Al-Risala · January 1996

دور جدید کا آغاز

Al-Risala, January 1996, pp. 21–25

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید مسائل کا آغاز خاص طور پر اٹھارویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جس میں شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۶۲ - ۱۷۰۳ء) ظاہر ہوئے۔ شاہ ولی اللہ کو غالباً خواب میں اس کا اشارہ بھی دیا گیا کہ وہ ایک نئے دور کے سرے پر پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں ( رأیتنی فی المنام قائم الزمان) مگر شاہ ولی اللہ اپنے آپ کو رواجی سانچے سے باہر نہ نکال سکے، اس لیے وہ دور جدید کے اعتبار سے افکار اسلامی کی تبلیغ بھی نہ کر سکے۔

اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ نئے مسائل کا جواب فراہم کرنے کا کام صرف اجتہاد کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔ مگر شاہ ولی اللہ نے ایک طرف اپنے قائم الزماں ہونے کا اعلان کیا، دوسری

طرف اپنے اوپر اجتہاد کا دروازہ بند کر لیا، حالانکہ قائم الزمان کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اجتہاد کا عمل لازمی طور پر ضروری تھا۔

شاہ ولی اللہ صاحب نے عقد الجید فی احکام الا جتہاد والتقلید اور بعض دوسری کتابوں میں اجتہاد کے مسئلہ پر کلام کیا ہے ۔ اس معاملہ میں ان کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں ۔ اجتہاد مطلق، اور دوسرا اجتہاد مقید۔ وضاحت کی خاطر، اس کو ہم کلی اجتہاد اور جزئی اجتہاد بھی کہہ سکتے شاہ صاحب کے نزدیک اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیوں کہ امام شافعی (۸۲۰ - ۷۶۷ کے بعد اب کوئی مجتہد مطلق پیدا ہونے والا نہیں۔

شاہ صاحب کے نزدیک اب قیامت تک کے لیے اجتہاد کی صرف دوسری قسم (اجتہاد مقید) کی گنجائش باقی ہے ۔ اب جو شخص بھی اجتہاد کرنا چاہے گا اس کو لازمی طور پر ائمہ اربعہ کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی بنیاد پر استنباط کرنا ہو گا۔ وہ بلا قید اجتہاد نہیں کر سکتا۔ اگر چہ اجتہاد مطلق کا حق اب کسی کو نہیں، مگر اجتہاد مقید کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور وہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تقسیم ہے۔ اجتہاد کا انقطاع ہو گیا یا نہیں، یہ سوال اصلاً اجتہاد مطلق یا اجتہاد مستقل کے سلسلہ میں پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ جہاں تک اجتہاد مقید کا تعلق ہے، وہ تو ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ وہ ہر حال میں جاری رہے گا، خواہ اس کا دروازہ بند کیا جائے یا نہ بند کیا جائے۔ حتی کہ لفظی اعلان کے بغیر بھی وہ ہمیشہ خود اپنے زور پر جاری رہتا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ دشمنوں سے مقابلہ کے لیے قوت فراہم کرو (الانفال ۶۰) حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے ، سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے ( الا ان القوة الرمی الا ان القوة الرمی)

موجودہ زمانہ میں بم اور گن کی ایجاد ہوئی تو ساری دنیا کے مسلمان جنگ کے مواقع پر بم اور گن کا استعمال کرنے لگے۔ حالاں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ علماء نے " اجتہاد مقید " کہہ کر کے یہ اعلان کیا ہو کہ قدیم زمانہ میں قوت کا مطلب تیر تھا، مگر آج قوت کا مطلب گن اور بم ہے۔ اس قسم کے کسی اعلان کے بغیر ساری دنیا کے مسلمانوں نے خود بخود اس معاملہ میں مجتہدانہ روش کو اختیار کر لیا۔ اس لیے اجتہاد کی بحث میں اصلاً قابل غور معاملہ اجتہاد مطلق یا اجتہاد کلی کا ہے۔

مقید تو خود حالات کے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ وہ ایک فطری ضرورت ہے، اور اس کا انقطاع سرے سے ممکن ہی نہیں۔

تاہم اجتہاد کی یہ درجہ بندی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی اجتہاد کی مستقل اہمیت سے واقف نہ ہو سکے۔ بظاہر وہ سمجھتے تھے کہ وہی پچھلا روایتی دور اب بھی چلا جا رہا ہے جو امام شافعی ۷۶۷ کے زمانہ میں تھا۔ حالاں کہ زمانہ یکسر بدل چکا تھا۔ اور اب نئے حالات کے نتیجہ میں اجتہاد مطلق کی ضرورت پیش آ چکی تھی ۔

اجتہاد کا مقصد یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں شریعت کا از سر نو انطباق (re-application) کیا جائے ۔ پھر جب حالات وہ نہ رہیں جو فقہاء اربعہ کے زمانہ میں تھے تو اجتہاد مقید کس طرح کافی ہو سکتا اس کے بعد تو لازم ہو جاتا ہے کہ اسی طرح دوبارہ اجتہاد مطلق سے کام لیا جائے جس طرح فقہاء اربعہ نے اجتہاد مطلق سے کام لیا تھا۔ تاکہ اسلام کو دوبارہ وقت کے حالات پر منطبق کرنا ممکن ہو سکے۔ بنو عباس کے دور میں فقہاء اربعہ کو اجتہاد مطلق کا حق اسی لیے ملا تھا کہ اس وقت معاشرہ کے حالات بدل گئے تھے، جب کہ قرآن و حدیث کا ذخیرہ پوری طرح لوگوں کے پاس موجود تھا۔ حالات میں اس سے بھی زیادہ بڑی تبدیلی آ چکی ہے جو بنو عباس کے زمانہ میں آئی تھی۔ پھر اگر کم تر تبدیلی کی بنا پر قرآن و حدیث اور آراء صحابہ کے مقابلہ میں اجتہاد مطلق کیا جا سکتا تھا تو زیادہ بڑی تبدیلی کے بعد فقہاء کی آراء کے مقابلہ میں اجتہاد مطلق کیوں نہیں کیا جا سکتا۔

