Al-Risala · April 1996

Creating harmony amidst cultural conflict

Al-Risala, April 1996, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

صدر اسلامی مرکز کے نام اس کا دعوت نامہ آیا تھا۔ اس کے لئے انھوں نے ایک ورکنگ پیپر بھی تیار کر لیا تھا۔ مگر بعض وجوہ سے سفر ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ تیار شدہ پیپر کی ایک کاپی منتظمین کے پاس بھیج دی گئی۔

۲۹ نومبر ۱۹۹۵ کو گول ڈاک خانہ (نئی دہلی) شیڈولڈ کاسٹ کمیشن کا ایک آل انڈیا جلسہ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور انسانیت اور مساوات کے موضوع پر ایک مختصر تقریر کی۔

پانچ جنیہ کے نمائندہ مسٹر جاوید انور نے ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ملک میں پھیلے ہوئے اسلامی مدارس سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ مدارس ایک نہایت مفید سماجی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان مدارس کے تعلیمی نظام کو جدید اصطلاح میں اقدار پر مبنی تعلیم (ویلیو بیسڈ ایجوکیشن) کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے تعلیمی نظام کے ذریعہ ملک کو اچھے شہری تیار کر کے دے رہے ہیں۔ میڈیا اسٹار (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ایم احمد کاظمی نے ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر سے تھا کہ سیکولرزم کا مستقبل ہندوستان میں ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مشترک سماج میں سیکولرزم ہی واحد مفید اور قابل عمل نظام ہے۔ ایسے سماج میں سیکولر نظام کا قیام عقل کے مطابق بھی ہے اور اسلام کے مطابق بھی۔

جاپان (ٹوکیو یونیورسٹی) کے ریسرچ اسکالر مسٹرر متسوہیرو کونڈو (Mitsuhiro Kondo) نے ۷ نومبر ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے رول سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انھیں بتایا گیا کہ ہندوستانی مسلمان تقریباً ایک سو پارلیمنڑی حلقہ میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان میں صحت مند سیاسی شعور ہوا تو وہ ملک کے سیاسی نظام کی تشکیل میں نہایت مثبت رول ادا کر سکتے ہیں۔

ہندی روزنامہ دینک جاگرن کے نمائندہ مسٹ رام پرکاش ترپاٹھی نے ۸ دسمبر ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس کا موضوع ”نئے حالات میں ہندوستان کا بدلتا ہوا کلچر“ تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ تمام اصلاحات کے لئے صحیح نقطہ آغاز صرف ایک ہے، اور وہ تعلیم ہے۔ جب تک ملک میں تعلیم نہیں بڑھے گی کوئی بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں یونین آف کیتھولک ایشین نیوز کے نمائندہ مسٹر اکرا || آینٹوکرا (Akkn Antoakra) نے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۵ء کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے تازہ فیصلے سے تھا۔ جس میں الیکشن میں ہند توا اور ہند وازم کے استعمال کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ فیصلہ خالص تکنیکل گراؤنڈ پر دیا گیا ہے، وہ قانون اور دستور کی اسپرٹ کے مطابق نہیں۔

یکساں سول کوڈ (مطبوعه الرساله ستمبر ۱۹۹۵)، ہر حلقہ میں غیر معمولی طور پر پسند کیا گیا۔ بہت سے اخبار اور رسالے نے اس کو شائع کیا۔ پمفلٹ کی صورت میں اردو، انگریزی اور دوسری زبانوں میں شائع ہوا۔ کئی اخباروں نے اس موضوع پر انٹرویو شائع اس کا مدلل انداز خدا کے فضل سے اس حد تک مؤثر ثابت ہو کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے جو لوگ پہلے اس کی پر جوش حمایت کر رہے تھے، حتی کہ اس کو الیکشن کا ایشو بنانا چاہتے تھے، وہ سب سرد پڑ گئے ۔ اس سلسلہ میں کثرت سے لوگوں کے خطوط موصول اگلے صفحہ پر دو خط نقل کیا جا رہا ہے۔

Printed page