Al-Risala · May 1996

خدا اور انسان

Al-Risala, May 1996, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو مسعود انصاری مدینہ کے ایک مسلمان تھے۔ ایک روز وہ کسی بات پر اپنے غلام سے بگڑ گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے۔ عین اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ اے ابو مسعود ، جان لو کہ خدا تمھارے اوپر اس سے زیادہ قابور کھتا ہے جتنا تم اس غلام پر قابو رکھتے ہو(اعلم ابا مسعود لله اقدر عليك منك عليه) یہ سنتے ہی ابو مسعود کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر گیا۔ اور انہوں نے کہا کہ آج سے یہ غلام آزاد ہے۔

ابو مسعود پہلے معاملہ کو ایک انسان اور دوسرے انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس وقت انھیں نظر آتا تھا کہ وہ مالک ہیں اور دوسرا آدمی غلام۔ اپنی ذات انھیں اونچی سطح پر نظر آئی اور غلام کی ذات نیچی سطح پر۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ کے بعد انھیں نظر آیا کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ اپنا وجود بھی وہیں پڑا ہوا نظر آیا جہاں وہ اپنے غلام کو بٹھائے ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر خدا کے آگے عاجز نظر آئے۔ یہی وجہ تھی کہ اٹھا ہوا ڈنڈا ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ سماجی زندگی کی تمام خرابیاں اسی لئے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی معاملہ کو انسان کی نسبت سے دیکھتا ہے نہ کہ خدا کی نسبت سے۔ ایک آدمی کو دولت مل جائے تو وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں اپنے کو اونچا سمجھنے لگتا ہے جن کے پاس دولت نہیں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کو نظر آئے گا کہ وہ بھی اتنا ہی مفلس ہے جتنا کوئی دوسرا شخص کسی آدمی کو بڑا عہدہ مل جائے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں تمام لوگوں سے بڑا ہوں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو وہ پائے گا کہ وہ بھی اتناہی حقیر ہے جتنا کہ دوسرے لوگ۔ ایک آدمی تیز ہے اور وہ دوسرے آدمی کے خلاف زبان چلا رہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنے مقابلہ میں وہ اس کو کمتر سمجھ رہا ہے۔ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جائے کیوں کہ خدا کی نسبت سے وہ بھی اتنا ہی بے زور ہے جتنا کہ دوسرا آدمی۔

اسلام وہ انسان بناتا ہے جو معاملات کو ایک آدمی اور دوسرے آدمی کا معاملہ نہ سمجھے۔ معاملہ کو ایسا معاملہ سمجھے جو آخر کار خدا کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ چیز تمام برائیوں کی جڑ کاٹ دیتی ہے ۔ اس کے بعد کسی کے لیے گھمنڈ، حسد، جاہ پسندی اور بے انصافی کا موقع ہی باقی اس کے بعد انسان کا "ڈنڈا" اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑتا ہے ، بجائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے آدمی کے سر کے اوپر پڑے ۔

Printed page