھا۔ برمنگھم سے جناب شمشاد خاں صاحب کے ساتھ بذریعہ روڈ سفر کیا۔ راستے میں ایک جگہ لکھا ہوا تھا: آگے فلن سڑک پر ایکسیڈنٹ ہو گیا تا حد نظر کاریں کھڑی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ شمشاد خاں صاحب نے فوراً اپنی گاڑی موڑی اور نئے راستہ پر سفر کرتے ہوئے ائیر پورٹ پہنچے۔
لندن ائیر پورٹ پر جناب شمشاد خاں صاحب سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ ائیر انڈیا کی فلائٹ ہم گھنٹہ لیٹ ہے۔ ہم کو ائیر پورٹ پر مزید انتظار کرنا ہوگا۔ ترکی کے غدر کا قصہ یاد آیا۔ وہ امپورٹڈ کار میں بیٹھ کر گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہوئے۔ میں معلوم ہوا کہ کار میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاڑی تو ہم نے باہر سے خرید کر حاصل کر لی مگر پٹرول ڈالنا ہمارا کام تھا اور یہاں ہم فیل ہو گئے۔ یہی حال ائیر انڈیا کا ہے۔ جہاز تو ہم نے باہر سے خرید کر منگا لئے۔ مگر اس کو صحیح طور پر چلانے کے لئے ہمیں اپنا حصہ ادا کرنا تھا۔ یہاں ہم فیل ہو گئے۔
لندن ائیر پورٹ کی انتظار گاہ پر بیٹھا ہوا تھا: دیوار پر لگے ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ برٹش ائیرویز کے چیف ایگزیکیوٹو سر جان ایگن کی دستخط سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے اپنے ائیر پورٹ کی سروس پر ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتے جب تک آپ مطمئن نہ
“We won't be satisfied with the service at our airports until you are.” Sir John Egan بہتر کار کردگی کا یہی واحد معیار ہے۔
لندن سے ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ جہاز پورے پانچ گھنٹہ لندن سے دہلی کی دوری ۵۳۰۷ کلومیٹر ہے۔ یہ بڑا جہاز تھا۔ مگر اس کی تقریباً آدھی سیٹیں خالی تھیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ ایئر انڈیا کی سروس بہت بدنام ہو گئی ہے۔ ایک تجربہ مجھ کو آج کے سفر میں ہوا۔ لندن کے مقرر وقت سے یہ جہاز پانچ گھنٹہ تاخیر سے روانہ
جہاز جب فضا میں بلند ہو کر دہلی کی طرف روانہ ہوا تو خیال آیا کہ میں دہلی ۔ کا ٹکٹ لے کر روانہ ہوا تھا۔ اب میں اپنی آخری منزل کی طرف جا رہا ہوں ۔ پرواز کے دوران ایک مسافر کی طبیعت خراب ہو گئی۔ جہاز کے عملہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ مسافروں میں اگر کوئی ڈاکٹر ہو تو وہ فعدی مقام پر آ جائیں۔ ان کی مدد کی فورا تین آدمی اپنی اپنی سیٹ سے اٹھ کر وہاں پہنچ گئے۔
۵ اکتوبر کو صبح چار بجے ہمارا جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیوں کہ یہ میرے لئے غیر معمولی طور پر لمبا سفر تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں کسی دوسری دنیا میں پہنچ گیا ہوں۔ اپنی دنیا میں دوبارہ واپسی ایک موہوم سی چیز نظر آتی تھی ۔ لندن کے مضافات سے تعلق رکھنے والی زیادہ عمر کی ایک برٹش خاتون جلین رائٹ (Ms Gillian Wright) نے بتایا کہ پچاس سال پہلے برٹش سوسائٹی آج سے بہت زیادہ مختلف تھی۔ اس وقت ہم اپنے گھروں میں تالا نہیں لگاتے تھے۔ سماجی تشدد کا نام و نشان نہیں تھا۔ جوان لڑکیاں رات کو ادھر سے اُدھر جاتی تھیں مگر انہیں اس کا ڈر نہیں ہوتا تھا کہ کوئی انہیں چھیڑے گا۔ آج یہ سب ختم ہو چکا ہے۔ اب یہ حال ہے کہ آج ہی رات کو کچھ لڑکوں نے میرے گھر پر پتھر پھینکے۔ انھوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہ
بدلی ہماری سوسائٹی میں آئی ہے۔
قدیم زمانہ میں جنگ شہروں سے باہر میدان جنگ میں صرف دو فوجوں کے درمیان آج لڑائی ہوتی ہے تو پوری کی پوری آبادی اس میں شامل ہو جاتی ہے۔ کے نتیجہ میں جو عمومی ہنگامی حالت پیدا ہوتی ہے اس سے ساری روایتیں ٹوٹ جاتی یہی موجودہ زمانہ میں اکثر ملکوں میں پیش آیا۔ جنگوں کے دوران ہر قسم کی کارروائی اس سے قدیم اخلاقی روایتیں ٹوٹ گئیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ہر جگہ جہاد کے نام پر لڑائی کا مزاج بنا ہوا ہے۔ ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں لڑائی جاری ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر قسم کی اخلاقی اور انسانی روایتیں ٹوٹ یہ لڑائیاں بالفرض فتح پر ختم ہوں تب بھی ان کا یہ نقصان یقینی ہے کہ اس کے بعد ہر جگہ ایک ایسا انسانی معاشرہ بنے گا جو تمام اعلی روایتوں سے خالی ہوگا۔ یہاں تک کہ لوگ چیخ اٹھیں گے کہ اس اسلامی نظام سے تو قدیم غیر اسلامی نظام ہی اچھا تھا۔
سفر سے واپسی کے بعد ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۴ء کو میں نے جناب شمشاد محمد خاں صاحب (برمنگھم) کے نام ایک خط روانہ کیا تھا۔ اس میں سفر کے کئی تجربات درج تھے۔ یہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے: برمنگھم میں جو دن آپ لوگوں کے ساتھ گزرے وہ میری زندگی کے یادگار دن تھے۔ میں ہے کہ جو آدمی کسی شخص سے ملا اور اس نے اس سے کچھ نہیں چکھا تو گویا وہ مردہ سے ملا۔ حدیث کے مطابق ، آپ سے میری ملاقات ایک زندہ شخص سے ملاقات تھی۔ یقیناً میں نے آپ سے بہت سی باتیں جانیں ، آپ سے بہت سی نئی نئی باتیں سیکھیں۔
ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے اب میری عمر ۶۱ سال ہو چکی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ دوبارہ آپ سے ملاقات ہوگی یا نہیں۔ بہرحال اگر دنیا میں دوبارہ ملاقات مقدر نہ ہو تو دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو آخرت میں جنت میں یکجا کر دے۔ اور وہاں ملاقات کا موقع نصیب فرمائے کیونکہ جنت کی ملاقات ہی اصل ملاقات ہے۔
لندن ایئر پورٹ پر آپ سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ ایئر انڈیا کی فلائٹ پانچ گھنٹہ لیٹ ہے۔ یہ سارا وقت ایئر پورٹ پر انتظار میں گزارنا پڑا۔ میں نے سوچا
کہ اگر پہلے سے معلوم ہوتا تو برمنگھم میں آپ حضرات کے ساتھ مزید کچھ وقت گزار سکتا تھا۔ قرآن کی یہ آیت یاد آئی کہ کہہ دو کہ اگر میں غیب کو جانتا تو بہت نفع حاصل کرتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی (الاعراف ۱۸۸)
