قدیم و جدید کا فرق
Al-Risala, January 1996, pp. 18–20
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلم اسکالر نے لکھا ہے کہ آرتھوڈ اکسی کے فریم ورک میں رہ کر ہی اجتہاد کیا جانا چاہیے۔ بات بجائے خود غلط نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آرتھوڈ اکسی سے کیا مراد ہے۔ کیا اس سے مراد وہ چار فقہی اسکول ہیں جو چوتھی ہجری میں رائج ہوئے یا قرآن و سنت۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دعوی کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں کہ آرتھوڈاکسی کے فریم ورک سے مراد ائمہ اربعہ کا فریم ورک ہے۔ دعوی نہ خود ائمہ اربعہ نے کیا۔ اور نہ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت پایا جاتا ہے۔ آرتھوڈ اکسی کے فریم ورک سے لازمی طور پر قرآن وسنت کا فریم ورک مراد لینا ہوگا۔ اس وضاحت کی روشنی میں دونوں قسم کے اجتہاد کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ اجتہاد مطلق میں براہ راست قرآن و سنت پر غور کر کے حکم معلوم کیا جاتا ہے ، جب کہ اجتہاد مقید میں آدمی پابند ہوتا ہے کہ وہ مدون فقہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی رائے قائم کرے۔ موجودہ زمانہ میں اسلامی تفکیر کے معطل ہونے کا اصل سبب یہی تقسیم ہے۔ موجودہ زمانہ کا عالم شعوری یا غیر شعوری طور پر مدون فقہ کے ڈھانچہ سے باہر جاکر سوچ نہیں پاتا ، اس لیے وہ موجودہ زمانہ کے فکری مسائل میں گہری رہنمائی دینے سے بھی قاصر رہتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے ، فقہاء اربہ کا زمانہ دور جدید سے بہت پہلے کا زمانہ ہے۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ ان کی مدون کی ہوئی فقہ اپنے بعد کے زمانہ کا احاطہ کرنے والی نہ ہو۔ زمانہ کے لیے رہنمائی کتاب و سنت سے ملے گی جو کہ ابدی ہے ، نہ کہ مدون فقہ سے جو یقینی طور پر وقتی اور زمانی ہے۔
اس معاملہ کو مثال سے سمجھیے۔ موجودہ فقہ خلافت عباسی کے زمانہ میں بنی۔ مسلمانوں کو زمین پر کلی اقتدار حاصل تھا۔ چنانچہ یہ مدون فقہ یہ بتاتی ہے کہ مسلمان جب حکمران حیثیت میں ہوں تو ان کے لیے شرعی احکام کیا ہیں۔ اس میں ایسے ابواب کثرت سے پائے جاتے
ہیں، لیکن اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ مسلمان جب اپنے آپ کو غیر حکمران حیثیعت میں پائیں، اس وقت ان کے لیے شرعی حکم کیا ہے۔ تو اس کا واضح جواب آپ کو موجودہ مدون فقہ میں نہیں ملے گا۔ اسی طرح موجودہ فقہ جس وقت مدون کی گئی اس وقت شخصی حاکمیت کا زمانہ تھا۔ موجودہ قسم کی عوامی جمہوریت اس وقت قائم نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس فقہ میں خلیفہ اور سلطان سے متعلق احکام تو بہت ملیں گے لیکن اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ مسلمان کسی ملک میں تنہا حاکم نہ ہوں، البتہ وہ جمہوری نظام کے تحت دوسری قوموں کے ساتھ شریک حکومت ہوں، ایسی حالت میں ان کے لیے شرعی احکام کیا ہیں، تو اس کی بابت بھی موجودہ مدون فقہ میں آپ کو کوئی رہنمائی نہیں پائیں گے۔ یہ کمی صرف مدون فقہ کے اندر ہے۔ اگر آپ اس فقہ سے گزر کر قرآن و سنت تک پہنچ جائیں تو آپ پائیں گے کہ قرآن و سنت میں ہر صورت حال کے لیے کامل رہنمائی موجود ہے۔ اب آپ دیکھیں گے کہ قرآن اتقوااللّٰہ ما استطعتم کا اصول بتا رہا ہے۔ یعنی جتنا وسع اتنی ہی تکلیف (ذمہ داری) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی چار بڑے دوروں میں تقسیم تھی۔ مکی زندگی کے دو دور، اور مدنی زندگی کے دو دور۔ مکی زندگی کے ابتدائی چند سال خفیہ تبلیغ اور تنہا نماز پڑھنے کے سال ہیں۔ اس کے بعد مکی زندگی کا نصف آخر ہے جس میں علی الاعلان تبلیغ اور کھلم کھلا عبادت کا حکم دے دیا گیا۔
یہی معاملہ ہجرت کے بعد مدنی دور کا ہے۔ مدنی دور کے ابتدائی چند سال وہ ہیں جب کہ ایک صحیفہ یا چارٹر کے ذریعہ مسلمان اور یہود یا مسلم اور غیر مسلم کو ملا کر ایک مشترک نظام بنایا گیا (لليهود دينهم وللمسلمين دينهم) مگر مدنی دور کے نصف آخر میں حالات بدل گئے تو مدینہ میں وحدانی طرز کا نظام قائم کر دیا گیا۔
اس مثال کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ہماری مدون فقہ صرف ایک صورت میں ہم کورہنمائی دے رہی تھی ، اس صورت میں جب کہ ہم زمین پر حاکم کی حیثیت میں ہوں۔ مگر براہ راست قرآن و سنت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہر صورت حال کے لیے ہمارے پاس رہنمائی موجود ہے۔ مکہ کے نصف اول جیسے حالات ہوں تب بھی ہمارے لیے نمونہ ہے، اور مکہ کے نصف آخر جیسے حالات ہوں تب بھی۔ اسی طرح اگر ہم مدینہ کے نصف اول جیسے حالات میں ہوں تب بھی ہمارے
پاس رہ نمائی موجود ہے اور اگر ہم مدینہ کے نصف آخر جیسے حالات میں ہوں تب بھی۔ اجتہاد مقید کی صورت میں ہم گویا ایک بند گلی میں پھنس کررہ جاتے ہیں۔ مگر اجتہاد مطلق ہمارے لیے زندگی کے تمام دروازے کھول دیتا ہے، اس کے بعد کوئی دروازہ ہمارے لیے بند نہیں رہتا۔