اچھا مسلمان
Al-Risala, May 1996, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ذر الغفاری ایک مشہور صحابی ہیں۔ انھوں نے مدینہ کے پاس ربذہ میں ۳۲ ھ میں وفات ان سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے:
دخلت المسجد فاذا رسول اللہ صلی اللہ میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ علیہ وسلم جالس وحده فجلست اليه صلی اللہ علیہ وسلم تنہا بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں آپ کے یا رسول اللہ ای المومنین افضل ۔ پاس بیٹھ گیا۔ پھر میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول مومنوں قال احسنهم خلقا۔ قلت یا رسول اللہ میں سب سے زیادہ افضل کون ہے۔ آپ نے فرمایا فای المسلمين افضل قال من سلم کہ جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔ پھر میں نے پوچھا الناس من لسانه ويده ۔ کہ اے اللہ کے رسول، سب سے افضل مسلم کون ہے۔ یا رسول اللہ فانی الهجرة افضل قال من آپ نے فرمایا کہ جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں ۔ پھر میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، (تفسیر ابن کثیر ۵۸۶/۱) سب سے افضل ہجرت کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس شخص کی ہجرت جو برائیوں کو چھوڑ دے۔
اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جو انسان بنانا چاہتا ہے وہ کیسا انسان ہوتا ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بہترین اخلاق کا ثبوت دے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے اندر ذمہ داری کا احساس اس طرح جاگ اٹھے کہ وہ اپنی زبان سے کسی کا دل نہ دکھائے، اس کے ہاتھ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ وہ ہر اس عادت اور ہر اس روش کو چھوڑ دے جس میں برائی کا کوئی پہلو موجود ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو اچھا انسان ہو۔ اسلام در اصل انسان سازی کا اسلام کا مقصد انسان کی فکری تطہیر اور عملی اصلاح ہے، جس آدمی کے دل میں اسلام اتر جائے وہ اپنے آپ اچھا انسان بھی بن جائے گا۔
جس آدمی کی زندگی بھلائی سے خالی ہو اس کی زندگی یقیناً اسلام سے بھی خالی ہوگی۔