یہ کوئی بے جسارت نہیں، بلکہ زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے جس کا شعور خود ہمارے قدیم مجتہدین کو بھی تھا۔ مثلاً ابوداؤد کہتے ہیں کہ امام احمد ابن حنبل کو میں نے کہتے ہوئے سنا کہ تم میری تقلید نہ کرو، نہ ہی مالک اور ثوری اور اوزاعی کی تقلید کرو۔ بلکہ تم وہاں سے لو جہاں سے انہوں نے لیا ہے یعنی قرآن وسنت سے (لا تُقَلِّدُنِی ، ولا تُقَلِّد مالكاً ولا الثوری ولا الأوزاعی، وخذ من حيث أخذوا) اعلام الموقعین ۳۰۴/۲-۱۳۹ شاہ ولی اللہ کے مذکورہ موقف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر نہ وہ مقامی تبدیلیوں سے پوری طرح باخبر تھے اور نہ عالمی تبدیلیوں سے۔ حتی کہ ان کی کتابوں سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان علمی ترقیوں سے بخوبی طور پر واقف تھے جو ان کی پیدائش سے پہلے خود مسلم اسپین میں ہو چکی تھیں ۔

مسلم اسپین کی ترقیاں اس بات کی علامت تھیں کہ اب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جب کہ ’’سیف‘‘ کے مقابلے میں ’’علم‘‘ قوت کا نشان ہوگا۔ یہ ترقیاتی سفر پندرھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے دائرہ سے نکل کر لاتینی یورپ کے دائرہ میں پہنچ گیا۔ مگر بظاہر شاہ ولی اللہ کے لیے یہ سب کچھ لامعلوم تھا۔

یورپ کے مختلف ملکوں (اٹلی، فرانس، انگلینڈ، وغیرہ) میں مذکورہ علمی ترقی اضافے کے ساتھ یہاں تک کہ مختلف یورپی قوموں میں وہ باہمی رقابت پیش آئی جس کو نوآبادیاتی کش مکش (colonial struggle) کہا جاتا ہے۔ آخرکار ان قوموں کے درمیان مشہور سات سالہ جنگ (Seven Years’ War) پیش آئی۔ یہ جنگ ۱۷۵۶ء سے لے کر۱۷۶۳ تک جاری رہی۔ معاہدہ پیرس ہوا جس نے اس نوآبادیاتی جنگ کا آخری فیصلہ برطانیہ کے حق میں کیا۔ برطانیہ نے شمالی امریکہ اور انڈیا پر فتح حاصل کرلی۔ اس کے بعد برطانیہ کو سمندر پار کی نوآبادیات میں غیرمتنازع قائد کی حیثیت حاصل ہوگئی :

By the Treaty of Paris (February 10, 1763), which settled the colonial aspects of the war, Britain won North America and India and became the undisputed leader in overseas colonization. (16/580)

پندرھویں صدی سے لے کراٹھارویں صدی تک کے دور کو کھوج کا دور (age of exploration) کہا جاتا ہے۔ ان صدیوں میں تاجر، مشنری، سیاح، فن کار، بحری ماہرین اور سائنسی علماء مسلسل اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے تھے۔ اس کا نتیجہ یورپی قوموں کی وہ عالمی توسیع تھی جس کو نوآبادیاتی نظام کہا جاتا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس حد تک مؤثر تھیں کہ انھوں نے سمندروں کو پار کرکے ۱۶۱۱ء میں مسولی پٹم پر قبضہ کر لیا۔ ۳۹ ۱۶ء میں مدراس اور ۱۶۶۱ء میں بمبئی ان کے قبضے میں آگیا،

اس طرح شاہ ولی اللہ کی پیدائش سے بھی پہلے انڈیا کے تقریباً تمام سو احل پر یورپی قومیں قابض ہوچکی تھیں۔ مغل سلطنت سمٹ کر محدود بری دائرہ میں باقی رہ گئی تھی۔ کے وسیع تر دائرہ میں نوآبادیاتی طاقتوں کا پرچم لہرا رہا تھا۔ یہ سب کچھ جدید معلومات، جدید فنی ترقیوں اور جدید وسائل کے ذریعہ وجود میں آیا۔

مگر شاہ ولی اللہ دہلوی کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان تاریخی تبدیلیوں سے باخبر تھے ۔ شاہ صاحب کی مشہور ترین کتاب حجۃ اللہ البالغہ پہلی بار صرف انیسویں صدی (۱۸۷۰) میں چھپ سکی ۔ جب کہ یورپ میں پرنٹنگ پریس کا استعمال پندرھویں صدی عیسوی میں شروع ہو چکا تھا یہ ایک علامتی فرق ہے جو بتاتا ہے کہ شاہ صاحب اور ان کے اصحاب کا فکر کس طرح عالمی فکر سے کئی سو سال پیچھے تھا۔

Printed page