Al-Risala · January 1996

صلاحیتوں کا فقدان نہیں

Al-Risala, January 1996, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

میں سمجھتا ہوں کہ اجتہاد مطلق کو ”مجتہد مطلق“ کی پیدائش کے ساتھ جوڑنا، بجائے خود ایک غیر معقول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق تمام ترذہنیت سے ہے نہ کہ کسی مفروضہ مجتہد مطلق کی پیدائش سے۔ یعنی ملت کے اوپر اگر ذہنی جمود کی حالت طاری نہ ہو، بلکہ اس کے اندر آزادانہ فکر کی فضا موجود ہو تو اجتہاد مطلق کا عمل بھی لازمی طور پر جاری رہے گا۔ مجتہد مطلق تو ہمیشہ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ البتہ آزادانہ فکر کی فضا نہ ہونے کی وجہ سے ان کو وہ سازگار ماحول نہیں ملتا جس میں وہ اپنے حصہ کا عمل انجام دے سکیں۔

عالی دماغ انسانوں کی پیدائش کبھی بند نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ چنانچہ خود نظام فطرت کے تحت اسلام کی بعد کی تاریخ میں بار بار اعلیٰ صلاحیت کے اہل علم پیدا ہوتے رہے ہیں مثال کے طور پر الغزالی (۱۱۱۱ - ۱۰۵۸) ابن تیمیہ (۱۲۸ - ۱۳۲۸) الشاطبی (م ۱۳۸۸) جلال الدین سیوطی (۱۵۰۵ - ۱۴۴۵) شاہ ولی اللہ (۱۷۶۲ - ۱۷۰۳) انور شاہ کشمیری (۱۹۳۳- ۱۸۷۵) وغیرہ۔ یہ کہنا امت محمدی کی تصغیر ہے کہ ائمہ اربعہ کے بعد اس صلاحیت کے لوگ امت میں پیدا حقیقت یہ ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد بھی ایسے لوگ امت میں پیدا ہوتے رہے جو اپنے وسیع علمی مطالعہ، اپنی اعلیٰ ذہنی استعداد اور اپنی بے داغ اسلامیت کے ساتھ اس قابل تھے کہ وہ مجتہد مطلق کا کردار ادا کر سکیں۔

پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے دور میں بہت سے ایسے لوگ ابھرے جو مجتہدانہ زبان میں کلام کرتے تھے۔ مثلاً عائشہ صدیقہ، عبداللہ بن عمر، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، امام شعبی اور دور اول کے علماء ِفقہ، وغیرہ۔ مگر چوتھی صدی ہجری کے بعد اٹھنے والے علماء، اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں کے باوجود، مجتہدانہ انداز میں بولنے کی جرأت نہ کر سکے۔

اس کی وجہ شخصی استعداد کا فرق نہیں ہے بلکہ دور کا فرق ہے۔ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے دور میں مکمل آزادی رائے تھی۔ لوگ کھلے طور پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے۔ انسانوں کو اکابر اور اصاغر میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔ لوگ قائل کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ قول کو دیکھتے ہر صاحب دلیل کو حق تھا کہ وہ اپنی بات کو دلیل کے ساتھ بیان کرے۔ اس ماحول نے اجتہاد کا عمل جاری کر رکھا تھا۔ بعد کو جب یہ ماحول ختم ہو گیا تو اجتہاد کا عمل بھی باقی نہ رہا۔ پہلے اگر حق پرستی کی فضا تھی تو اب اکابر پرستی کی فضا پیدا ہو گئی۔ اب لوگ ایسی بات کہنے سے ڈرنے لگے جو ماضی کے بڑوں کی رائے سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ اس فضا میں متدرتی طور پر اجتہاد مطلق ( آزادانہ اظہار رائے) ختم ہو گیا۔ اب وہی بات کہی جانے لگی جو کسی نہ کسی طرح سلفہ اکابر کے اقوال سے مطابقت رکھتی ہو۔ یہی وہ ماحول ہے (نہ کہ کوئی شرعی حکم یا پیدائشی نقص) جس نے بعد کو اجتہاد مطلق کا دروازہ بند کر دیا اور صرف اجتہاد مقید کا دروازہ لوگوں کے لیے کھلا رکھا۔ میرے علم کے مطابق، بعد کی اسلامی تاریخ میں صرف ایک شخص ہے جس نے مجتہد مطلق کی زبان میں بولنے کی ہمت کی، اور وہ ابن خلدون ( ۱۴۰۶ - ۱۳۳۲ء) ہے۔ مگر ابن خلدون بھی یہ کام صرف جزئی طور پر کر سکا۔ اس نے عمرانیات اور فلسفہ تاریخ میں بلا شبہ مجتہدانہ کلام کیا۔ مگر خالص دینی معاملات میں اس نے بھی غیر مقید اجتہاد کرنے کی بہت کم جرات کی۔

Printed page