یہ آیت بتاتی ہے کہ اس دنیا میں سود سے بچنے اور خیر کو پانے کا تعلق تمام تر مستقبل میںی یہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ جو شخص پیغمبر کی پیشگی خبر پر یقین کر کے اخروی مستقبل کو اپنا concern بنانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے وہی زندگی کے طویل تر مرحلہ میں کامیاب رہے گا۔
لندن ایئر پورٹ پر بین انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا ، دیکھا تو لوگ چلتے پھرتے نظر آ رہے ان کے چہروں پر بے فکری کے آثار تھے، میں نے سوچا کہ ان کی اس بے فکری کا راز کیا ہے. میری سمجھ میں آیا کہ اس کا راز یہ ہے کہ ہر ایک شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کی جیب میں پونڈ اور ڈالر موجود ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے وہ دنیا کی ہر وہ چیز حاصل کر سکتا ہے جس کو وہ چاہے ۔
کاش لوگوں کو معلوم ہو تاکہ عنقریب وہ ایک اور دنیا میں داخل کر دئے جائیں گے جہاں پونڈ اور ڈالر کی کچھ بھی قیمت نہ ہوگی۔ وہاں کا سکہ بالکل دوسرا ہوگا۔ اور جس آدمی کے پاس وہاں کا سکہ نہ ہو تو وہ بالکل مفلس ہو کر رہ جائے گا۔ خواہ دنیا میں اس کا بینک بیلنس کتنا ہی زیادہ ہو۔ جہاز فضا میں اڑ کر لندن سے دہلی کی طرف روانہ ہوا تو خیال آیا کہ میرے پاس دہلی ۔ کا ریٹرن ٹکٹ تھا۔ اس کے مطابق اپنا سفر پورا کر کے میں اپنے وطن واپس جا رہا ہوں۔ میرے پاس اور تمام انسانوں کے پاس ایک اور ریٹرن ٹکٹ ہے۔ یہ ریٹرن ٹکٹ آخرت ۔ آخرت کے سفر کے لئے ہے۔ اس دوسرے ریٹرن ٹکٹ سے آدمی آخرت سے نکل کر دنیا میں آیا ۔ اور پھر دوبارہ وہ آخرت کی طرف لوٹ جائے گا۔ جس طرح میرے لئے دہلی کی طرف واپسی کی تاریخ مقرر تھی اسی طرح میری اور تمام انسانوں کی آخرت کی طرف واپسی کی تاریخ بھی مقرر ہے۔ دن یہ تاریخ آئے گی تو قرآن کے الفاظ میں، لوگ نہ ایک گھڑی پیچھے ہوں گے اور نہ ایک گھڑی آگے (یونس ۴۹)
جہاز ابھی درمیان میں تھا کہ وہ صورت پیش آئی جس کو ہوا بازی کی اصطلاح میں کہا جاتا ہے۔ جہاز تیزی سے نیچے اور اوپر ہونے لگا۔ دل سے یہ دعا نکلی کہ خداایا ، خیریت کے ساتھ مجھ کو دہلی پہنچا ۔ دنیا سے لے کر آخرت تک خیریت کا معاملہ ہر مرحلہ میں اور ہر پہلو سے میری مدد فرما ۔
جہاز کے کیپٹن نے اعلان کیا کہ ہمارا جہاز ۵۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دہلی کی طرف اس کو سن کر خیال آیا کہ عین اسی وقت ہر مسافر ایک اور سفر طے کر رہا ہے۔ کا سفر ہے۔ زمین مزید تیزی کے ساتھ ۱۰۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی علامتی طور پر بتارہی ہے کہ آخرت کا سفر اس سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ مسلسل جاری ہے۔ میں نے سوچا کہ جس طرح جہاز کا کیپٹن اعلان کرکے لوگوں کو سفر دنیا کی حقیقت سے باخبر کر رہا ہے ، کاش اسی طرح تمام انسانوں کو سفر آخرت کے بارے میں بتایا جاسکے ۔ ایسا ہو کہ اس دنیا کا کوئی کان نہ ہو جس نے اس اعلان کو نہیں سنا، اور کوئی آنکھ نہ ہو جس نے اس خبر کو نہیں پڑھا۔ پھر خیال آیا کہ لندن ایئر پورٹ کی ایک دیوار پر میں نے برٹش ایئرویز کے ایگزیکٹیو Sir John Egan کے دستخط سے ایک بورڈ پر یہ الفاظ پڑھے تھے : We won't be satisfied with the service at our airport unti you are. میں نے سوچا کہ دعوت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ دعوت صرف اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ مدعو اس بات کا اعتراف کرلے کہ مجھے پیغام پوری طرح پہنچا دیا گیا ۔ دعوت کی تکمیل داعی کے دعویٰ کی بات نہیں ہے بلکہ مدعو کے اقرار کی بات ہے ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہ اور تاکہ لوگ کہہ دیں کہ تم نے پڑھ دیا (الانعام ۱۶۵) راستہ میں لندن کے اخبار ڈیلی میل (۲۷ اکتوبر ۱۹۹۳) میں ایک سبق آموز رپورٹ پڑھی اس کا عنوان تھا : (height of inhumanity) رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک برطانی خاتون کے بچہ کا انتقال ہو گیا ۔ اس کا تابوت کچھ بڑا تھا ، اس لئے اس کو بچوں کے خوبصورت قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ اس کا سات سالہ بچہ بڑوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ۔ یہ اگر چہ قانون کے مطابق مگر خاتون کو اس کا نہایت سخت صدمہ ہوا :
اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ ایک ماں کو یہ پسند نہیں کہ اس کا بچہ مرنے کے بعد ایک غیر pretty قبرستان میں دفن ہو۔ مگر عین اسی وقت بے شمار مائیں اس راضی ہیں کہ ان کا محبوب بچہ مرنے کے بعد آگ میں جلے اور جہنم کا گڑھا اس کا ابدی ٹھکانا شاید ہماری دنیا میں اس سے زیادہ عجیب تضاد کی کوئی اور مثال نہیں ملے گی۔ طویل سفر کے دوران کئی بار تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے نیند آئی۔ ایک بار جھپکی کے ساتھ نیند آئی تو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں فضا کی بلندی میں سفر کر رہا ہوں ۔ مگر یہ سفر ہوائی جہاز میں نہیں ہو رہا ہے بلکہ آپ کے ساتھ موٹر کار میں ہو رہا ہے۔ کار چلا رہے ہیں۔ آپ کے پاس سامنے کی سیٹ پر ثانی اطمینان ہیں۔ اور میں پیچھے کی سیٹ پر بیٹھا ہوا ہوں۔ کار ہم کو لئے ہوئے ہوائی جہاز جیسی تیزی کے ساتھ فضا میں اڑتی ہوئی چلی
اس قسم کے مختلف احساسات کو لئے ہوئے میرا سفر جاری تھا۔ یہاں تک کہ ۵ اکتوبر کی صبح کو ساڑھے گیارہ بجے ہمارا جہاز دہلی ائیر پورٹ پر اتر گیا۔ میں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اس نے میری دعا قبول کرلی۔ وہ خیریت کے ساتھ مجھے دہلی سے لے گیا اور خیریت کے ساتھ دوبارہ دہلی
دہلی ایئر پورٹ پر کسٹم کی جانچ بہت سخت ہوتی ہے۔ میں نے ایک ٹرالی پر اپنا بیگ اور کتابوں کا ایک بنڈل رکھا اور آہستہ آہستہ آگے کی طرف چلنے لگا، یہاں تک کہ میں وہاں پہنچا جہاں راستہ کے دونوں طرف کسٹم کا عملہ تیز نگاہوں کے ساتھ ہر مسافر کو دیکھنے کے لئے موجود یہاں میں کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں کسٹم کا ایک کارندہ میری طرف بڑھا، اس نے روکھے انداز سے سوال کیا کہ یہ کیا چیز ہے بنڈل میں۔ میں ابھی کچھ بولا نہیں تھا کہ قریب کھڑے ہوئے افسر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا: جاؤ بابا، تم جاؤ۔
میں نے کہا کہ خدا آیا، آخرت میں بھی میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرما۔ حشر کے میدان میں جب میں ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ نظریں جھکائے ہوئے آگے کی طرف بڑھوں اور روکنے والے مجھے روکنے کے لئے میری طرف متوجہ ہوں تو تیری طرف سے آواز آئے: میرے اس بندے کو جانے دو، اس کو جانچ کے لئے مت روکو۔
باہر نکلا تو ہمارے انتظار میں ایک صاحب وہاں موجود تھے۔ کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اسانی کے ساتھ ایئر پورٹ سے روانہ ہو کر گھر آ گیا۔ دوبارہ دل سے دعا نکلی کہ کاش اللہ کی رحمت سے ایسا ہو کہ جب میری زندگی کے جہاز کی واپسی کا وقت آئے اور وہ دنیا سے روانہ ہو کر آخرت کی زمین پر اتر جائے تو وہاں خدا کے فرشتے میری رہنمائی کے لئے موجود ہوں۔ وہ مجھ کو اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ یہاں تک کہ مجھے جنت کے اندر پہنچا دیں۔ بے شک اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ وہ اپنے عاجز بندہ کے ساتھ اس قسم کا رحمت کا معاملہ فرمائے۔ دعا اپنے لئے بھی ہے اور یہی دعا آپ لوگوں کے لئے بھی۔
یورپ کے اس طویل سفر میں مجھے بار بار جدید تمدن کے پر رونق مناظر دیکھنے کو ملے۔ ان کو دیکھ کر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آتی تھی کہ اللہ آئندہ تم کو آخرت کی نشانیاں دکھائے گا تو تم اس کو پہچان لوگے (۹۳ : ۲۷) میں نے سوچا کہ صنعتی تمدن کی یہ رونقیں ایک اعتبار سے جنت کا تصویری تعارف ہیں۔ یہ تصویریں اس لئے تھیں کہ ان کو دیکھ کر انسان جنت کی پہچان حاصل کرلے۔ مگر انسان ان تصویروں ہی کو حقیقت سمجھ کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑا۔
دورِ اول کے اہل ایمان نے جنت کی تصویریں دیکھے بغیر جنت پر یقین کیا تھا۔ آج کے لوگ جنت کی تصویریں دیکھنے کے باوجود اس پر یقین کرنے میں ناکام ہیں۔ کیسی عجیب تھی پچھلے لوگوں کی کامیابی اور کیسی عجیب ہے موجودہ لوگوں کی نامرادی۔
۱۱ اکتوبر ۱۹۹۳ الرساله کا شمارہ مئی ۱۹۹۴ء "دین انسانیت" نمبر ہوگا۔ اس میں اسلام کی اخلاقی اور انسانی تعلیمات بیان کی گئی ہیں۔ الرسالہ میں اشاعت کے بعد ان شاء اللہ اس کو علیحدہ پمفلٹ کی صورت میں بھی "دین انسانیت" کے نام سے شائع کیا جائے گا۔ یہ مجموعہ مثبت انداز میں اس پروپیگنڈے کی تردید ہے کہ اسلام تشدد اور جنگ کا مذہب ہے۔
دفتر میں ماہنامہ الرسالہ کے پرانے متفرق شمارے (اردو، ہندی اور انگلش تینوں زبانوں میں) بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ہیں، جس کو افادہ عام کی غرض سے نہایت ارزاں قیمت پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک شمارہ کی قیمت ۲ روپے ہوگی۔ جب کہ ۱۰۰ یا اس سے زائد شمارے منگوانے کی صورت میں مزید ایک روپے کی تخفیف کردی جائے گی۔ یعنی ٫۱ روپے میں ۱۰۰ شمارے۔ ڈاک خرچ بھی کہتر کے ذمہ ہوگا۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ بطور خود اور مقامی اصحابِ خیر کو ترغیب دے کر اس پروگرام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔ تاکہ الرسالہ کے دعوتی اور تعمیری مشن سے وہ لوگ بھی آشنا ہو جائیں جو اب تک کسی وجہ سے آشنا نہ ہو سکے۔